حدیث نمبر: 2685
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَن عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ ، كَيْفَ تَسْأَلُونَ أَهْلَ الْكِتَابِ ، وَكِتَابُكُمُ الَّذِي أُنْزِلَ عَلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْدَثُ الْأَخْبَارِ بِاللَّهِ تَقْرَءُونَهُ لَمْ يُشَبْ ، وَقَدْ حَدَّثَكُمُ اللَّهُ أَنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ بَدَّلُوا مَا كَتَبَ اللَّهُ ، وَغَيَّرُوا بِأَيْدِيهِمُ الْكِتَابَ ، فَقَالُوا : هُوَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ ، لِيَشْتَرُوا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا ، أَفَلَا يَنْهَاكُمْ مَا جَاءَكُمْ مِنَ الْعِلْمِ عَنْ مُسَاءَلَتِهِمْ ، وَلَا وَاللَّهِ مَا رَأَيْنَا مِنْهُمْ رَجُلًا قَطُّ يَسْأَلُكُمْ عَنِ الَّذِي أُنْزِلَ عَلَيْكُمْ " .
مولانا داود راز

´ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ، یونس سے ، ان سے ابن شہاب نے ، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے کہ` ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا ، اے مسلمانو ! اہل کتاب سے کیوں سوالات کرتے ہو ۔ حالانکہ تمہاری کتاب جو تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی ہے ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے سب سے بعد میں نازل ہوئی ہے ۔ تم اسے پڑھتے ہو اور اس میں کسی قسم کی آمیزش بھی نہیں ہوئی ہے ۔ اللہ تعالیٰ تو تمہیں پہلے ہی بتا چکا ہے کہ اہل کتاب نے اس کتاب کو بدل دیا ، جو اللہ تعالیٰ نے انہیں دی تھی اور خود ہی اس میں تغیر کر دیا اور پھر کہنے لگے یہ کتاب اللہ کی طرف سے ہے ۔ ان کا مقصد اس سے صرف یہ تھا کہ اس طرح تھوڑی پونجی ( دنیا کی ) حاصل کر سکیں پس کیا جو علم ( قرآن ) تمہارے پاس آیا ہے وہ تم کو ان ( اہل کتاب سے پوچھنے کو نہیں روکتا ۔ اللہ کی قسم ! ہم نے ان کے کسی آدمی کو کبھی نہیں دیکھا کہ وہ ان آیات کے متعلق تم سے پوچھتا ہو جو تم پر ( تمہارے نبی کے ذریعہ ) نازل کی گئی ہیں ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الشهادات / حدیث: 2685
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 7363

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
2685. حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: اے جماعت اہل اسلام! تم اہل کتاب سے کیونکر سوال کرتے ہو؟ حالانکہ تمہاری کتاب جو اللہ نے اپنے نبی کریم ﷺ پر نازل کی ہے وہ تو اللہ کی طرف سے تازہ خبریں دینے والی ہے جسے تم خود پڑھتے ہو۔ اس میں کسی قسم کی ملاوٹ نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے تمھیں بتایا ہے کہ اہل کتاب نے اللہ کی کتاب کو بدل ڈالا ہے اور اس میں اپنے ہاتھوں سے تبدیلی کرکے پھر کہہ دیا: ’’یہ اللہ کی طرف سے ہے تاکہ اس کے ذریعے سے وہ معمولی سا مفادحاصل کرلیں۔‘‘ کیا وہ علم جو تمھیں اللہ کی طرف سے ملا ہے اس نے تمھیں ان سے سوال کرنے سے منع نہیں کیا؟ اللہ کی قسم!ہم نے ان کے کسی آدمی کو نہیں دیکھا کہ وہ ان آیات کے متعلق تم سے سوال کرتا ہو جو تم پر نازل کی گئی ہیں۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:2685]
حدیث حاشیہ: اسلام نے ثقہ عادل گواہ کے لیے جو شرائط رکھی ہیں۔
ایک غیرمسلم کا ان کے معیار پر اترنا ناممکن ہے۔
اس لیے علی العموم اس کی گواہی قابل قبول نہیں۔
حضرت امام بخاری ؒ اسی مسلک کے دلائل بیان فرمارہے ہیں۔
یہ امر دیگر ہے کہ امام وقت حاکم مجاز کسی غیرمسلم کی گواہی اس بنا پر قبول کرے کہ بعض دوسرے مستند قرائن سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہو۔
جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے خود چار یہودیوں کی گواہی پر ایک یہودی مرد اور یہودی عورت کو زنا کے جرم میں سنگساری کا حکم دیا تھا۔
بہرحال قاعدہ کلیہ رہی ہے جو حضرت امام نے بیان فرمایا ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2685 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
2685. حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: اے جماعت اہل اسلام! تم اہل کتاب سے کیونکر سوال کرتے ہو؟ حالانکہ تمہاری کتاب جو اللہ نے اپنے نبی کریم ﷺ پر نازل کی ہے وہ تو اللہ کی طرف سے تازہ خبریں دینے والی ہے جسے تم خود پڑھتے ہو۔ اس میں کسی قسم کی ملاوٹ نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے تمھیں بتایا ہے کہ اہل کتاب نے اللہ کی کتاب کو بدل ڈالا ہے اور اس میں اپنے ہاتھوں سے تبدیلی کرکے پھر کہہ دیا: ’’یہ اللہ کی طرف سے ہے تاکہ اس کے ذریعے سے وہ معمولی سا مفادحاصل کرلیں۔‘‘ کیا وہ علم جو تمھیں اللہ کی طرف سے ملا ہے اس نے تمھیں ان سے سوال کرنے سے منع نہیں کیا؟ اللہ کی قسم!ہم نے ان کے کسی آدمی کو نہیں دیکھا کہ وہ ان آیات کے متعلق تم سے سوال کرتا ہو جو تم پر نازل کی گئی ہیں۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:2685]
حدیث حاشیہ:
(1)
اسلام نے ثقہ عادل گواہ کے لیے جو شرائط رکھی ہیں، ایک غیر مسلم کا ان کے معیار کے مطابق ہونا ممکن نہیں، اس لیے کسی کافر و مشرک کی گواہی قبول نہیں ہے۔
امام بخاری ؒ نے اس موقف کو ثابت کرنے کے لیے بڑے ٹھوس دلائل مہیا کیے ہیں۔
یہ الگ بات ہے کہ کوئی حاکم وقت کسی غیر مسلم کی گواہی اس بنا پر قبول کرے کہ دوسرے قابل اعتماد ذرائع سے اس کی تصدیق ہوتی تھی جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے خود چار یہودیوں کی گواہی پر یہودی مرد عورت کو زنا کے جرم میں رجم کیا تھا، البتہ ضابطہ وہی ہے جو امام بخاری ؒ نے بیان کیا ہے کہ کفار و مشرکین کی گواہی ناقابل قبول ہے۔
(2)
مذکورہ حدیث میں اہل کتاب سے سوال کرنے کی ممانعت ہے۔
چونکہ انہوں نے اللہ کی بھیجی ہوئی کتابوں کو بدلا، اس لیے ان کی خبریں قبول نہیں۔
جس کی خبر قبول نہیں تو اس سے گواہی کیسے لی جا سکتی ہے، اس لیے اہل کتاب کی گواہی غیر مقبول ہے۔
(فتح الباري: 359/5)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2685 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 7363 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
7363. سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے،انہوں نے فرمایا: تم اہل کتاب سے کسی چیز کے متعلق کیوں پوچھتے ہو، حالانکہ کتاب جسے تم پڑھتے ہو وہ رسول اللہ ﷺ پر تازہ تازہ ہوئی ہے؟ نیز یہ خالص ہے اس میں کوئی ملاوٹ نہیں کی گئی اور اللہ تعالٰی نے تمہیں بتایا ہے کہ اہل کتاب نے کتاب الہیٰ کو بدل دیا ہے اور اس میں تغیر کر دیا ہے۔ انہوں نے ازخود اپنے ہاتھوں سے لکھا اور کہہ دیا: یہ اللہ کی طرف سے ہے تاکہ اس کے ذریعے سے دنیا کا تھوڑا سا مال کمالیں۔ تمہارے پاس کو علم آیا ہے وہ تمہیں ان سے پوچھنے سے منع نہیں کرتا؟ اللہ کی قسم! میں نے نہیں دیکھا کہ اہل کتاب میں سے کوئی تم سے اس کے متعلق سوال کرتا ہو جوتم پر نازل کیا گیا ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:7363]
حدیث حاشیہ: تمہارے پاس اللہ کا سچا کلام قرآن مجید موجود ہے اس کی شرح حدیث تمہارے پاس ہے پھر بڑے شرم کی بات ہے کہ تم ان سے پوچھو بہت سے علماء نے اس حدیث کے رو سے اور انجیل اور اگلی آسمانی کتابوں کا مطالعہ کرنا بھی مکروہ رکھا ہے کیونکہ اس میں تحریف اور تبدیلی۔
ایسا نہ ہو۔
ضعیف الایمان لوگوں کا اعتقاد بگڑ جائے لیکن جس شخص کو یہ ڈر نہ ہو اور وہ اہل کتاب سے مباحثہ کرنا چاہے اور اسلام پر جو اعتراضات وہ کرتے ہیں ان کا جواب دیتا ہو تو اس کے لیے مکروہ نہیں ہے بلکہ بلکہ اجر ہے۔
إنما الأعمالُ بِالنیاتِ۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7363 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 7363 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
7363. سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے،انہوں نے فرمایا: تم اہل کتاب سے کسی چیز کے متعلق کیوں پوچھتے ہو، حالانکہ کتاب جسے تم پڑھتے ہو وہ رسول اللہ ﷺ پر تازہ تازہ ہوئی ہے؟ نیز یہ خالص ہے اس میں کوئی ملاوٹ نہیں کی گئی اور اللہ تعالٰی نے تمہیں بتایا ہے کہ اہل کتاب نے کتاب الہیٰ کو بدل دیا ہے اور اس میں تغیر کر دیا ہے۔ انہوں نے ازخود اپنے ہاتھوں سے لکھا اور کہہ دیا: یہ اللہ کی طرف سے ہے تاکہ اس کے ذریعے سے دنیا کا تھوڑا سا مال کمالیں۔ تمہارے پاس کو علم آیا ہے وہ تمہیں ان سے پوچھنے سے منع نہیں کرتا؟ اللہ کی قسم! میں نے نہیں دیکھا کہ اہل کتاب میں سے کوئی تم سے اس کے متعلق سوال کرتا ہو جوتم پر نازل کیا گیا ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:7363]
حدیث حاشیہ:

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مقصد یہ ہے کہ اہل کتاب تو تمھارے دین کے بارے میں تم سے نہیں پوچھتے پھر تمھیں کیا مصیبت پڑی ہے کہ تم ان سے پوچھتے پھرتے ہو۔
تمھارے پاس اللہ تعالیٰ کا سچا کلام قرآن کی شکل میں موجود ہے۔
پھر اس کی شرح حدیث کی صورت میں تمھارے پاس ہے پھر بڑی شرم کی بات ہے کہ تم ان سے پوچھو۔

بہت سے علماء نے اس حدیث کے پیش نظر تورات وانجیل اور دیگر مذہبی کتابوں کا مطالعہ کرنا مکروہ قرار دیا ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ کمزور ایمان والے لوگوں کا عقیدہ مزید خراب ہو جائے کیونکہ ان میں تحریف اور تبدیلی ہوئی ہے لیکن جس شخص کو یہ خطرہ نہ ہو اور اہل کتاب سے بحث مباحثہ کرنا چاہیے اور اسلام پر جو اعتراضات کیے جاتے ہیں ان کا جواب دینا مقصود ہو تو اس کے لیے بائیل کا مطالعہ کرنا مکروہ نہیں بلکہ امید ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں باعث اجرو ثواب ہوگا۔
واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7363 سے ماخوذ ہے۔