حدیث نمبر: 2579
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ أَبُو الْحَسَنِ ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ : "دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، فَقَالَ : عِنْدَكُمْ شَيْءٌ ؟ قَالَتْ : لَا ، إِلَّا شَيْءٌ بَعَثَتْ بِهِ أُمُّ عَطِيَّةَ مِنَ الشَّاةِ الَّتِي بَعَثْتَ إِلَيْهَا مِنَ الصَّدَقَةِ ، قَالَ : إِنَّهَا قَدْ بَلَغَتْ مَحِلَّهَا " .
مولانا داود راز

´ہم سے ابوالحسن محمد بن مقاتل نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو خالد بن عبداللہ نے خبر دی ، انہیں خالد حذاء نے حفصہ بنت سیرین سے کہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عائشہ رضی اللہ عنہا کے یہاں تشریف لے گئے اور دریافت فرمایا ، کیا کوئی چیز ( کھانے کی ) تمہارے پاس ہے ؟ انہوں نے کہا کہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کے یہاں جو آپ نے صدقہ کی بکری بھیجی تھی ، اس کا گوشت انہوں نے بھیجا ہے ۔ اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ اپنی جگہ پہنچ چکی ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الهبة / حدیث: 2579
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
2579. حضرت ام عطیہ ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا: نبی کریم ﷺ حضرت عائشہ ؓ کے پاس تشریف لائے تو پوچھا: ’’تمہارے پاس کچھ (کھان کو) ہے؟‘‘ انھوں نے کہا: کچھ نہیں، صرف بکری کا گوشت ہے جو ام عطیہ ٍ نے بھیجا ہے اور یہ اس بکری کا ہے جو انھیں صدقے میں سے دی گئی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’صدقہ اپنےمقام پر پہنچ چکاہے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:2579]
حدیث حاشیہ: یعنی اس کا کھانا اب ہمارے لیے جائز ہے۔
کیوں کہ مسئلہ یہ ہے کہ صدقہ زکوٰۃ وغیرہ جب کسی مستحق شخص کو دے دیا جائے تو وہ اب جس طرح چاہے اسے استعمال کرسکتا ہے۔
وہ چاہے کسی امیر غریب کو کھلا بھی سکتا ہے۔
بطور تحفہ بھی دے سکتا ہے۔
اب وہ اس کا ذاتی مال ہوگیا، وہ اس کا مالک بن گیا۔
اس کو خرچ کرنے میں اتنی ہی آزادی ہے جتنی کہ مالک کو ہوتی ہے۔
غریب آدمی کی دلجوئی کے لیے اسکا ہدیہ قبول کرلینا اور بھی موجب ثواب ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2579 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
2579. حضرت ام عطیہ ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا: نبی کریم ﷺ حضرت عائشہ ؓ کے پاس تشریف لائے تو پوچھا: ’’تمہارے پاس کچھ (کھان کو) ہے؟‘‘ انھوں نے کہا: کچھ نہیں، صرف بکری کا گوشت ہے جو ام عطیہ ٍ نے بھیجا ہے اور یہ اس بکری کا ہے جو انھیں صدقے میں سے دی گئی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’صدقہ اپنےمقام پر پہنچ چکاہے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:2579]
حدیث حاشیہ:
(1)
صدقہ جب اپنے مقام پر پہنچ جائے تو صدقہ نہیں رہتا کیونکہ ملکیت کی تبدیلی سے چیز میں تبدیلی آ جاتی ہے۔
حضرت عطیہ ؓ کا معاملہ بھی حضرت بریرہ ؓ جیسا ہے، انہیں صدقہ پہنچ گیا تو اب انہوں نے حضرت عائشہ ؓ کی خدمت میں بھیجا وہ ہدیے کے حکم میں ہے، اب وہ صدقہ نہیں رہا اور ہمارے لیے جائز ہو چکا ہے۔
(2)
واضح رہے کہ غریب آدمی کی دل جوئی کے لیے اس کا ہدیہ قبول کر لینا مزید اجروثواب کا باعث ہے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2579 سے ماخوذ ہے۔