صحيح البخاري
کتاب المظالم والغصب— کتاب: ظلم اور مال غصب کرنے کے بیان میں
بَابُ قِصَاصِ الْمَظَالِمِ: باب: ظلموں کا بدلہ کس کس طور پر لیا جائے گا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا خَلَصَ الْمُؤْمِنُونَ مِنَ النَّارِ ، حُبِسُوا بِقَنْطَرَةٍ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ ، فَيَتَقَاصُّونَ مَظَالِمَ كَانَتْ بَيْنَهُمْ فِي الدُّنْيَا ، حَتَّى إِذَا نُقُّوا وَهُذِّبُوا أُذِنَ لَهُمْ بِدُخُولِ الْجَنَّةِ ، فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَأَحَدُهُمْ بِمَسْكَنِهِ فِي الْجَنَّةِ أَدَلُّ بِمَنْزِلِهِ كَانَ فِي الدُّنْيَا " . وَقَالَ يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُتَوَكِّلِ .´ہم سے اسحٰق بن ابراہیم نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم کو معاذ بن ہشام نے خبر دی ، انہوں نے کہا کہ ہم سے ان کے باپ نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے ، ان سے ابوالمتوکل ناجی نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، جب مومنوں کو دوزخ سے نجات مل جائے گی تو انہیں ایک پل پر جو جنت اور دوزخ کے درمیان ہو گا روک لیا جائے گا اور وہیں ان کے مظالم کا بدلہ دے دیا جائے گا ۔ جو وہ دنیا میں باہم کرتے تھے ۔ پھر جب پاک صاف ہو جائیں گے تو انہیں جنت میں داخلہ کی اجازت دی جائے گی ۔ اس ذات کی قسم ! جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے ، ان میں سے ہر شخص اپنے جنت کے گھر کو اپنے دنیا کے گھر سے بھی بہتر طور پر پہچانے گا ۔ یونس بن محمد نے بیان کیا کہ ہم سے شیبان نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے اور ان سے ابوالمتوکل نے بیان کیا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
(یا اللہ! اپنے رسول پاک ﷺ کے ان پاکیزہ ارشادات کی قدر کرنے والوں کو فردوس بریں عطا فرمائیو۔
آمین)
(1)
حدیث میں جن مظالم کا ذکر ہے اس سے مراد وہ مظالم ہوں گے جو ان کی تمام نیکیوں کو فنا نہیں کریں گے یا ایسے مظالم جن کا تعلق بدن کے بدلے سے چکایا جائے گا جیسا کہ انہوں نے ایک دوسرے کو تھپڑ وغیرہ مارے ہوں گے، ان کا بدلہ لیا جائے گا۔
(2)
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ قیامت کے دن دو پُل ہوں گے: ایک پُل صراط جو جہنم پر ہو گا اور دوسرا وہ پُل جس کا اس حدیث میں ذکر ہے، وہ جنت اور دوزخ کے درمیان ہو گا۔
ممکن ہے کہ ایک ہی پُل ہو، اس کا ابتدائی حصہ جہنم کے ادھر ہو اور اس کا آخری حصہ جنت کے قریب ہو۔
واللہ أعلم۔
بہرحال اس سے مراد وہ لوگ ہوں گے جو دنیا میں دوسروں پر ظلم کرتے رہے۔
ایسے لوگوں کے ذاتی گناہ تو دوزخ کی آگ میں جلا کر ختم کیے جائیں گے لیکن بندوں سے متعلقہ گناہوں کا قصاص لیا جائے گا۔
جب وہ معاملات نمٹا لیں گے تو انہیں جنت میں داخلے کی اجازت ملے گی۔
امام بخاری ؒ کا مقصد یہ ہے کہ ظلم و زیادتی کی تلافی اگر دنیا میں نہ کی گئی تو قیامت کے دن بدلہ لے کر کی جائے گی۔
جیسے قرآن وحدیث میں ہے۔
اب یہ جو عبداللہ بن مبارک نے زہد میں نکالا کہ فرشتے دائیں بائیں سے ان کو جنت کے راستے بتلائیں گے یہ اس کے خلاف نہیں ہے۔
اس لیے کہ اپنا مکان پہچان لینے سے یہ ضروری نہیں کہ شہر کے سب راستے بھی معلوم ہوں اور بہشت تو بہت بڑا شہر ہی نہیں بلکہ ایک ملک عظیم ہوگا۔
اس کے سامنے ساری دنیا کی بھی کوئی حقیقت نہیں ہے جیسا کہ خود قرآن شریف میں فرمایا ﴿عرضُها السمٰواتُ والأرضُ﴾ یعنی جنت وہ ہے جس کے عرض میں ساتوں آسمان اور ساتوں زمینیں ہیں۔
صدق اللہ تبارك و تعالیٰ۔
اسی باب میں دوسری حدیث کی سنت میں امام مالک رحمۃ اللہ بھی ہیں۔
یہ بڑے ہی جلیل القدر اور عظیم المرتبت امام ہیں۔
فقہ اور حدیث میں امام حجاز کہلاتے ہیں۔
حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ ان کے شاگرد ہیں اور امام بخاری، مسلم ابوداؤد، ترمذی وغیرہ سبھی کے یہ امام ہیں۔
امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے ان کے درس میں بیٹھ کر ایک مہینے تک حدیث کا سماع کیا ہے۔
امام محمد رحمۃ اللہ علیہ فن حدیث میں امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد ہیں اور امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ بھی امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد ہیں اور بھی بہت سے زبردست ائمہ و محدثین علم حدیث میں ان ہی کے شاگرد ہیں، استاذ الائمہ اور معلم الحدیث ہونے کا اتنا زبردست شرف ائمہ اربعہ میں سے کسی کو حاصل نہیں ہوا۔
مؤطا امام مالک حدیث کی مشہور کتاب ہے۔
95 ہجری میں پیدا ہوئے اور چوراسی سال کی عمر پائی 179ھ میں انتقال فرمایا۔
علم حدیث کی بہت ہی زیادہ تعظیم کرتے تھے۔
رحمة اللہ رحمة واسعة
(1)
جہنم سے چھٹکارا پانے کا مطلب یہ ہے کہ اہل ایمان پل صراط سے بحفاظت گزر جائیں گے جیسا کہ ایک روایت میں صراحت ہے: ’’جب مومن جہنم پر رکھے ہوئے پل صراط سے حفاظت کے ساتھ گزر جائیں گے۔
‘‘ (صحیح البخاري، المطالم، حدیث: 2440) (2)
جس پل پر اہل ایمان کو روک لیا جائے گا وہ جنت کی پل صراط ہی کا ایک حصہ ہو گا۔
یہ بھی ممکن ہے کہ وہ کوئی دوسرا پل ہو۔
(3)
واضح رہے کہ تمام اہل ایمان کو وہاں نہیں روکا جائے گا بلکہ وہ لوگ جو حساب کے بغیر جنت میں جائیں گے یا جن کے اعمال انہیں جہنم میں لے جائیں گے انہیں وہاں نہیں روکا جائے گا۔
(فتح الباري: 485/11)
اگر کسی نے رائی کے دانے کے برابر بھی کسی دوسرے پر ظلم کیا ہو گا تو اسے بھی قصاص دینا پڑے گا جیسا کہ قرآن کریم میں اس کی صراحت ہے۔
(الأنبیاء: 47/21) (4)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک روایت کے مطابق فرشتے دائیں بائیں سے اہل جنت کو جنت کے راستے بتائیں گے جبکہ اس حدیث میں ہے کہ وہ خود جنت میں اپنے ٹھکانے کو پہچانتے ہوں گے؟ ممکن ہے کہ جنت میں داخلے سے پہلے فرشتے ان کی رہنمائی کریں، پھر جنت میں داخل ہو کر وہ خود اپنے مقام کو پہچان لیں گے۔
یہ بھی ممکن ہے کہ بشارت اور عزت و تکریم میں مبالغے کے طور پر فرشتے انہیں جنت میں جانے کے بعد بھی راستوں کی رہنمائی کریں کیونکہ اپنا مکان پہچان لینے کے بعد یہ ضروری نہیں کہ جنت کے تمام راستے انہیں معلوم ہوں۔
جنت بہت بڑا شہر ہی نہیں بلکہ ملک عظیم ہے، اس کے سامنے تو پوری دنیا کی بھی کوئی حیثیت نہیں ہے۔
(فتح الباري: 486/11)