صحيح البخاري
كتاب الصلح— کتاب: صلح کے مسائل کا بیان
بَابُ كَيْفَ يُكْتَبُ هَذَا مَا صَالَحَ فُلاَنُ بْنُ فُلاَنٍ. وَفُلاَنُ بْنُ فُلاَنٍ وَإِنْ لَمْ يَنْسُبْهُ إِلَى قَبِيلَتِهِ، أَوْ نَسَبِهِ: باب: صلح نامہ میں لکھنا کافی ہے یہ وہ صلح نامہ ہے جس پر فلاں ولد فلاں اور فلاں ولد فلاں نے صلح کی اور خاندان اور نسب نامہ لکھنا ضروری نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " لَمَّا صَالَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ الْحُدَيْبِيَةِ كَتَبَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ بَيْنَهُمْ كِتَابًا ، فَكَتَبَ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ ، فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ : لَا تَكْتُبْ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ ، لَوْ كُنْتَ رَسُولًا لَمْ نُقَاتِلْكَ ، فَقَالَ لِعَلِيٍّ : امْحُهُ ، فَقَالَ عَلِيٌّ : مَا أَنَا بِالَّذِي أَمْحَاهُ ، فَمَحَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ ، وَصَالَحَهُمْ عَلَى أَنْ يَدْخُلَ هُوَ وَأَصْحَابُهُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ، وَلَا يَدْخُلُوهَا إِلَّا بِجُلُبَّانِ السِّلَاحِ ، فَسَأَلُوهُ مَا جُلُبَّانُ السِّلَاحِ ، فَقَالَ : الْقِرَابُ بِمَا فِيهِ " .´ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے غندر نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے ابواسحاق نے بیان کیا ، انہوں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا ، آپ نے بیان کیا کہ` جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کی صلح ( قریش سے ) کی تو اس کی دستاویز علی رضی اللہ عنہ نے لکھی تھی ۔ انہوں نے اس میں لکھا محمد اللہ کے رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی طرف سے ۔ مشرکین نے اس پر اعتراض کیا کہ لفظ محمد کے ساتھ رسول اللہ نہ لکھو ، اگر آپ رسول اللہ ہوتے تو ہم آپ سے لڑتے ہی کیوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا رسول اللہ کا لفظ مٹا دو ، علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے کہا کہ میں تو اسے نہیں مٹا سکتا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے ہاتھ سے وہ لفظ مٹا دیا اور مشرکین کے ساتھ اس شرط پر صلح کی کہ آپ اپنے اصحاب کے ساتھ ( آئندہ سال ) تین دن کے لیے مکہ آئیں اور ہتھیار میان میں رکھ کر داخل ہوں ، شاگردوں نے پوچھا کہ جلبان السلاح ( جس کا یہاں ذکر ہے ) کیا چیز ہوتی ہے ؟ تو انہوں نے بتایا کہ میان اور جو چیز اس کے اندر ہوتی ہے ( اس کا نام جلبان ہے ) ۔
تشریح، فوائد و مسائل
اسی سے ترجمۃ الباب ثابت ہوا۔
اس سے یہ ظاہر ہوا کہ کسی موقع پر اگر مخالفین کوئی نامناسب مطالبہ کریں جو ضد کی حد تک پہنچ جائے تو مجبوراً اسے تسلیم کرنا پڑے گا۔
آج جب کہ اہل اسلام اقلیت میں ہیں اور معاندین اسلام کی اکثریت ہے تو مجبوراً مسلمانوں کے سامنے ایسے بہت سے مسائل ہیں جن کو بادل ناخواستہ تسلیم کرنے ہی میں سلامتی ہے۔
ایسے امور کے لیے امید ہے کہ عنداللہ مؤاخذہ نہ ہوگا۔
آنحضرت ﷺ مستقبل میں اسلام کی فتح مبین دیکھ رہے تھے۔
اسی لیے حدیبیہ کے موقع پر مصلحتاً آپ نے مشرکین کی کئی ایک نامناسب باتوں کو تسلیم کرلیا اور آئندہ خود مشرکین مکہ ہی کو ان کی غلط شرائط کا خمیازہ بھگتنا پڑا۔
سچ ہے الحق یعلوولا یعلیٰ علیه
”. . . سیدنا برا بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: «أنت مني، وأنا منك» آپ مجھ سے اور میں آپ سے ہوں . . .“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/بَابُ عُمْرَةُ الْقَضَاءِ:: 4251]
↰ اس حدیث سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی منقبت و فضیلت ثابت ہوتی ہے، مگر اس فضیلت میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ منفرد نہیں ہیں، بلکہ کئی دوسرے صحابہ کرام بھی اس میں شریک ہیں، جیسا کہ: ➊ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «إن الأشعريين إذا أرملوا فى الغزو، أو قل طعام عيالهم بالمدينة؛ جمعوا ما كان عندهم فى ثوب واحد، ثم اقتسموه بينهم فى إنائ واحد بالسوية، فهم مني، وأنا منهم .»
’’جب قبیلہ اشعر کے لوگوں کا جہاد کے موقع پر توشہ کم ہو جاتا ہے، یا مدینہ میں قیام کے دوران ان کے بال بچوں کے لئے کھانے کی کمی ہو جاتی ہے، تو جو بھی توشہ ان کے پاس جمع ہوتا ہے، وہ اس کو ایک کپڑے میں جمع کر لیتے ہیں، پھر آپس میں ایک برتن سے برابر تقسیم کر لیتے ہیں۔ چنانچہ وہ مجھ سے اور میں ان سے ہوں۔“ [صحيح البخاري: 2486، صحيح مسلم: 2500]
➋ سیدنا جلییب رضی اللہ عنہ جو ایک غزوہ میں جرأت و بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے سات کفار کو واصل جہنم کرنے کے بعد شہید ہو گئے تھے، ان کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «هٰذا مني، وأنا منه، هٰذا مني، وأنا منه .»
’’یہ مجھ سے اور میں ان سے ہوں۔ یہ مجھ سے اور میں ان سے ہوں۔“ [صحيح مسلم: 2472]
➌ سیدنا یعلیٰ بن مرہ ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «حسين مني، وأنا منه .»
’’حسین (رضی اللہ عنہ) مجھ سے اور میں ان سے ہوں۔“ [مسند الإمام أحمد:172/4، الأدب المفرد للبخاري:364، سنن الترمذي: 3775، وقال: حسن، سنن ابن ماجة:144، المعجم الكبير للطبراني: 274/22، ح: 702، المستدرك للحاكم: 194/3،ح: 4820، وسنده حسن]
↰اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ [6971] نے ’’صحیح“ اور امام حاکم رحمہ اللہ نے ’’صحیح الاسناد“ کہا ہے۔
حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے بھی اسے ’’صحیح“ قرار دیا ہے۔
❀ ایک روایت میں «حسين مني، وأنا من حسين» کے الفاظ بھی ہیں۔
الحاصل: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کسی کو اپنی طرف اور خود کو کسی کی طرف منسوب کرنا بڑی فضیلت کی بات ہے البتہ یہ فضیلت سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے علاوہ کئی اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھی حاصل۔ اس بنا پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بلا فصل قرار دینے کی کوشش کرنا سود مند نہیں۔
روایت میں عمرہ قضا کا ذکر ہے باب سے یہی مطابقت ہے۔
امام ابو الولید باجی نے اس حدیث کا مطلب یہی بیان کیا ہے کہ گو آپ لکھنا نہیں جانتے تھے مگر آپ نے معجزہ کے طور پر اس وقت لکھ دیا۔
قسطلانی نے کہا کہ حدیث کا ترجمہ یوں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ان کے ہاتھ سے کاغذ لے لیا اور آپ اچھی طرح لکھنا نہیں جانتے تھے۔
آپ نے حضرت علی ؓ سے فرمایا رسول اللہ کا لفظ کہاں ہے انہوں نے بتلادیا۔
آپ نے اپنے ہاتھ سے اسے میٹ دیا پھر وہ کاغذ حضرت علی ؓ کو دے دیا انہوں نے پھر پورا صلح نامہ لکھا اس تقریر پر کوئی اشکال باقی نہ رہے گا۔
حافظ نے کہا اس حدیث سے حضرت جعفر ؓ کی بڑی فضیلت نکلی۔
خصائل اور سیرت میں آپ رسول اللہ ﷺ سے مشابہت تامہ رکھتے تھے۔
یہ لڑکی حضرت جعفر ؓ کی زندگی تک ان کے پاس رہی جب وہ شہید ہوئے تو ان کی وصیت کے مطابق حضرت علی ؓ کے پاس رہی اور ان ہی کے پاس جوان ہوئی۔
اس وقت حضرت علی ؓ نے آنحضرت ﷺ سے نکاح کے لیے کہا تو آپ نے یہ فرمایا جو روایت میں موجود ہے۔
1۔
عمرۃ القضا کے کئی ایک نام ہیں جن میں سے عمرۃالقضیہ عمرۃ الصلح اور عمرۃ القصاص زیادہ مشہور ہیں۔
2۔
امام بخاری ؒ نے عمرۃ القضا کو کتاب المغازی میں اس لیے ذکر کیا ہے کہ کفار قریش نے جب مسلمانوں کو عمرہ کرنے سے روکا تومسلمانوں اور کافروں کے درمیان جھگڑا ہوا تھا پھر انھوں نے اپنے احرام کھول دیے تھے۔
دوسرے سال جب سات ہجری میں مسلمان طے شدہ فیصلے کے مطابق عمرے کے لیے گئے تو اس وقت بھی جھگڑا ہوا تھا اگرچہ تلواروں کا استعمال نہیں ہوااور غزوے میں تلواروں کا استعمال ضروری بھی نہیں۔
3۔
واضح رہے کہ حضرت حمزہ ؓ کی جس بیٹی کے متعلق حضرت جعفر، حضرت زید ؓ اور حضرت علی ؓ میں جھگڑا ہوا اس کا نام عمارہ تھا اس کی والدہ سلمیٰ بنت عمیس ؓ ہے جو حضرت اسماء بنت عمیس ؓ کی بہن ہیں۔
حضرت اسماء ؓ اس وقت حضرت جعفر ؓ کے نکاح میں تھیں، ان حضرت کا بنت حمزہ ؓ کے متعلق جھگڑا مکہ مکرمہ نہیں ہوا جیسا کہ روایت کے ظاہر سے معلوم ہوتا ہے بلکہ مدینہ طیبہ پہنچ کر ہوا تھا۔
اس کی وضاحت خود حضرت علی ؓ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہیں کہ جب ہم مدینہ طیبہ آئے تو ہم میں سے ہر ایک نے ان کی پرورش اور کفالت کا دعوی کیا۔
(مسند أحمد: 98/1)
چونکہ عمارہ بنت حمزہ ؓ کی خالہ حضرت اسماء بنت عمیس ؓ حضرت جعفر ؓ کے نکاح میں تھیں، اس لیے رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ فرمایا: ’’عمارہ اپنی خالہ کے پاس رہے گی۔
‘‘حافظ ابن حجر ؒ نے وضاحت کی ہے کہ حضرت عمارہ ؓ اپنی خالہ کے پاس رہیں جب جنگ موتہ میں حضرت جعفر شہید ہوئے تو انھوں نے وصیت کی تھی کہ میرے بعد عمارہ حضرت علی ؓ کے پاس رہے گی۔
ان کے پاس رہتے ہوئے جب بالغ ہوئیں تو حضرت علی ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کی کہ آپ اس سے نکاح کر لیں تو رسول اللہ ﷺ نے وضاحت فرمائی کہ عمارہ میری رضاعی بھتیجی ہے کیونکہ اس کے باپ کو اور مجھے حضرت ثوبیہ نے دودھ پلایا تھا۔
رضاعت کے مسائل آئندہ بیان ہوں گے۔
(فتح الباري: 636/7)
بلکہ آنحضرت ﷺ کی محبت اور خیرخواہی اور جوش ایمان کی وجہ سے تھا۔
اس لیے کوئی گناہ حضرت علی ؓ پر نہ ہوا۔
یہاں سے شیعہ حضرات کو سبق لینا چاہئے کہ جیسے حضرت علی ؓ نے محض محبت کی وجہ سے آنحضرت ﷺ کے فرمانے کے خلاف کیا، ویسا ہی حضرت عمر ؓ نے بھی قصہ قرطاس میں آنحضرت ﷺ کی تکلیف کے خیال سے لکھے جانے میں مخالفت کی۔
دونوں کی نیت بخیر تھی۔
کار پاکاں از قیاس خود مگیر ایک جگہ حسن ظن کرنا، دوسری جگہ بدظنی صریح انصاف سے بعید ہے۔
1۔
اس معاہدے میں یہ بھی تحریر تھا کہ اہل مکہ میں سے کوئی بھی آپ کے ساتھ جانے کو تیار ہوا تو آپ اسے مکہ سے باہر نہیں لے جا سکیں گے اور اگر آپ کے ساتھیوں میں سے کوئی شخص مکہ میں رہنا چاہے گا تو آپ اسے نہیں روکیں گے۔
(صحیح البخاري، الصلح، حدیث: 2699)
بہرحال رسول اللہ ﷺ نے اس صلح نامے کی پاسداری کی۔
2۔
اس حدیث سے تین دن یا اس سے کم و بیش معین مدت کے لیے صلح کا جواز ثابت ہوا۔
3۔
حضرت علی ؓ کے انکار سے بظاہر رسول اللہ ﷺ کی مخالفت معلوم ہوتی ہے لیکن حضرت علی ؓ نے قرآئن سے معلوم کر لیا تھا کہ آپ کا یہ امر وجوب کے لیے نہیں۔
حضرت علی ؓ نے ایسا صرف جوش ایمان اور آپ سے محبت کی بنا پر کیا تھا جیسا کہ حضرت عمر ؓ نے حدیث قرطاس سے ایسا سمجھ لیا تھا کہ آپ کا امر وجوب کے لیے نہیں بلکہ وہاں بھی آپ سے خیرخواہی پیش نظر تھی۔
لیکن حضرت عمر ؓ کے معاملے میں بہت شور کیا جاتا ہے جبکہ حضرت علی ؓ کے سلسلے میں نرم گوشہ اختیار کیا جاتا ہے۔
حالانکہ دونوں حضرات کی نیت بخیر تھی۔
اس لیے ایک مقام پر حسن ظن سے کام لینا اور دوسری جگہ بد ظنی کرنا نا انصافی ہے۔
1۔
ان دونوں روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس کنویں کے پانی کا ایک ڈول منگوایا، اس میں کلی کی اور لعاب دہن ڈالا اور دعا بھی فرمائی، پھر اسے کنویں میں ڈال دیا۔
موسیٰ بن عقبہ کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کنویں کی گہرائی میں ایک تیرگاڑا توپانی جوش مارنے لگا بہرحال آپ نے اس وقت یہ سب کام کیے تھے۔
(دلائل النبوة للبیهقي: 167/4 حدیث: 1448)
2۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اے نبی کریم ﷺ! ہم نےآپ کو واضح فتح عطا کردی۔
‘‘ (الفتح 1: 48)
اس فتح سے کیا مراد ہے، صلح حدیبیہ یا فتح مکہ؟ ہمارے رجحان کے مطابق اس سے مراد صلح حدیبیہ ہے کیونکہ یہ فتح مکہ کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔
صلح کی وجہ سے لوگوں کو امن نصیب ہوا اور مشرکین سے جنگ وقتال ختم ہوگیا۔
رسول اللہ ﷺ نے مشرکین سے فارغ ہوکر دیار عرب میں بے شمار فتوحات حاصل کیں اور لوگ جوقدرجوق اسلام قبول کرنے لگے۔
جو کوئی مسلمان ہونا چاہتا وہ بلا روک ٹوک مدینہ طیبہ کا رخ کرتا اور اسلام قبول کرتا، چنانچہ اس دوران میں حضرت خالد بن ولید ؓ اور عمرو بن عاص ؓ جیسے عظیم جرنیل مسلمان ہوکر مدینے پہنچے۔
صلح حدیبیہ کے وقت مسلمانوں کی تعداد چودہ سو تھی۔
صلح کی برکات سے فتح مکہ تک یہ تعداد دس ہزار تک پہنچ گئی۔
(فتح الباري: 550/7)
اس مؤقف کی تائید ایک روایت سے بھی ہوتی ہے۔
حضرت مجمع بن جاریہ ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ صلح حدیبیہ سے واپسی کے موقع پر رسول اللہ ﷺ کراع الغمیم کے مقام پر کھڑے ہوئے، لوگوں کو جمع کیا اور یہ آیت پڑھی: ’’ہم نے آپ کو واضح فتح عطا کردی۔
‘‘ ایک آدمی نے عرض کی: اللہ کے رسول ﷺ! کیا یہ فتح ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یہی واضح فتح ہے۔
‘‘ البتہ ﴿إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ﴾ سے مراد فتح مکہ ہے۔
(مسند أحمد: 420/3)
واللہ اعلم۔
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ والوں سے صلح کی تو آپ نے ان سے اس شرط پر مصالحت کی کہ مسلمان مکہ میں جلبان السلاح کے ساتھ ہی داخل ہوں گے ۱؎ تو میں نے ان سے پوچھا: «جلبان السلاح» کیا ہے؟ انہوں نے کہا: «جلبان السلاح» میان کا نام ہے اس چیز سمیت جو اس میں ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1832]