صحيح البخاري
كتاب الشهادات— کتاب: گواہوں کے متعلق مسائل کا بیان
بَابُ تَعْدِيلِ كَمْ يَجُوزُ؟ باب: کسی گواہ کو عادل ثابت کرنے کے لیے کتنے آدمیوں کی گواہی ضروری ہے؟
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " مُرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَنَازَةٍ فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا خَيْرًا ، فَقَالَ : وَجَبَتْ ، ثُمَّ مُرَّ بِأُخْرَى فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا شَرًّا أَوْ قَالَ غَيْرَ ذَلِكَ ، فَقَالَ : وَجَبَتْ ، فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قُلْتَ لِهَذَا وَجَبَتْ وَلِهَذَا وَجَبَتْ ، قَالَ : " شَهَادَةُ الْقَوْمِ الْمُؤْمِنُونَ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ " .´ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ثابت سے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو لوگوں نے اس میت کی تعریف کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” واجب ہو گئی “ پھر دوسرا جنازہ گزرا تو لوگوں نے اس کی برائی کی ، یا اس کے سوا اور الفاظ ( اسی مفہوم کو ادا کرنے کے لیے ) کہے ( راوی کو شبہ ہے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر بھی فرمایا ” واجب ہو گئی “ عرض کیا گیا ۔ یا رسول اللہ ! آپ نے اس جنازہ کے متعلق بھی فرمایا کہ واجب ہو گئی اور پہلے جنازہ پر بھی یہی فرمایا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ایمان والی قوم کی گواہی ( بارگاہ الٰہی میں مقبول ہے ) یہ لوگ زمین پر اللہ کے گواہ ہیں ۔ “
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
پہلے جنازے کے متعلق لوگوں کی زبان پر کلمۂ خیر تھا کہ اچھا آدمی تھا، کسی سے ظلم و زیادتی نہیں کرتا تھا جبکہ دوسرے جنازے کے متعلق لوگوں کا تبصرہ اچھا نہیں تھا کہ یہ معاشرے کا برا فرد ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے دونوں قسم کے تبصرے سن کر فرمایا تھا: ’’واجب ہو گئی۔
‘‘ یعنی نیک آدمی کے لیے جنت اور برے کے لیے جہنم واجب ہو گئی، پھر آپ نے وضاحت فرمائی: ’’امتِ مسلمہ کے افراد زمین پر اللہ کی گواہی دینے والے ہیں۔
‘‘ اگر ان کا اجتماعی فیصلہ کسی کے اچھے یا برے ہونے سے متعلق ہے تو حقیقت میں وہی اللہ کا فیصلہ ہے۔
(2)
یہ فیصلہ ان لوگوں کا معتبر ہو گا جو اس زمین میں شریعت کے تقاضوں کو سمجھنے اور پورا کرنے والے ہوں۔
چوروں، ڈاکوؤں اور لٹیروں کے فیصلے کا اعتبار نہیں ہو گا۔
(3)
امام بخاری ؒ کا مقصد یہ ہے کہ کسی شخص کی نیک سیرتی بیان کرنے میں رائے عامہ کو بہت دخل ہے جیسا کہ اس حدیث میں رائے عامہ کی تصدیق کی گئی ہے۔
واللہ أعلم
(1)
مستدرک حاکم میں ہے کہ لوگوں نے پہلے شخص کے متعلق کہا تھا کہ وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت رکھتا تھا اور اس کے احکام کی بجا آوری میں کوشش کرتا تھا اور دوسرے شخص کے متعلق کہا کہ وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے بغض رکھتا تھا اور گناہ میں مصروف رہتا تھا۔
(المستدرك للحاکم: 377/1، والصحیحة للألباني: 268/4) (2)
مسند احمد کی روایت میں ہے کہ جس کی لوگوں نے تعریف کی تھی آپ ﷺ نے اس کی نماز جنازہ پڑھی اور جس کی برائی کی تھی اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھی۔
(فتح الباري: 292/3) (2)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو مسلمان فوت ہو جائے اور اللہ تعالیٰ لوگوں کے دلوں میں اس کی تعریف ڈال دے تو یہ اس کے جنتی ہونے کی علامت ہے، اس کے اعمال جیسے بھی ہوں۔
لوگوں کے دلوں میں تعریف ڈالنے کا یہی نتیجہ برآمد ہوتا ہے کہ اس کی مغفرت اللہ کی مشیت کے مطابق ہے۔
والله أعلم
جس انسان کی تعریف کی گئی اس کی اللہ ورسول سے محبت وعقیدت اور اطاعت وفرمانبرداری میں سعی وکوشش کا ذکر ہوا اور جس کی برائی بیان کی گئی۔
اس کے اعمال اس کے برعکس بیان کیے گئے اور انسان کی کامیابی اور ناکامی کا مداراس کے اعمال وافعال ہی ہیں۔
اور ظاہر بات ہے کسی کی نیکی کی تعریف نیک لوگ ہی کرتے ہیں: (إنما يعرف الفضل من الناس)
اصحاب فضل وخیر ہی فضل وخیر کی معرفت رکھتےہیں اس لیے ان ہی لوگوں کی تعریف ومذمت کا اعتبار ہے۔
برے لوگ تو بروں ہی کی تعریف کریں گے کیونکہ کند ہم جنس باہم جنس پرواز، اس لیے برے لوگوں کی بات کا اعتبار نہیں ہے۔
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ کے پاس سے ایک جنازہ گزرا، لوگوں نے اس کی تعریف کی ۱؎ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” (جنت) واجب ہو گئی “ پھر فرمایا: ” تم لوگ زمین پر اللہ کے گواہ ہو “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الجنائز/حدیث: 1058]
وضاحت:
1؎:
حاکم کی ایک روایت میں ہے کہ ان لوگوں نے کہا: یہ فلاں کا جنازہ ہے جو اللہ اوراس کے رسول سے محبت رکھتا تھا اوراللہ کی اطاعت کرتا تھا اوراس میں کوشاں رہتا تھا۔
2؎:
یہ خطاب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اوران کے طریقے پرچلنے والوں سے ہے، ابن القیم نے بیان کیا ہے کہ یہ صحابہ کے ساتھ خاص ہے۔
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک جنازہ لے جایا گیا تو اس کی تعریف کی گئی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” واجب ہو گئی “، (پھر) ایک دوسرا جنازہ لے جایا گیا، تو اس کی مذمت کی گئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” واجب ہو گئی “، تو عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، ایک جنازہ لے جایا گیا تو اس کی تعریف کی گئی، تو آپ نے فرمایا: واجب ہو گئی پھر ایک دوسرا جنازہ لے جایا گیا تو اس کی مذمت کی گئی، تو آپ نے فرمایا: واجب ہو گئی؟، تو آپ نے فرمایا: ” تم لوگوں نے جس کی تعریف کی تھی اس کے لیے جنت واجب ہو گئی، اور جس کی مذمت کی تھی اس کے لیے جہنم واجب ہو گئی، تم ۱؎ روئے زمین پر اللہ کے گواہ ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1934]
➋ ’’اللہ تعالیٰ کے گواہ“ جس طرح عدالت میں فیصلہ گواہوں کے مطابق ہوتا ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ بھی لوگوں کی گواہی کے مطابق فیصلہ فرمائے گا۔ «إن خیرا فخیر و إن شرا فشر» کیونکہ انسان کے اخلاق کا علم معاملات سے ہوتا ہے۔
➌ اس سے امت کی فضیلت بھی ظاہر ہوئی کہ یہ زمین پر اللہ کی گواہ ہے۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے ایک جنازہ لے جایا گیا، لوگوں نے اس کی تعریف کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اس پر (جنت) واجب ہو گئی “ پھر آپ کے سامنے سے ایک اور جنازہ لے جایا گیا، تو لوگوں نے اس کی برائی کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اس پر (جہنم) واجب ہو گئی “، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے اس کے لیے بھی فرمایا: ” واجب ہو گئی “، اور اس کے لیے بھی فرمایا: ” واجب ہو گئی “ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” لوگوں کی گواہی واجب ہو گئی، اور مومن زمین میں اللہ تعالیٰ کے گواہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1491]
فوائد و مسائل: (1)
نیک مومن اس کی تعریف کرتے ہیں۔
جو اپنی زندگی نیکی پر قائم رہ کر گزار گیا ہو اور اسی کو بُرا کہتے ہیں جس میں واقعی بُرائی موجود ہو۔
اس لئے اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مرنے والا اپنی نیکیوں کی وجہ سے جنتی ہوگا یا بد کرداری کی وجہ سے اللہ کی ناراضی کا سامنا کرے گا۔
(2)
اس تعریف اور مذمت سے وہ تعریف اور مذمت مراد ہے۔
جو میت کے بارے میں ایک مومن کی واقعی رائے ہو۔
اگر کسی ذاتی رنجش کی وجہ سے کسی کی خامی کا ذکر کیا جاتا ہے۔
یا کسی کی بُرائی کا ذکر کرنے سے اسی لئے اجتناب کیا جاتا ہے کہ اب وہ اپنے اعمال کا بدلہ پانے کےلئے اپنے رب کے حضور پہنچ چکا ہے۔
تو اس کی بُرائیاں ذکر کرنے کا کیا فائدہ؟تو اس قسم کے اظہار رائے سے فرق نہیں پڑتا۔
(3)
اچھایئاں اور بُرایئاں، خوبیاں اور خامیاں ہر انساں میں ہوتی ہیں اس لئے اکثر حالات کا اعتبا ر کیا جائے گا۔
اوراکثر لوگوں کی رائے کی اہمیت ہوگی۔
(4)
زندگی میں اچھے اخلاق اختیار کرنے اور دوسروں کے کام آنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
تاکہ مرنے کے بعد لوگ اچھی رائے کا اظہار کریں اور نماز جنازہ میں دل سے دعایئں کریں۔