صحيح البخاري
كتاب المزارعة— کتاب: کھیتی باڑی اور بٹائی کا بیان
بَابُ كِرَاءِ الأَرْضِ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ: باب: نقدی لگان پر سونا چاندی کے بدل زمین دینا۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَمَّايَ ، " أَنَّهُمْ كَانُوا يُكْرُونَ الْأَرْضَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا يَنْبُتُ عَلَى الْأَرْبِعَاءِ أَوْ شَيْءٍ يَسْتَثْنِيهِ صَاحِبُ الْأَرْضِ ، فَنَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ " . فَقُلْتُ لِرَافِعٍ : فَكَيْفَ هِيَ بِالدِّينَارِ وَالدِّرْهَمِ ؟ فَقَالَ رَافِعٌ : لَيْسَ بِهَا بَأْسٌ بِالدِّينَارِ وَالدِّرْهَمِ ، وَقَالَ اللَّيْثُ : وَكَانَ الَّذِي نُهِيَ عَنْ ذَلِكَ مَا لَوْ نَظَرَ فِيهِ ذَوُو الْفَهْمِ بِالْحَلَالِ وَالْحَرَامِ ، لَمْ يُجِيزُوهُ لِمَا فِيهِ مِنَ الْمُخَاطَرَةِ .´ہم سے عمرو بن خالد نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، ان سے ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن نے بیان کیا ، ان سے حنظلہ بن قیس نے بیان کیا ، ان سے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` میرے چچا ( ظہیر اور مہیر رضی اللہ عنہما ) نے بیان کیا کہ وہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں زمین کو بٹائی پر نہر ( کے قریب کی پیداوار ) کی شرط پر دیا کرتے ۔ یا کوئی بھی ایسا خطہ ہوتا جسے مالک زمین ( اپنے لیے ) چھانٹ لیتا ۔ اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرما دیا ۔ حنظلہ نے کہا کہ اس پر میں نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے پوچھا ، اگر درہم و دینار کے بدلے یہ معاملہ کیا جائے تو کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اگر دینار و درہم کے بدلے میں ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ۔ اور لیث نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس طرح کی بٹائی سے منع فرمایا تھا ، وہ ایسی صورت ہے کہ حلال و حرام کی تمیز رکھنے والا کوئی بھی شخص اسے جائز نہیں قرار دے سکتا ۔ کیونکہ اس میں کھلا دھوکہ ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
«. . . عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمَّايَ،" أَنَّهُمْ كَانُوا يُكْرُونَ الْأَرْضَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا يَنْبُتُ عَلَى الْأَرْبِعَاءِ أَوْ شَيْءٍ يَسْتَثْنِيهِ صَاحِبُ الْأَرْضِ، فَنَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ". فَقُلْتُ لِرَافِعٍ: فَكَيْفَ هِيَ بِالدِّينَارِ وَالدِّرْهَمِ؟ فَقَالَ رَافِعٌ: لَيْسَ بِهَا بَأْسٌ بِالدِّينَارِ وَالدِّرْهَمِ . . .»
”. . . رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میرے چچا (ظہیر اور مہیر رضی اللہ عنہما) نے بیان کیا کہ وہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں زمین کو بٹائی پر نہر (کے قریب کی پیداوار) کی شرط پر دیا کرتے۔ یا کوئی بھی ایسا خطہ ہوتا جسے مالک زمین (اپنے لیے) چھانٹ لیتا۔ اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرما دیا۔ حنظلہ نے کہا کہ اس پر میں نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے پوچھا، اگر درہم و دینار کے بدلے یہ معاملہ کیا جائے تو کیا حکم ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ اگر دینار و درہم کے بدلے میں ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ . . .“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمُزَارَعَةِ: 2346]
دنیاوی معاملات میں چونکہ اصل اباحت ہے اور حرمت کا ثبوت کسی صحیح و صریح دلیل کا محتاج ہوتا ہے، لہٰذا اس اصول کے تحت زمین کو کرایہ، یعنی ٹھیکہ پر دینا بالکل جائز و درست ہے۔ اس کے خلاف کوئی دلیل نہیں۔
رہا سیدنا رافع بن خدیج اور دوسرے کئی صحابہ کرام صلی اللہ علیہ وسلم کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زمین کو ٹھیکے پر دینے کی ممانعت کرنا تو اس سے مراد حرمت نہیں، بلکہ محض نرمی کی ہدایت ہے۔ اگر کوئی خود زمین کاشت نہیں کرتا تو کسی دوسرے مسلمان کو بغیر عوض کے زمین دے دینا اس کے لیے بہتر اور کار ثواب ہے۔ رہا ٹھیکے پر دینے کا عمل تو اس میں سے صرف ظلم و زیادتی والی صورتوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ممنوع قرار دیا ہے، ہرطرح کے ٹھیکے کو نہیں، کیونکہ: ➊ اس ممانعت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرنے والے صحابی رسول سیدنا رافع بن خدیج خود خالی زمین کو کرائے پر دینے کے قائل تھے۔ چنانچہ: ❀ حنظلہ بن قیس رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: «سألت رافع بن خديج عن كراء الأرض بالذهب والورق، فقال: لا بأس به، إنما كان الناس يؤاجرون على عهد جرون على عهد النبى صلى الله عليه وسلم على الماذيانات، و أقبال الجداول، وأشياء من الزرع، فيهلك هذا ويسلم هذا، ويسلم هذا و يهلك هذا، فلم يكن للناس كراء إلا هذا، فلذلك زجر عنه، فأماشيء معلوم مضمون، فلا بأس به۔»
”میں نے سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے زمین کو سونے، چاندی (نقدی) کے عوض کرائے پر دینے کے بارے میں پوچھا: تو انہوں نے فرمایا، اس میں کوئی حرج نہیں۔ (رہی بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منع فرمانے کی تو اصل بات یہ ہے کہ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں لوگ ٹھیکے پر زمین اس شرط پر دیتے تھے کہ پانی کے قریب والی زمین، نالوں کے کناروں پر واقع زمین اور کئی طرح کا (متعین) غلہ ان کا ہو گا۔ اس صورت میں کبھی یہ ہلاک ہو جاتا (نقصان اٹھاتا) اور وہ سلامت رہ جاتا (نفع مند رہتا) اور کبھی یہ سلامت رہ جاتا اور وہ ہلاک ہو جاتا۔ ان دنوں میں لوگوں کے پاس زمین کو ٹھیکے پر دینے کی صرف یہی صورت تھی، اس لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرما دیا۔ رہا ٹھیکے کا وہ معاملہ جو معلوم و متعین ہو (نقدی کی صورت میں ہو) تو اس میں کوئی حرج نہیں۔“ [صحيح البخاري: 2346، صحيح مسلم: 166/1547، واللفظ له]
❀ صحیح مسلم [117/1547] کی ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: «كنا أكثر الأرنصار حقلا، قال: كنا نكري الأرض على أن لنا هذه، ولهم هذه، فربما أخرجت هذه، ولم تخرج هذه، فنهانا عن ذلك، و أما الورق فلم ينهنا»
”ہم سب انصار سے بڑھ کر کاشتکاری کرنے والے تھے۔ ہم زمین کو اس شرط پر ٹھیکے پر حاصل کرتے تھے کہ زمین کا یہ حصہ ہمارے لیے اور یہ حصہ، ان (ملکوں) کے لیے ہے۔ بسا اوقات ایسے ہوتا کہ زمین کا ایک خطہ اچھا غلہ اگاتا اور دوسرا خطہ نہ اگاتا۔ اس طریقے سے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرما دیا۔ رہی چاندی (نقدی کے عوص ٹھیکے کا معاملہ کرنا) تو اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں منع فرمایا۔“
❀ صحیح بخاری کی ایک روایت میں سیدنا رافع خدیج رضی اللہ عنہ یوں بیان فرماتے ہیں: «و أما الذهب والورق، فلم يكن يومئذ»
رہا سونے اور چاندی کے عوض ٹھیکے کا معاملہ تو یہ ان دنوں میں تھا ہی نہیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا تھا۔ [صحيح البخاري: 2327]
◈ امام بغوی رحمہ اللہ اس حدیث کو ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں: «فيه دليل على جواز إجارة الأراضي، و ذهب عامة أهل العلم إلي جوازها بالدراهم و الدنانيز، و غيرها من صنوف الأموال، سواء كانت مما تنبت الأرض، أولا تنبت، إذا كان معلوما بالعيان، إو بالوصف، كما يجوز إجارة غير الأراضي من العبيد و الدواب و غيرها، و جملته إن ما جاز بيعه، جاز أن يجعل أجرة فى الإجازة۔»
”اس حدیث میں زمین کو ٹھیکے پر لینے دینے کی دلیل ہے۔ اکثر اہل علم سونے، چاندی (نقدی) اور مال کی دوسری اقسام کے عوض زمین کے ٹھیکے کے جواز کے قائل ہیں، خواہ وہ چیز زمین سے اگتی ہو یا نہ اگتی ہو، بشرطیکہ اس کی مقدار اور کیفیت معلوم ہو۔ یہ (زمین کا کرایہ پر لینا دینا) اسی طرح جائز ہے، جیسے زمین کے علاوہ دوسری چیزیں، مثلا غلام، جانور وغیرہ کو کرائے پر لینا دینا جائز ہے۔ خلاصہ یہ کہ جس چیز کی خرید و فروخت جائز ہے، اس کو اجرت کے بدلے کرائے پر لینا دینا بھی جائز ہے۔۔۔“ [شرح السنة للبغوي: 263/8]
◈ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اس حدیث کو ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں: «و ذهب جميع فقهاء الحديث الجامعون لطرقه كلهم، كأحمد بن حنبل و أصحابه كلهم من المتقدمين، والمتأخرين، وإسحاق بن راهويه، وأبي بكر أبي شبية، وسليمان بن داود الهاشمي، و أبي خيثمة زهير بن حرب، و أكثر فقهاء الكوفيين، كسفيان الثوري، و محمد بن عبدالرحمن بن أبي ليلي، و أبي داوٗد، وجماهير فقهاء الحديث من المتأخرين: كابن المنذر، وابن خزيمة، والخطابي، وغيرهم، و أهل الظاهر، و أكثر أصحاب أبي حنيفة إلي جواز المزراعة والمؤعة و نحو ذلك اتباعا لسنة رسول الله صلى الله عليه وسلم وسنة خلفائه و أصحابه و ما عليه السلف و عمل جمهور المسلمين»
”سنت رسول، خلفائے راشدین اور دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے عمل، سلف صالحین اور اکثر مسلمانوں کی روش کی پیروی میں اس حدیث کی ساری روایات کو جمع کرنے والے فقہائے حدیث، مثلا امام احمد بن حنبل، آپ رحمہ اللہ کے تمام متقدین و متاخرین اصحاب، امام اسحاق بن راہویہ، امام ابوبکر بن ابی شیبہ، امام سلیمان بن داؤد ہاشمی، امام ابوخیثمہ زہیر بن حرب، اکثر فقہائے کوفہ، جیساکہ امام سفیان ثوری، محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلٰی، امام ابوحنیفہ کے دونوں شاگرد ابویوسف و محمد، امام بخاری، امام ابوداؤد اور جمہور متاخرین فقہائے حدیث، مثلا امام ابن منذر، امام ابن خزیمہ، خطابی اور اہل ظاہر، امام ابوحنیفہ کے اکثر پیروکاروں کا مذہب ہے کہ مزارع اور ٹھیکہ وغیرہ جائزہ ہے۔۔۔۔“ [مجموع الفتاوي لابن تيمية: 95-94/29، القواعد النوانية الفقهية: 163]
◈ شیخ اسلام ثانی، عالم ربانی، امام ابن القیم رحمہ اللہ لکھتے ہیں: «و قال ابن المنذر: قد جائت الأخبار عن رافع بعلل، تدل على أن النهي كان بتلك العلل»
”سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے آنے والی (ٹھیکے کی ممانعت والی) روایات میں کئی وجوہات بیان ہوئی ہیں، جن سے ثابت ہوتا ہے کہ ٹھیکے کی ممانعت انہی وجوہات کی وجہ سے تھی (مطلق طور پر ٹھیکے کا معاملہ حرام نہ تھا)۔“ [حاشية ابن القيم على سنن ابي داود: 186/9]
◈ نیز لکھتے ہیں: «المخابرة التى نهاهم عنها رسول الله صلى الله عليه وسلم هي التى كانوا يفعلونها من المخابرة الظالمة الجائزة، و هي التى جائت مفسرة فى أحاديثهم» ۔
”زمین کے جس معاملے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے، وہ اس معاملے کی وہ صورتیں ہیں، جو ظلم و زیادتی پر منبی تھیں، ان کی وضاحت صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی بیان کردہ احادیث میں آ گئی ہے۔۔“ [حاشية ابن القيم على سنن ابي داوٗد: 193/9]
◈ امام ابن دقیق العید رحمہ اللہ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں: «فيه دليل على جواز كراء الأرض بالذهب والورق، وقد جاءت أحاديث مطلقة فى النهي عن كرائها، وهذا مفسر لذلك الإطلاق»
”اس حدیث میں زمین کو سونے، چاندی (نقدی) کے عوض ٹھیکے پر لینے کا جواز موجود ہے۔ کچھ مطلق احادیث زمین کے ٹھیکے سے ممانعت کے بارے میں آئی ہیں، یہ حدیث اس اطلاق کی تفسیر و تقیید کرتی ہے (یعنی بتاتی ہے کہ ٹھیکہ نا جائز نہیں)۔۔۔۔“ [احكام الاحكام شرح عمدة الاحكام لابن دقيق العيد: ص 380]
↰ معلوم ہوا کہ ٹھیکے کی غلط صورتوں سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا تھا، نہ کہ مطلق ٹھیکے سے، کیونکہ خود راویٔ حدیث سیدنا رافع خدیج رضی اللہ عنہ نے وضاحت فرما دی ہے کہ انصار ٹھیکے کے وقت جگہ مقرر کر لیتے تھے کہ زمین کے اس ٹکڑے کی پیدوار ٹھیکے والے کو اور اس ٹکڑے کی مالک کو ملے گی، یوں کبھی ٹھیکے والے کو نقصان ہو جاتا کبھی مالک کو۔ اسی طرح معاملہ یوں طے پاتا کہ زمین سے پیداوار کم ہو یا زیادہ، مالک نے مقررہ مقدار غلہ لینا ہے۔ اس صورت میں بھی ایک فریق کو نقصان کا خدشہ ہوتا تھا، اس لیے اسے بھی شریعت نے ممنوع ٹھہرایا۔ رہی نقدی کے عوض ٹھیکے کی صورت تو یہ اس دور میں تھی ہی نہیں، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے، لہٰذا یہ ممنوع کیسے ہو سکتی ہے؟ فقہائے کرام اور محدثین عظام کا فہم بھی یہی ہے۔
اس بارے میں حدیث رسول بھی ملاحظہ فرمائیں: ➋ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «إنما يزرع ثلاثة: رجل منح أرضا فهو يزرع ما منح، و رجل له أرض فهو يزرعها، و رجل استكرٰي أرضا بذهب أو فضة۔»
”تین آدمی ہی زمین کاشت کرنے کے اہل ہیں، ایک وہ جس کو کوئی زمین تخفۃ دے دی گئی ہو اور وہ اس میں کاشت کرے اور دوسرا وہ شخص، جس کے پاس اپنی زمین ہو اور وہ اس میں کاشت کرے اور تیسرا وہ شخص، جو زمین کو سونے، چاندی (نقدی) کے عوض ٹھیکے پر حاصل کرتا ہے اور اس میں کاشت کرتا ہے۔“ [سنن النسائي: 3890، مصنف ابن ابي شيبة: 85/7، ح: 22872، السنن الكبرٰي للنسائي: 4617، سنن الدارقطني: 96/3، ح: 145، وسنده حسن]
↰ یہ حدیث ممانعت والی احادیث کے مطلق نہ ہونے پر دلالت کرتی ہے اور صراحت سے بتاتی ہے کہ نقدی کے عوض زمین کے ٹھیکے کا معاملہ بالکل جائز و درست ہے۔
➌ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: «يغفر الله لرافع بن خديج! أنا والله أعلم بالحديث منه، إنما أتي رجلان قد اقتتلا، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم، إن كان هذا شأنكم فلا تكروا المزارع، قال فسمع رافع قوله: لا تكروا المزارع»
”اللہ تعالیٰ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کو معاف فرمائے۔ میں اس (زمین کے ٹھیکے کی ممانعت والی) حدیث کو ان سے بہتر جانتا ہوں۔ دراصل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو آدمی آئے، جو (ٹھیکے والے معاملے میں) لڑ پڑے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اگر تمہاری یہی صورت حال ہے تو پھر زمینوں میں ٹھیکے کا معاملہ نہ کیا کرو۔ سیدنا رافع رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اتنا فرمان ہی سنا تھا کہ زمینوں میں ٹھیکے کا معاملہ نہ کیا کرو (ممانعت کی وجہ نہیں سن سکے)۔“ [مسند الامام احمد: 187/5، سنن ابي داود: 3390، سنن ابن ماجه: 2461، سنن النسائي: 3927، السنن الكبرٰي: 106/3، وسنده حسن]
↰ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ یہ خیال کرتے تھے کہ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ زمین کے کرائے والی حدیث میں ممانعت کو مطلق سمجھتے ہیں اور ان کے نزدیک ہر طرح کا ٹھیکہ ناجائز ہے، اسی لیے ان سے حدیث سن کر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے ٹھیکے کو ترک کر دیا تھا، لیکن ہم پیچھے ذکر کر چکے ہیں کہ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بھی اس حدیث کی ممانعت کو ظلم و زیادتی والی صورتوں کے ساتھ خاص سمجھتے تھے، نقدی کے عوض زمین کے ٹھیکے کو وہ بھی جائز سمجھتے تھے۔ معلوم ہوا کہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے نزدیک بھی یہ حدیث مطلق نہیں اور ہر طرح کا ٹھیکہ ناجائز نہیں۔
➍ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: «كنت أعلم فى عهد النبى صلى الله عليه وسلم أن الأرض تكري، ثم خشي عبدالله أن يكون النبى صلى الله عليه وسلم قد أحدث فى ذلك شيئا لم يكن يعلمه، فترك كراء الأرض»
”میں جانتا ہوں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں زمین ٹھیکے پر لی دی جاتی تھی۔ (سالم بن عبداللہ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ) پھر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ (سیدنا رافع بن خدیج کی حدیث سن کر) اس بات سے ڈر گئے کہ شاید اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی نیا حکم کردیا ہو، لہٰذا انہوں نے زمین کے ٹھیکے کا معاملہ چھوڑ دیا۔“ [صحيح البخاري: 2345، صحيح مسلم: 122/1547]
↰ معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں زمین کے ٹھیکے کا معاملہ ہوتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری عہد تک ہوتا رہا، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے بعد بھی یہ معاملہ کرتے رہے، لیکن جب سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی حدیث ان تک پہنچی تو انہوں نے اسے مطلق سمجھ کر ٹھیکہ چھوڑ دیا، حالانکہ یہ بات بالصراحت گزر چکی ہے کہ اس سے مطلق ممانعت مراد نہیں تھی، بلکہ صرف کچھ خرابی والی صورتوں سے منع کیا گیا تھا۔
➎ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: «إن أمثل ما أنتم صانعون تستأجروالأرض البيصاء بالذهب والورق»
”سب سے بہترین صورت یہ ہے کہ تم خالی زمین کو سونے، چاندی (نقدی) کے عوض کرائے (ٹھیکے) پر حاصل کرو۔“ [مصنف ابن ابي شيبة: 87/7، مصنف عبدالرزاق: 492/4، السنن الكبيٰري للبيهقي: 133/6، صحيح البخاري: قبل 2346، تعليقا، وسنده صحيح]
➏ امام ابن شہاب زہری رحمہ اللہ نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے امام سالم رحمہ اللہ سے زمین کو نقدی کے عوض ٹھیکے پر لینے دینے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: «لا بأس بها بالذهب والورق» ”سونے، چاندی (نقدی) کے عوض ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں۔“ [الموطا للامام مالك: 1392، وسندہ صحيح]
➐ امام ابن شہاب زہری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ”میں نے امام سعید بن مسیب تابعی سے زمین کو سونے، چاندی (نقدی) کے عوض کرائے پر دینے کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا، اس میں کوئی حرج نہیں۔“ [الموطا للامام مالك: 1391، وسندہ صحيح]
➑ امام عبیداللہ بن العمری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ”امام سالم بن عبداللہ بن عمر، امام سعید بن مسیب، امام عروہ زبیر اور امام زہری رحمہ اللہ سب زمین کو سونے، چاندی (نقدی) کے عوض ٹھیکے پر لینے دینے کو کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔“ [مصنف ابن ابي شيبة: 22877، وسنده صحيح]
➒ حجاج بن دینار، امام محمد بن علی بن حسین بن علی ابی طالب، المعروف ابوجعفر الباقر رحمہ اللہ کے بارے میں بیان کرتے ہیں: ”میں نے امام ابوجعفر الباقر رحمہ اللہ سے ایسی خالی زمین کے بارے میں پوچھا:، جس میں کوئی درخت نہ ہو، کیا ہم اسے درہم و دینار کے عوض کرائے پر حاصل کر سکتے ہیں؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا، یہ بہت اچھا کام ہے، ہم مدینہ میں اس طرح کرتے ہیں۔“ [مصنف ابن ابي شيبة: 22881، وسنده حسن]
➓ معاویہ بن ابی اسحاق بیان کرتے ہیں: «سألت سعيد بن جبير عن إجارة الأرض، فقال: لا بأس بها»
”میں نے امام سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے زمین کو ٹھیکے پر لینے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا، اس میں کوئی حرج نہیں۔“ [مصنف ابن ابي شيبة: 22883، وسندہ حسن]
الحاصل:
نقدی کے عوض زمین کے ٹھیکے کا معاملہ بالکل درست ہے، اس میں کوئی شرعی قباحت نہیں ہے۔ حدیث رسول، فہم صحابہ، عمل تابعین اور جمہورامت کے تعامل سے یہی ثابت ہوتا ہے۔
«. . . عن حنظلة بن قيس الزرقي انه سال رافع بن خديج عن كراء الارض، فقال رافع: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عنها، قال: فقلت: بالذهب والورق؟ فقال رافع: اما بالذهب والورق فلا باس به . . .»
”. . . حنظہ بن قیس الزرقی (رحمہ اللہ) نے سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے زمین کے کرائے کے بارے میں پوچھا: تو سیدنا رافع رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔ انہوں نے پوچھا: سونے اور چاندی کے بدلے؟ تو سیدنا رافع رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سونے اور چاندی کے بدلے میں کوئی حرج نہیں ہے . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 503]
تفقہ:
➊ زمین کو رقم کے بدلے میں کرائے پر دینا جائز ہے۔
➋ سالم بن عبداللہ بن عمر رحمہ اللہ سے زمین کے کرائے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: سونے چاندی کے بدلے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ [موطأ امام مالك 2/711 ح1454، وسنده صحيح]
➌ عروہ بن الزبیر رحمہ اللہ اپنی زمین کو سونے چاندی کے بدلے میں کرائے پر دیتے تھے۔ [موطأ امام مالك 2/712 ح1456، وسنده صحيح]
➍ زمین کا ایک خاص حصہ اپنے لئے مقرر کرکے اس کی فصل کے بدلے میں زمین کو کرائے پر دینا جائز نہیں ہے۔ دیکھئے ح: 158
➎ زمین کو آدھ (نصف) یا چوتھائی وغیرہ حصے پر کاشت کے لئے دینا جائز ہے۔
منع وہی مزارعت ہے جس میں دھوکہ ہو مثلاً کسی خاص مقام کی پیداوار پر۔
(1)
بعض حضرات نے نقدی کے عوض زمین کو ٹھیکے پر دینا بھی منع قرار دیا ہے۔
ان کی دلیل جامع ترمذی کی ایک روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے زمین کی کچھ پیداوار یا دراہم کے عوض زمین اجرت پر دینے سے منع فرمایا۔
(جامع الترمذي، الأحکام، حدیث: 1384)
لیکن امام ترمذی ؒ نے خود اس حدیث کو مضطرب قرار دیا ہے۔
امام نسائی ؒ نے بھی اسے معلول قرار دیا ہے کہ اس روایت میں حضرت مجاہد کا سماع حضرت رافع ؓ سے ثابت نہیں۔
حافظ ابن حجر ؒنے بھی اسے ضعیف قرار دیا ہے۔
(فتح الباري: 32/5) (2)
ہمارے ہاں پٹے پر زمین لینے دینے کی مروجہ صورت جائز اور صحیح ہے۔
جس بٹائی کو حرام قرار دیا گیا ہے وہ وہی ہے جس میں کسی خاص رقبے کی پیداوار کو مالک یا کاشتکار کے لیے نامزد کر دیا جاتا ہے یا متعین مقدار غلہ پر معاملہ طے ہوتا ہے۔
اس میں نقصان اور دھوکا دونوں خرابیاں ہیں۔
حضرت لیث نے بھی صراحت کی ہے کہ مزارعت کی وہ صورت ممنوع ہے جس میں دھوکا وغیرہ ہو۔
یہ بات اگرچہ کسی نص سے ثابت نہیں لیکن اہل فہم اپنی فہم سے اس کی حرمت کا ادراک کر سکتے ہیں۔
بہرحال جمہور کے نزدیک کراء الارض کی نص اس بات پر محمول ہے کہ جس میں دھوکا اور جہالت ہو، مطلق طور پر مزارعت منع نہیں ہے اور نہ درہم و دینار، یعنی نقدی ہی کے عوض زمین لینا دینا ممنوع ہے۔
اس سلسلے میں ایک حدیث بھی بیان کی جاتی ہے کہ زمین تو تین آدمی ہی کاشت کر سکتے ہیں: ایک وہ جس کی اپنی زمین ہو، دوسرا وہ جسے بطور عطیہ یا عاریتاً ملی ہو، تیسرا وہ جس نے سونے چاندی کے عوض ٹھیکے پر لی ہو۔
(سنن أبي داود، البیوع، حدیث: 3400)
لیکن امام نسائی ؒ نے وضاحت کی ہے کہ مرفوع حدیث میں صرف محاقلہ اور مزابنہ کی ممانعت ہے، اس کے بعد والا مذکورہ کلام مدرج ہے اور انہوں نے اسے سعید بن مسیب کا کلام قرار دیا ہے۔
(سنن النسائي، البیوع، حدیث: 3921)
امام مالک نے بھی مؤطا میں اسے سعید بن مسیب کا کلام کہا ہے۔
(فتح الباري: 33/5)
حالانکہ آنحضرت ﷺ نے جس سے منع فرمایا تھا وہ زمین ہی کی پیدا وار پر کرایہ کو دینے سے یعنی مخصوص قطعہ کی بٹائی سے منع فرمایا تھا۔
لیکن نقدی ٹھہراؤسے آپ نے منع نہیں فرمایا وہ درست ہے۔
اس کی بحث کتاب المزارعہ میں گزرچکی ہے۔
حدیث میں بدری صحابیوں کا ذکر ہے۔
علامہ قسطلانی لکھتے ہیں: وکانوا یکرون الأرض بما ینبت فیھا علی الأربعاء وھو النھر الصغیر أو شيئ لیستثنیه صاحب الأرض من المزارع لأجله فنھی رسول اللہ صلی اللہ علیه و سلم عن ذلك لما فیه من الجھل۔
(قسطلانی)
یعنی اہل عرب زمین کو بایں طور کرایہ پر دیتے کہ نالیوں کے پاس والی زراعت کو یا خاص خاص قطعات ارضی کو اپنے لیے خاص کر لیتے اس کو رسول کریم ﷺ نے منع فرمایا۔
1۔
حضرت رافع ؓ کے دونوں چچا ظہیر اور مظہرہیں جو رافع بن عدی بن یزید انصاری کے بیٹے ہیں۔
یہ دونوں غزوہ بدر میں شریک تھے جیسا کہ روایت میں صراحت ہے لیکن علامہ دمیاطی نے اس کا انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دونوں غزوہ احد میں شریک تھے۔
انھوں نے ابن سعد کی روایات پر اعتماد کرتے ہوئے ایسا کہا ہے حالانکہ ان کا غزوہ بدر میں شریک ہونا صحیح روایات سے ثابت ہے۔
ان کا انکار مبنی بر حقیقت نہیں۔
(فتح الباري: 400/7)
2۔
مزارعت اور ٹھیکے کے متعلق مکمل بحث کتاب البیوع میں گزر چکی ہے۔
ایک مخصوص حصے کی پیداوار لینے پر زمین کرائے پر دینا منع ہے لیکن پیسوں کے عوض کرائے پر زمین لینے سے رسول اللہ ﷺ نے منع نہیں فرمایا، چونکہ پہلی قسم باعث اختلاف ہو سکتی تھی۔
اس لیے رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع فرما دیا۔
واللہ اعلم۔
اسی لیے ایسی شرطیں لگانا مکروہ قرار دیا گیا۔
(1)
اگر معاملے میں کوئی شرط فاسد ہو یا نقصان اور دھوکے کا باعث ہو تو ایسا معاملہ ناجائز قرار پاتا ہے جیسا کہ مزارعت کی مذکورہ صورت میں ہے کہ آپ زمین کا ایک حصہ مخصوص کر لیں اور دوسرا حصہ مزارع کے لیے مخصوص کر دیں، یعنی اس کی پیداوار وہ لے گا۔
یہ شرط جھگڑے کا باعث تھی کیونکہ بسا اوقات ایک حصے میں فصل ہوتی اور دوسرے حصے میں کچھ نہ ہوتا، جب رسول اللہ ﷺ کے پاس بکثرت اس قسم کے مقدمات آنے لگے تو آپ نے اس سے منع فرما دیا۔
(2)
ہمارے نزدیک مزارعت کی شرائط یہ ہیں: ٭ معاملہ کرنے والے دونوں عاقل ہوں، اپنی مرضی سے یہ عقد کریں اور ان کا بالغ ہونا ضروری نہیں۔
٭ جو زمین مزارعت کے لیے دی جائے وہ بنجر نہ ہو بلکہ قابل کاشت ہو کیونکہ بنجر زمین کا معاملہ دوسری نوعیت کا ہے۔
٭ مالک اور مزارع دونوں اپنا اپنا حصہ طے کر لیں کہ کس کو کتنا ملے گا؟ دونوں میں سے کوئی بھی اپنے لیے وزن یا کھیت مخصوص نہ کرے۔
٭ زمین، ہل، بیل، بیج اور پانی کے بارے میں روز اول سے طے ہونا چاہیے کہ کون سی چیز کس کے ذمے ہو گی۔
٭ زمین خالی کر کے کاشتکار کے حوالے کی جائے، کھڑی فصل والی زمین مزارعت کے لیے دینا محل نظر ہے۔
٭ بٹائی پر دینے کے بعد فریقین کو طے شدہ حصے کے مطابق پیداوار میں شریک رہنا ہو گا۔
شاید اس قطعہ میں کچھ پیدا نہ ہو۔
(1)
مزارعت میں یہ شرط منع ہے کہ فلاں ٹکڑے کی پیداوار ہم لیں گے اور دوسرے ٹکڑے کی پیداوار سے تم فائدہ اٹھاؤ کیونکہ اس میں دھوکے کا امکان ہے۔
شاید اس ٹکڑے میں پیداوار نہ ہو جو مزارع کو دیا گیا ہے۔
ایسی شرط جس کی رو سے زمین کے ایک حصے کی پیداوار مالک لے اور مزارع محروم رہے، ناجائز ہے۔
(2)
مزارعت کی دو صورتیں جائز ہیں: ایک یہ کہ سونے چاندی یا روپے کے عوض اسے ٹھیکے پر دے دیا جائے۔
دوسرا یہ کہ نصف یا ثلث پیداوار پر کاشت کے لیے دی جائے کہ اس زمین سے جو بھی پیداوار ہو طے شدہ حصے کے مطابق اسے تقسیم کر لیا جائے گا۔
کسی خاص ٹکڑے کی پیداوار کا تعین نہ کیا جائے تو ایسا کرنا جائز ہے۔
جس شرط کے مطابق مالک اور مزارع میں سے کسی ایک کو نقصان اٹھانا پڑے وہ شرعاً جائز نہیں۔
منع وہی مزارعت ہے جس میں دھوکہ ہو مثلاً کسی خاص مقام کی پیداوار پر۔
(1)
بعض حضرات نے نقدی کے عوض زمین کو ٹھیکے پر دینا بھی منع قرار دیا ہے۔
ان کی دلیل جامع ترمذی کی ایک روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے زمین کی کچھ پیداوار یا دراہم کے عوض زمین اجرت پر دینے سے منع فرمایا۔
(جامع الترمذي، الأحکام، حدیث: 1384)
لیکن امام ترمذی ؒ نے خود اس حدیث کو مضطرب قرار دیا ہے۔
امام نسائی ؒ نے بھی اسے معلول قرار دیا ہے کہ اس روایت میں حضرت مجاہد کا سماع حضرت رافع ؓ سے ثابت نہیں۔
حافظ ابن حجر ؒ نے بھی اسے ضعیف قرار دیا ہے۔
(فتح الباري: 32/5)
(2)
ہمارے ہاں پٹے پر زمین لینے دینے کی مروجہ صورت جائز اور صحیح ہے۔
جس بٹائی کو حرام قرار دیا گیا ہے وہ وہی ہے جس میں کسی خاص رقبے کی پیداوار کو مالک یا کاشتکار کے لیے نامزد کر دیا جاتا ہے یا متعین مقدار غلہ پر معاملہ طے ہوتا ہے۔
اس میں نقصان اور دھوکا دونوں خرابیاں ہیں۔
حضرت لیث نے بھی صراحت کی ہے کہ مزارعت کی وہ صورت ممنوع ہے جس میں دھوکا وغیرہ ہو۔
یہ بات اگرچہ کسی نص سے ثابت نہیں لیکن اہل فہم اپنی فہم سے اس کی حرمت کا ادراک کر سکتے ہیں۔
بہرحال جمہور کے نزدیک کراء الارض کی نص اس بات پر محمول ہے کہ جس میں دھوکا اور جہالت ہو، مطلق طور پر مزارعت منع نہیں ہے اور نہ درہم و دینار، یعنی نقدی ہی کے عوض زمین لینا دینا ممنوع ہے۔
اس سلسلے میں ایک حدیث بھی بیان کی جاتی ہے کہ زمین تو تین آدمی ہی کاشت کر سکتے ہیں: ایک وہ جس کی اپنی زمین ہو، دوسرا وہ جسے بطور عطیہ یا عاریتاً ملی ہو، تیسرا وہ جس نے سونے چاندی کے عوض ٹھیکے پر لی ہو۔
(سنن أبي داود، البیوع، حدیث: 3400)
لیکن امام نسائی ؒ نے وضاحت کی ہے کہ مرفوع حدیث میں صرف محاقلہ اور مزابنہ کی ممانعت ہے، اس کے بعد والا مذکورہ کلام مدرج ہے اور انہوں نے اسے سعید بن مسیب کا کلام قرار دیا ہے۔
(سنن النسائي، البیوع، حدیث: 3921)
امام مالک نے بھی مؤطا میں اسے سعید بن مسیب کا کلام کہا ہے۔
(فتح الباري: 33/5)
بعض نے نام مظہر لکھا ہے۔
بلاط: اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں پتھر بچھائے گئے ہوں، یا اینٹیں لگائی گئی ہوں۔
اس لیے ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما نے ان کی بیعت نہیں کی تھی۔
ان کا موقف یہ تھا بیعت اس خلیفہ کی ہو سکتی ہے، جس پر سب لوگ متفق ہو جائیں۔
اس لیے انہوں نے یزید بن معاویہ کی بیعت تو کر لی تھی لیکن اس کی وفات کے بعد، حضرت عبداللہ بن زبیر یا مروان کی بیعت نہیں کی۔
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت کے بعد عبدالملک کی بیعت کر لی، عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ کی زندگی میں اس کی بیعت بھی نہیں کی تھی، نیز اتنا طویل عرصہ تک ان کا مزارعت پر زمین دینا کسی صحابہ کا ان پر اعتراض نہ کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ مزارعت کی ہر صورت ناجائز نہیں ہے۔
اس لیے وہ یہ کہتے تھے کہ یہ رافع بن خدیج رضی اللہ تعالی عنہ کا زعم یا گمان ہے۔
اس لیے وہ بعض دفعہ فرماتے کہ رافع نے ہمیں، ہماری زمینوں کے نفع سے محروم کر دیا ہے۔
لیکن آخر کار انہوں نے احتیاط کے طور پر اس کو چھوڑ دیا اور دوسرے طریقہ سے فائدہ اٹھایا۔
سالم بن عبداللہ بن عمر نے خبر دی کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنی زمین بٹائی پر دیا کرتے تھے، پھر جب انہیں یہ خبر پہنچی کہ رافع بن خدیج انصاری رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زمین کو بٹائی پر دینے سے روکتے تھے، تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ان سے ملے، اور کہنے لگے: ابن خدیج! زمین کو بٹائی پر دینے کے سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کیا حدیث بیان کرتے ہیں؟ رافع رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن عمر سے کہا: میں نے اپنے دونوں چچاؤں سے سنا ہے اور وہ دونوں جنگ بدر میں شریک تھے، وہ گھر والوں سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ رسول ا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3394]
1۔
حق یہی ہے کہ دور نبوت خلافت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ایام عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں یہودیوں کو خیبر سے نکالے جانے کے وقت تک خیبر کی زمینیں اور باٖغات بٹائی پر ان یہودیوں ہی کو دیے جاتے رہے تھے۔
2۔
مزارعت سے ممانعت کی احادیث تنزیہ اور استحباب پر محمول ہیں۔
یا ان ممنوعہ صورتوں سے متعلق ہیں۔
جن کا ذکر پیچھے ہوا ہے۔
علی الاطلاق مزارعت ممنوع ہوتی تو جلیل لقدر معروف صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمیعن یہ معاملہ ہرگز نہ کرتے۔
3۔
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ تعالیٰ عنہ جن سے مزارعت کی اجمالی ممانعت مروی ہے۔
خود انہی سے یہ وضاحت بھی مروی ہے۔
کہ نقدی کے عوض زمین کرائے پر دینے کی ممانعت نہیں۔
4۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اس عمل سے باز آجانا احتیاط وتقویٰ کی بنا پر تھا۔
اور انہیں حضرت رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مجمل حدیث کا علم حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں ہوا تھا۔
5۔
بعض محدثین کا ان روایات کو مضطرب کہنا محل نظر ہے۔
احادیث واضح کردیتی ہیں کہ یہ اضطراب نہیں محض اجمال اورتفصیل کا فرق ہے۔
تفصیل کےلئے دیکھئے۔
(إرواء الغلیل، بحث، حدیث: 1478)
عثمان بن سہل بن رافع بن خدیج کہتے ہیں میں رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے زیر پرورش ایک یتیم تھا، میں نے ان کے ساتھ حج کیا تو میرے بھائی عمران بن سہل ان کے پاس آئے اور کہنے لگے: ہم نے اپنی زمین دو سو درہم کے بدلے فلاں شخص کو کرایہ پر دی ہے، تو انہوں نے (رافع نے) کہا: اسے چھوڑ دو (یعنی یہ معاملہ ختم کر لو) کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کرایہ پر دینے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3401]
یہ روایت سندا ضعیف ہے۔
خود حضرت رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مزارعت کی جس صورت کے ممنوع ہونے کی خبر دی ہے۔
یہ ایسی ہی صورت پردی گئی ہوگی، اس لئے اسے منسوخ کرا دیا۔
نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنے کھیت کرایہ پر اٹھاتے تھے، یہاں تک کہ معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت کے آخری دور میں انہیں معلوم ہوا کہ اس سلسلے میں رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ممانعت نقل کرتے ہیں تو وہ ان کے پاس آئے، میں ان کے ساتھ تھا، انہوں نے رافع سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھیتوں کو کرائے پر دینے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3942]
حنظلہ بن قیس انصاری کہتے ہیں کہ میں نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے دینار اور چاندی کے بدلے زمین کو کرائے پر دینے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لوگ اس پیداوار کے بدلے کرائے دیا کرتے تھے جو کیاریوں اور نالیوں کے اوپر پیدا ہوتی ہے، تو کبھی اس جگہ پیداوار ہوتی اور دوسری جگہ نہیں ہوتی اور کبھی یہاں نہیں ہوتی۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3930]
(2) گویا منع فرمانے کی وجہ وہ ظالمانہ شرائط تھیں جن کی بنا پر مزارع کو سراسر نقصان ہوتا تھا کہ زمین میں سے اچھے حصوں کی فصل مالک اپنے لیے خاص کرلیتے تھے اور ناکارہ حصوں کی فصل پر مزارع کو ٹرخا دیا جاتا تھا۔ چونکہ یہ ظلم تھا‘ لہٰذا شریعت نے اس سے منع فرما دیا۔ اگر کوئی ظالمانہ شرط نہ ہو تو بٹائی میں کوئی حرج نہیں۔ (دیکھیے‘ حدیث:3925)
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے چچا نے مجھ سے بیان کیا کہ وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اس کے بدلے زمین کو بٹائی پر دیتے تھے جو پانی کی کیاریوں پر پیدا ہوتا تھا اور تھوڑی سی اس پیداوار کے بدلے جو زمین کا مالک مستثنی (الگ) کر لیتا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے روک دیا۔ میں نے رافع رضی اللہ عنہ سے کہا: تو دینار اور درہم سے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3929]
(2) ”کوئی حرج نہیں۔“ حرج تو بٹائی میں بھی کوئی نہیں اگر اس میں کوئی ظلم والی شرط نہ ہو‘ البتہ فالتو زمین والے کے لیے بہتر ہے کہ وہ فالتو زمین ٹھیکے یا بٹائی کی بجائے کسی غریب بھائی کو سال دو سال کے لیے ویسے ہی کاشت کرنے کے لیے دے دے۔
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسی بات سے روک دیا جو ہمارے لیے نفع بخش اور مفید تھی، آپ کا حکم سر آنکھوں پر، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں زمین کو اس کی کچھ پیداوار کے بدلے کرائے پر دینے سے منع فرمایا۔ ابراہیم بن مہاجر نے ابوحصین کی متابعت کی ہے (ان کی روایت آگے آ رہی ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3899]
۱؎: یعنی شعیب کی موافقت کی ہے اور یہ موافقت اس طرح ہے کہ زھری اور رافع کے درمیان سالم کا ذکر نہیں ہے جب کہ مالک اور عقیل نے سالم کا ذکر کیا ہے۔ شرافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کرائے پر دینے سے منع فرمایا۔ زہری کہتے ہیں: اس کے بعد رافع رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: وہ لوگ زمین کو کرائے پر کیوں کر اٹھاتے تھے؟ وہ بولے: غلے کی متعینہ مق۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3938]
(2) یہ صورتیں تو قطعاً منع ہیں کیونکہ ایسی شرائط صریح ظلم ہیں اور ان میں مزارع کا واضح طور پر نقصان ہے جسے شریعت جائز قرار نہیں دے سکتی تھی‘ البتہ زمین عام بٹائی پر دینا جائز ہے۔
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں زمین میں بٹائی کا معاملہ کرتے تھے، ہم اسے تہائی یا چوتھائی یا غلہ کی متعینہ مقدار کے عوض کرائیے پر دیتے تھے۔ تو ایک دن میرے ایک چچا آئے اور انہوں نے کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے معاملے سے روک دیا جو ہمارے لیے نفع بخش اور مفید تھا، لیکن اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ہمارے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3926]
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ و مزابنہ سے منع فرمایا ہے۔ اسے قاسم بن محمد نے بھی رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3917]
عثمان بن مرہ کہتے ہیں کہ میں نے قاسم سے بٹائی پر کھیت دینے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا ہے۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی نے دوسری مرتبہ (روایت کرتے ہوئے) کہا۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3918]
(2) راویوں کا اختلاف بیان کیا جا رہا ہے۔ کسی نے کسی صحابی کا نام لیا‘ کسی نے کسی کا۔ ممکن ہے سب سے راویت آتی ہو۔
عثمان بن مرہ کہتے ہیں کہ میں نے قاسم سے زمین کرائے پر دینے کے سلسلے میں پوچھا تو وہ بولے: رافع بن خدیج نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کرائے پر اٹھانے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔ اس حدیث کی روایت میں سعید بن مسیب پر اختلاف واقع ہوا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3919]
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، اور (اس روایت میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے رویت کرنے والے) عمرو بن دینار سے روایت میں ان کے شاگردوں نے اختلاف کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3947]
ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عمرو بن دینار کو کہتے سنا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو سنا اور وہ مخابرہ کے بارے میں پوچھ رہے تھے تو وہ کہہ رہے تھے کہ ہم اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے یہاں تک کہ ہمیں رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے (خلافت یزید کے) پہلے سال ۱؎ میں خبر دی کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخابرہ سے منع فرماتے سنا ہے۔ ان دونوں ([سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3949]
(2) ’’پہلے سال‘‘ حدیث:3942 میں گزر چکا ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی خَافت کے آخری دنوں کی یہ بات ہے‘ لہٰذا یہاں پہلے سال سے مراد یہ ہوسکتا ہے کہ یزید کی حکومت کا پہلا سال ہو یا حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی حکومت کا۔ واللہ اعلم۔
سالم بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنی زمین کرائے پر اٹھاتے تھے، یہاں تک کہ انہیں معلوم ہوا کہ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ زمین کو کرائے پر اٹھانے سے روکتے ہیں، تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ان سے ملاقات کی اور کہا: ابن خدیج! زمین کو کرائے پر اٹھانے کے بارے میں آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا نقل کرتے ہیں؟ تو رافع رضی اللہ عنہ نے عب۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3935]
عمرو بن دینار کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا: ہم مخابرہ میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ یہاں تک کہ جب پہلا سال ہوا تو رافع رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے روکا ہے۔ «عارم» محمد بن فضل نے یحییٰ بن عربی کی مخالفت کی ہے۔ اور اسے بسند «عن حماد عن عمرو عن جابر» روایت کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3950]
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کھیتوں کو کرائیے پر دیتے تھے، ان سے کہا گیا کہ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے روکا ہے۔ نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما مقام بلاط کی طرف نکلے، میں ان کے ساتھ تھا، تو آپ نے رافع رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ہاں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھیتوں کو کرا [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3943]
(2) بلاط، مسجد نبوی اور بازار کے درمیان ایک جگہ کا نام تھا اور جہاں لوگ اکٹھے ہوتے تھے۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم مزارعت (بٹائی کھیتی) کیا کرتے تھے، اور اس میں کوئی حرج نہیں محسوس کرتے تھے، یہاں تک کہ ہم نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے تو پھر ہم نے ان کے کہنے سے اسے چھوڑ دیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2450]
فوائد و مسائل:
(1) (مخابرہ)
کا مطلب یہ ہے کہ ایک آدمی كى زمین ہو اوردوسرا اس میں کاشت کاری کرے اوران کے درمیان یہ معاہدہ ہو جائے کہ پیداوار میں سے اتنا حصہ کاشت کارکا ہے اوراتنا حصہ زمیں دار کا۔
اس کی جائز صورت یہ ہے کہ کل پیداوار میں سے حصہ مقرر کیا جائے مثلاً کل پیداوار کا نصف کاشت کارکا ہوگا ورنصف زمین کےمالک کا، یا ایک حصہ مزارع کا ہوگا اوردوحصے زمیندار کے۔
ممنوع صورت یہ ہے کہ کھیت کے فلاں حصے کے پیداوار مزارع کی ہوگی اورفلاں حصے کی پیداوار زمیندار کی۔ (دیکھیے حدیث: 2458)
(2)
ضرورت سے زائد زمین بغیر کسی معاوضے کے کسی ضرورت مند کو کاشت کےلیے دے دینا افضل ہے یعنی مالک اس کی پیداوار میں سے کچھ نہ لے۔
یہ بھی ایک قسم کا صدقہ ہے۔
(3)
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبئ اکرم ﷺکے ارشادات کی تعمیل میں کوتاہی نہیں کرتےتھے۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ اپنی زمین کرایہ پر کھیتی کے لیے دیا کرتے تھے، ان کے پاس ایک شخص آیا اور انہیں رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ والی حدیث کی خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھیتوں کو کرائیے پر دینے سے منع کیا ہے، یہ سن کر ابن عمر رضی اللہ عنہما چلے اور میں بھی ان کے ساتھ چلا یہاں تک کہ بلاط میں رافع رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، اور ان سے اس حدیث کے متعلق سوال کیا، تو انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھیتوں کو کرائیے پر دینے سے منع کیا ہے، اس پر عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ان زمینوں کو کرایہ پر دینا چھوڑ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2453]
فوائد و مسائل:
(1)
کرائے پر دینے کا مطلب یہ ہے کہ کاشتکار سےایک مقررہ رقم پرمعاہدہ ہوجائے۔
وہ کاشت کرے اورپیداوار حاصل ہونے پرمقررہ رقم زمین کے مالک کو دے دے باقی اس کی اپنی آمدنی ہے۔
(2)
کرایہ نہ لینا اورکاشتکار کو بلا معاوضہ کاشت کرنے دینا افضل ہے رسول اللہ کی ممانعت افضل صورت کی ترغیب کےلیے ہے ویسے زمین کا کرایہ لینا جائزہے۔ (دیکھیے حدیث: 2456)
زمانہ جاہلیت میں مزارعت کی بعض ایسی صورتیں رائج تھیں جواسلام میں ممنوع ہیں۔
ان سے پرہیز کرنا چاہیے۔ (دیکھیےحدیث: 2458، 2460)
(3)
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مشکوک معاملات میں احتیاط سےکام لیتےتھے اورایسے کام سے پرہیز کرتےتھے جس میں کسی قسم کا شبہ ہو۔
نبی اکرمﷺ نےفرمایا جوشخص شبہ والی چیزوں سےبچ گیا اس نےاپنے دین اوراپنی عزت کوبچا لیا۔ (صحیح البخاري، الإیمان، باب فضل من استبرالدینه حدیث: 52، وصحیح مسلم، المساقاۃ، باب أخذ الحلال وترک الشبھات حدیث: 1599)
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ بیع و مزابنہ سے منع کیا، اور فرمایا: ” کھیتی تین آدمی کریں: ایک وہ جس کی خود زمین ہو، وہ اپنی زمین میں کھیتی کرے، دوسرے وہ جس کو زمین (ہبہ یا مستعار) دی گئی ہو، تو وہ اس دی گئی زمین میں کھیتی کرے، تیسرے وہ جو سونا یا چاندی (نقد) دے کر زمین ٹھیکے پر لے لے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2449]
فوائد و مسائل:
(1)
محاقلہ اورمزابنہ کی تشریح کےلیےدیکھیےحدیث: 2265 کا فائدہ نمبر: 2۔
(2)
جس طرح غریب آدمی کی مدد کےلیے نقد رقم دی جاسکتی ہے اسی طرح اسے زمین کا ٹکڑا بھی دیا جا سکتا ہے تاکہ وہ کاشت کر کے رزق حلال حاصل کرے اوریہ اس کےلیے آمدنی کا مستقل ذریعہ بن جائے۔
(3)
زمین بٹائی پرلینا یا دینا جائز ہے اس میں رقم اورمدت کا تعین وضاحت سے ہو جانا چاہیے تاکہ بعد میں اختلاف نہ ہو۔
(4)
سونے چاندی سے مراد نقد رقم ہے کیونکہ اُس دورمیں سونے کا سکہ (دینار)
اورچاندی کا سکہ(درہم)
رائج تھے۔