صحيح البخاري
كتاب الخصومات— کتاب: نالشوں اور جھگڑوں کے بیان میں
بَابُ مَنْ بَاعَ عَلَى الضَّعِيفِ وَنَحْوِهِ: باب: اور اگر کسی نے کسی کم عقل کی کوئی چیز بیچ کر اس کی قیمت اسے دے دی۔
حدیث نمبر: 2414
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : كَانَ رَجُلٌ يُخْدَعُ فِي الْبَيْعِ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا بَايَعْتَ ، فَقُلْ لَا خِلَابَةَ " ، فَكَانَ يَقُولُهُ .مولانا داود راز
´ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عبدالعزیز بن مسلم نے بیان کیا ، ان سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا ، آپ نے کہا کہ` ایک صحابی کوئی چیز خریدتے وقت دھوکا کھا جایا کرتے تھے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ جب تو خریدا کرے تو یہ کہہ دے کہ کوئی دھوکا نہ ہو ۔ پس وہ اسی طرح کہا کرتے تھے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الخصومات / حدیث: 2414
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 2117 | صحيح البخاري: 2407 | صحيح البخاري: 6964 | صحيح مسلم: 1533 | سنن ابي داود: 3500 | سنن نسائي: 4489 | موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 509 | بلوغ المرام: 694 | مسند الحميدي: 677
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2407 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
2407. حضرت عبد اللہ ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا کہ میں لین دین میں بہت دھوکا کھا جاتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: ’’جب تم کسی سے معاملہ کرو تو کہہ دیا کرو کہ کوئی دھوکا نہیں ہوگا۔‘‘ چنانچہ وہ شخص معاملہ کرتے وقت یہ (الفاظ)کہہ دیتا تھا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:2407]
حدیث حاشیہ: ایک روایت میں اتنا زیادہ ہے اور مجھ کو تین دن تک اختیارہے۔
یہ حدیث اوپر گزر چکی ہے۔
یہاں باب کی مناسبت یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے مال کو تباہ کرنا برا جانا۔
ا س لیے اس کو یہ حکم دیا کہ بیع کے وقت یوں کہا کرو، دھوکا فریب کا کام نہیں ہے۔
یہ حدیث اوپر گزر چکی ہے۔
یہاں باب کی مناسبت یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے مال کو تباہ کرنا برا جانا۔
ا س لیے اس کو یہ حکم دیا کہ بیع کے وقت یوں کہا کرو، دھوکا فریب کا کام نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2407 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2407 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
2407. حضرت عبد اللہ ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا کہ میں لین دین میں بہت دھوکا کھا جاتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: ’’جب تم کسی سے معاملہ کرو تو کہہ دیا کرو کہ کوئی دھوکا نہیں ہوگا۔‘‘ چنانچہ وہ شخص معاملہ کرتے وقت یہ (الفاظ)کہہ دیتا تھا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:2407]
حدیث حاشیہ:
(1)
"لا خلابة" کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی دھوکا ثابت ہوا تو مال واپس کر دیا جائے گا۔
(2)
عنوان سے اس حدیث کی مطابقت اس طرح ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مال ضائع کرنے اور اسے تباہ کرنے کو برا خیال فرمایا، اس لیے اسے حکم دیا کہ وہ خریدوفروخت کے وقت کہہ دیا کرے کہ اس معاملے میں دھوکا فریب نہیں ہو گا۔
(1)
"لا خلابة" کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی دھوکا ثابت ہوا تو مال واپس کر دیا جائے گا۔
(2)
عنوان سے اس حدیث کی مطابقت اس طرح ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مال ضائع کرنے اور اسے تباہ کرنے کو برا خیال فرمایا، اس لیے اسے حکم دیا کہ وہ خریدوفروخت کے وقت کہہ دیا کرے کہ اس معاملے میں دھوکا فریب نہیں ہو گا۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2407 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6964 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
6964. حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ سے کہا کہ اسے خرید وفروخت میں دھوکا دیا جاتا ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب وہ خرید و فروخت کرو تو کہہ دیا کرو: اس میں کوئی دھوکا نہیں ہونا چاہیئے۔“[صحيح بخاري، حديث نمبر:6964]
حدیث حاشیہ: اگر دھوکہ نکلا تو وہ مال سب کا سب واپس کرنے کا مجاز ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6964 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6964 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
6964. حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ سے کہا کہ اسے خرید وفروخت میں دھوکا دیا جاتا ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب وہ خرید و فروخت کرو تو کہہ دیا کرو: اس میں کوئی دھوکا نہیں ہونا چاہیئے۔“[صحيح بخاري، حديث نمبر:6964]
حدیث حاشیہ:
1۔
(لاَخِلاَبَةَ)
کے معنی یہ ہیں کہ میرے ساتھ دھوکا نہیں ہونا چاہیے، گویا وہ مشروط خرید وفروخت کرتا ہے، یعنی اگر خریدو فروخت میں دھوکا ظاہر ہوا تو یہ معاہدہ صحیح نہیں ہوگا۔
2۔
حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے مہلب کے حوالے سے لکھا ہے کہ اگر فروخت کردہ چیز کی تعریف میں مبالغہ آمیزی سے کام لیا گیا اور اس کی مدح سرائی میں زمین وآسمان کے قلابے ملا دیے گئے تو یہ دھوکا دہی میں نہیں ہوگا کیونکہ ایسی چیزیں معاملات میں داخل نہیں ہوتیں۔
(فتح الباري: 421/12)
3۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا مقصد یہ ہے کہ حیلہ سازی بھی دھوکے کی ایک قسم ہے اس بنا پر مسلمان کی یہ شان نہیں کہ وہ حیلہ سازی کر کے شرعی احکام سے پہلوتہی کرے، اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کا مؤاخذہ ہوگا۔
واللہ أعلم۔
1۔
(لاَخِلاَبَةَ)
کے معنی یہ ہیں کہ میرے ساتھ دھوکا نہیں ہونا چاہیے، گویا وہ مشروط خرید وفروخت کرتا ہے، یعنی اگر خریدو فروخت میں دھوکا ظاہر ہوا تو یہ معاہدہ صحیح نہیں ہوگا۔
2۔
حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے مہلب کے حوالے سے لکھا ہے کہ اگر فروخت کردہ چیز کی تعریف میں مبالغہ آمیزی سے کام لیا گیا اور اس کی مدح سرائی میں زمین وآسمان کے قلابے ملا دیے گئے تو یہ دھوکا دہی میں نہیں ہوگا کیونکہ ایسی چیزیں معاملات میں داخل نہیں ہوتیں۔
(فتح الباري: 421/12)
3۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا مقصد یہ ہے کہ حیلہ سازی بھی دھوکے کی ایک قسم ہے اس بنا پر مسلمان کی یہ شان نہیں کہ وہ حیلہ سازی کر کے شرعی احکام سے پہلوتہی کرے، اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کا مؤاخذہ ہوگا۔
واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6964 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2117 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
2117. حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی ﷺ سے عرض کیا کہ اسے خریدوفروخت میں (اکثر) دھوکادیا جاتا ہے تو آپ نے فرمایا: ’’جب تم خریدوفروخت کرو تو کہہ دیا کرو کہ مجھے دھوکا نہ ہو۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:2117]
حدیث حاشیہ: بیہقی کی روایت میں اتنا زیادہ ہے اور جو چیز خریدے اس میں تجھے تین دن تک اختیار ہوگا۔
امام احمد ؒ نے اس حدیث سے یہ حکم دیا ہے کہ اگر کسی شخص کو اسباب کی قیمت معلوم نہ ہو، اور وہ تہائی قیمت زیادہ دے یا ایک سدس تو وہ اسباب بائع کو پھیر سکتا ہے اورحنفیہ اور شافعیہ نے اس کا انکار کیا ہے۔
یہ حبان بن منقذ ؓ صحابی تھے، جنگ احد میں ان کے سر میں زخم آیا تھا، جس کی وجہ سے ان کی عقل میں فتور آگیا۔
(وحیدی)
امام احمد ؒ نے اس حدیث سے یہ حکم دیا ہے کہ اگر کسی شخص کو اسباب کی قیمت معلوم نہ ہو، اور وہ تہائی قیمت زیادہ دے یا ایک سدس تو وہ اسباب بائع کو پھیر سکتا ہے اورحنفیہ اور شافعیہ نے اس کا انکار کیا ہے۔
یہ حبان بن منقذ ؓ صحابی تھے، جنگ احد میں ان کے سر میں زخم آیا تھا، جس کی وجہ سے ان کی عقل میں فتور آگیا۔
(وحیدی)
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2117 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2117 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
2117. حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی ﷺ سے عرض کیا کہ اسے خریدوفروخت میں (اکثر) دھوکادیا جاتا ہے تو آپ نے فرمایا: ’’جب تم خریدوفروخت کرو تو کہہ دیا کرو کہ مجھے دھوکا نہ ہو۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:2117]
حدیث حاشیہ:
(1)
یہ شخص حضرت حبان بن عنقذ ؓ تھے۔
جنگ کے دوران میں ان کے سرپر پتھر لگنے کی وجہ سے ان کی زبان اور ان کی زبان اور عقل متاثر ہوگئی تھی۔
اس بنا پر انھیں اکثر خریدوفروخت کرتے وقت نقصان ہوجاتا۔
جب انھوں نے شکایت کی تو رسول اللہ ﷺ: ’’جب تم کوئی چیز خریدکرو تو بائع (بیچنے والا)
کے ساتھ یہ شرط کرلیا کرو کہ اس میں کسی قسم کا دھوکا نہ ہو۔
‘‘ کیونکہ دین خیر خواہی کا نام ہے۔
(2)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ خریدوفروخت کرتے وقت دھوکا دہی اور فریب کاری حرام ہے۔
ایک روایت میں اتنا اضافہ ہے: ’’جب تو کوئی چیز خریدے تو تجھےتین دن تک اختیار ہوگا۔
‘‘ (السنن الکبریٰ للبیھقي: 273/5)
اس کا مطلب یہ ہے کہ اس قسم کے الفاظ استعمال کرنے سے خریدار کو بیع فسخ کرنے کا اختیار مل جاتا ہے۔
(فتح الباري: 427/4)
(1)
یہ شخص حضرت حبان بن عنقذ ؓ تھے۔
جنگ کے دوران میں ان کے سرپر پتھر لگنے کی وجہ سے ان کی زبان اور ان کی زبان اور عقل متاثر ہوگئی تھی۔
اس بنا پر انھیں اکثر خریدوفروخت کرتے وقت نقصان ہوجاتا۔
جب انھوں نے شکایت کی تو رسول اللہ ﷺ: ’’جب تم کوئی چیز خریدکرو تو بائع (بیچنے والا)
کے ساتھ یہ شرط کرلیا کرو کہ اس میں کسی قسم کا دھوکا نہ ہو۔
‘‘ کیونکہ دین خیر خواہی کا نام ہے۔
(2)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ خریدوفروخت کرتے وقت دھوکا دہی اور فریب کاری حرام ہے۔
ایک روایت میں اتنا اضافہ ہے: ’’جب تو کوئی چیز خریدے تو تجھےتین دن تک اختیار ہوگا۔
‘‘ (السنن الکبریٰ للبیھقي: 273/5)
اس کا مطلب یہ ہے کہ اس قسم کے الفاظ استعمال کرنے سے خریدار کو بیع فسخ کرنے کا اختیار مل جاتا ہے۔
(فتح الباري: 427/4)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2117 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3500 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´خریدار اگر یہ کہہ دے کہ بیع میں دھوکا دھڑی نہیں چلے گی تو اس کو بیع کے فسخ کا اختیار ہو گا۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا کہ خرید و فروخت میں اسے دھوکا دے دیا جاتا ہے (تو وہ کیا کرے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ” جب تم خرید و فروخت کرو، تو کہہ دیا کرو «لا خلابة» (دھوکا دھڑی کا اعتبار نہ ہو گا) “ تو وہ آدمی جب کوئی چیز بیچتا تو «لا خلابة» کہہ دیتا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3500]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا کہ خرید و فروخت میں اسے دھوکا دے دیا جاتا ہے (تو وہ کیا کرے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ” جب تم خرید و فروخت کرو، تو کہہ دیا کرو «لا خلابة» (دھوکا دھڑی کا اعتبار نہ ہو گا) “ تو وہ آدمی جب کوئی چیز بیچتا تو «لا خلابة» کہہ دیتا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3500]
فوائد ومسائل:
فائدہ۔
اس شرط اور صراحت کے ساتھ اگر بعد میں واضح ہو کہ دوسرے فریق نے کوئی دھوکا دیا ہے۔
تو اسے بیع فسخ کرنے کا حق حاصل رہے گا۔
فائدہ۔
اس شرط اور صراحت کے ساتھ اگر بعد میں واضح ہو کہ دوسرے فریق نے کوئی دھوکا دیا ہے۔
تو اسے بیع فسخ کرنے کا حق حاصل رہے گا۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3500 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 4489 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´خرید و فروخت میں دھوکہ کھا جانے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا کہ وہ بیع میں دھوکہ کھا جاتا ہے تو آپ نے اس سے فرمایا: ” جب تم بیچو تو کہہ دیا کرو: فریب اور دھوکہ دھڑی نہ ہو، چنانچہ وہ شخص جب کوئی چیز بیچتا تو کہتا: دھوکہ دھڑی نہیں “ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4489]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا کہ وہ بیع میں دھوکہ کھا جاتا ہے تو آپ نے اس سے فرمایا: ” جب تم بیچو تو کہہ دیا کرو: فریب اور دھوکہ دھڑی نہ ہو، چنانچہ وہ شخص جب کوئی چیز بیچتا تو کہتا: دھوکہ دھڑی نہیں “ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4489]
اردو حاشہ: سنن بیهقی (5/273) کی روایت میں ہے: ”پھر تجھے تین دن تک سودے کی واپسی کا اختیار ہو گا۔“ گویا جب سودے میں تنبیہ کر دی جائے کہ دھوکا نہیں چلے گا، یعنی دھوکا نہ کرنا، میں سادہ آدمی ہوں۔ اس کے باوجود فریق ثانی چالاکی دکھا جائے تو اس سادہ شخص کو تین دن تک واپسی کا اختیار رہے گا۔ بعض فقہاء نے یہ رعایت صرف اسی شخص سے خاص کی ہے جس سے یہ مسئلہ صادر ہوا تھا، حالانکہ اس تخصیص کی کوئی وجہ نہیں۔ کیا سادہ لوگوں کو اس دنیا میں رہنے کا حق نہیں؟ یا ان کو دھوکا دینا شرعاً جائز ہے؟ اسلام تو ایسی خود غرضی کی اجازت نہیں دیتا، لہٰذا چالاک لوگوں کی بجائے سادہ مومنوں کی حمایت کرنا چاہیے اور دھوکا دینے والوں کی حوصلہ شکنی کرنا چاہیے اور وہ مندرجہ بالا صورت ہی میں ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4489 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: موطا امام مالك رواية ابن القاسم / حدیث: 509 کی شرح از حافظ زبیر علی زئی ✍️
´خرید و فروخت کے وقت دھوکا ہونے کی صورت میں کیا کہے`
«. . . 288- وبه: أن رجلا ذكر لرسول الله صلى الله عليه وسلم أنه يخدع فى البيوع، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: ”إذا بايعت فقل: لا خلابة“ فكان الرجل إذا بايع يقول: لا خلابة. . . .»
”. . . اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک آدمی کا ذکر کیا گیا جس کے ساتھ خرید و فروخت میں دھوکا کیا جاتا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا: ”جب تم کوئی چیز بیچو تو کہو، کوئی دھوکا نہیں ہے“، پھر وہ آدمی جب کوئی چیز بیچتا تو کہتا: کوئی دھوکا نہیں ہے . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 509]
«. . . 288- وبه: أن رجلا ذكر لرسول الله صلى الله عليه وسلم أنه يخدع فى البيوع، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: ”إذا بايعت فقل: لا خلابة“ فكان الرجل إذا بايع يقول: لا خلابة. . . .»
”. . . اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک آدمی کا ذکر کیا گیا جس کے ساتھ خرید و فروخت میں دھوکا کیا جاتا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا: ”جب تم کوئی چیز بیچو تو کہو، کوئی دھوکا نہیں ہے“، پھر وہ آدمی جب کوئی چیز بیچتا تو کہتا: کوئی دھوکا نہیں ہے . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 509]
تخریج الحدیث: [وأخرجه البخاري 2117، 6964، من حديث مالك، ومسلم 1533، من حديث عبدالله بن دينار به]
تفقه:
➊ سودا کرتے وقت اگر کوئی کہہ دے کہ ”کوئی دھوکا نہیں ہے“ اور بعد میں ثابت ہوجائے کہ اسے دھوکا دیا گیا ہے تو وہ سودا واپس کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔
➋ جس شخص کا اس حدیث میں ذکر ہے وہ سیدنا منقذ بن حبان رضی اللہ عنہ تھے۔
➌ اسلام ہر شخص کے لئے خیر خواہی کا نام ہے۔
➍ فریقین کی مرضی سے خرید و فروخت حلال ہے بشرطیکہ کتاب وسنت کے کسی حکم کے خلاف نہ ہو۔
➎ مشہور تابعی سعید بن المسیب رحمہ اللہ نے فرمایا: جب تم ایسے علاقے میں جاؤ جہاں پورا پورا ماپ تول ہوتا ہو تو اس علاقے میں لمبا عرصہ قیام کرو اور اگر تم ایسے علاقے میں جاؤ جہاں ماپ تول پورا پورا نہیں ہوتا تو وہاں زیادہ عرصہ قیام نہ کرو۔ [الموطأ 2/685 ح1430، وسنده صحيح]
➏ امام محمد بن المنکدر (تابعی) رحمہ اللہ فرماتے تھے: اللہ اس بندے سے محبت کرتا ہے جو بیچتے وقت نرمی کرتا ہے، خریدتے وقت نرمی کرتا ہے، قرض ادا کرتے وقت نرمی کرتا ہے اور قرض وصول کرتے وقت بھی نرمی کرتا ہے۔ [الموطأ 2/685 ح1431، وسنده صحيح]
➐ امام ابن شہاب زہری رحمہ اللہ سے پوچھا: گیا: ایک شخص (کسی سے) ایک جانور کرائے پر لیتا ہے اور پھر اس سے زیادہ کرائے پر کسی کو دے دیتا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ [الموطأ 2/686 ح432 وسنده صحيح]
تفقه:
➊ سودا کرتے وقت اگر کوئی کہہ دے کہ ”کوئی دھوکا نہیں ہے“ اور بعد میں ثابت ہوجائے کہ اسے دھوکا دیا گیا ہے تو وہ سودا واپس کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔
➋ جس شخص کا اس حدیث میں ذکر ہے وہ سیدنا منقذ بن حبان رضی اللہ عنہ تھے۔
➌ اسلام ہر شخص کے لئے خیر خواہی کا نام ہے۔
➍ فریقین کی مرضی سے خرید و فروخت حلال ہے بشرطیکہ کتاب وسنت کے کسی حکم کے خلاف نہ ہو۔
➎ مشہور تابعی سعید بن المسیب رحمہ اللہ نے فرمایا: جب تم ایسے علاقے میں جاؤ جہاں پورا پورا ماپ تول ہوتا ہو تو اس علاقے میں لمبا عرصہ قیام کرو اور اگر تم ایسے علاقے میں جاؤ جہاں ماپ تول پورا پورا نہیں ہوتا تو وہاں زیادہ عرصہ قیام نہ کرو۔ [الموطأ 2/685 ح1430، وسنده صحيح]
➏ امام محمد بن المنکدر (تابعی) رحمہ اللہ فرماتے تھے: اللہ اس بندے سے محبت کرتا ہے جو بیچتے وقت نرمی کرتا ہے، خریدتے وقت نرمی کرتا ہے، قرض ادا کرتے وقت نرمی کرتا ہے اور قرض وصول کرتے وقت بھی نرمی کرتا ہے۔ [الموطأ 2/685 ح1431، وسنده صحيح]
➐ امام ابن شہاب زہری رحمہ اللہ سے پوچھا: گیا: ایک شخص (کسی سے) ایک جانور کرائے پر لیتا ہے اور پھر اس سے زیادہ کرائے پر کسی کو دے دیتا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ [الموطأ 2/686 ح432 وسنده صحيح]
درج بالا اقتباس موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 288 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 694 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´بیع میں اختیار کا بیان`
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص نے ذکر کیا کہ اسے بیع میں عام طور پر دھوکہ دیا جاتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” سودا کرتے وقت کہہ دیا کرو کہ کوئی فریب و دھوکہ نہیں ہو گا۔ “ (بخاری و مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 694»
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص نے ذکر کیا کہ اسے بیع میں عام طور پر دھوکہ دیا جاتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” سودا کرتے وقت کہہ دیا کرو کہ کوئی فریب و دھوکہ نہیں ہو گا۔ “ (بخاری و مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 694»
تخریج:
« أخرجه البخاري، البيوع، باب ما يكره من الخداع في البيع، حديث:2117، ومسلم، البيوع، باب من يخدع في البيع، حديث:1533.»
تشریح: 1. اس حدیث سے معلوم ہوا کہ غبن فاحش کے معلوم ہونے پر خیار ثابت ہے۔
یہ رائے امام احمد اور امام مالک رحمہما اللہ کی ہے‘ مگر جمہور علماء اس کے قائل نہیں ہیں‘ وہ کہتے ہیں کہ حبان بن منقذ کو بالخصوص یہ اجازت اس لیے دی کہ ان کی عقل اور زبان میں کمزوری واقع ہوگئی تھی جیسا کہ مسند احمد میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے۔
(مسند أحمد:۳ /۲۱۷) صحیح بات یہ ہے کہ لاَ خِلاَبَۃَ کی صدا لگانا بھی اپنی جگہ ایک طرح کی شرط ہے جس سے ثابت ہورہا ہے کہ دھوکے اور فریب کی صورت میں مشتری کے لیے خیار ثابت ہے اور خیار الشرط بھی اسی کو کہتے ہیں۔
2.آپ نے جو الفاظ ان کو تلقین فرمائے ان الفاظ کی برکت سے انھیں بعد میں کبھی دھوکا نہیں ہوتا تھا۔
« أخرجه البخاري، البيوع، باب ما يكره من الخداع في البيع، حديث:2117، ومسلم، البيوع، باب من يخدع في البيع، حديث:1533.»
تشریح: 1. اس حدیث سے معلوم ہوا کہ غبن فاحش کے معلوم ہونے پر خیار ثابت ہے۔
یہ رائے امام احمد اور امام مالک رحمہما اللہ کی ہے‘ مگر جمہور علماء اس کے قائل نہیں ہیں‘ وہ کہتے ہیں کہ حبان بن منقذ کو بالخصوص یہ اجازت اس لیے دی کہ ان کی عقل اور زبان میں کمزوری واقع ہوگئی تھی جیسا کہ مسند احمد میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے۔
(مسند أحمد:۳ /۲۱۷) صحیح بات یہ ہے کہ لاَ خِلاَبَۃَ کی صدا لگانا بھی اپنی جگہ ایک طرح کی شرط ہے جس سے ثابت ہورہا ہے کہ دھوکے اور فریب کی صورت میں مشتری کے لیے خیار ثابت ہے اور خیار الشرط بھی اسی کو کہتے ہیں۔
2.آپ نے جو الفاظ ان کو تلقین فرمائے ان الفاظ کی برکت سے انھیں بعد میں کبھی دھوکا نہیں ہوتا تھا۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 694 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 677 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
677- سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا منقذ رضی اللہ عنہ (یہ ایک انصاری صحابی ہیں) کو زمانہ جاہلیت میں سر میں چوٹ لگی تھی جس کے نیچے میں ان کی زبان میں لکنت آگئی تھی جب وہ کوئی سودا کرتے تھے، تو سودا کرنے کے دوران ان کے ساتھ دھوکہ ہوجاتا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سودا کرتے ہوئے یہ کہو کہ دھو کہ نہیں ہوگا۔ پھر تمہیں تین دن تک اختیار ہوگا (اگر تم چاہو تو سودے کو کالعدم قراردو)“ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں نے انہیں سودا کرتے ہوئے سنا: وہ یہ کہہ رہے تھے «لا خذابة» (یعنی لکنت کی وجہ سے وہ لام کو ذال پڑھ رہے تھے) [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:677]
فائدہ:
اس تنبیہ کے باوجود اگر کوئی دھوکا دیتا ہے تو سودا کر نے والے آدمی کو اختیار ہے کہ وہ تین دن تک واپس کر دے۔
اس تنبیہ کے باوجود اگر کوئی دھوکا دیتا ہے تو سودا کر نے والے آدمی کو اختیار ہے کہ وہ تین دن تک واپس کر دے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 680 سے ماخوذ ہے۔