صحيح البخاري
كتاب الصوم— کتاب: روزے کے مسائل کا بیان
بَابُ صِيَامِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ باب: اس بارے میں کہ عاشوراء کے دن کا روزہ کیسا ہے؟
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَوْمَ عَاشُورَاءَ ، عَامَ حَجَّ عَلَى الْمِنْبَرِ ، يَقُولُ : يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ ، أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " هَذَا يَوْمُ عَاشُورَاءَ ، وَلَمْ يَكْتُبْ اللَّهُ عَلَيْكُمْ صِيَامَهُ ، وَأَنَا صَائِمٌ ، فَمَنْ شَاءَ فَلْيَصُمْ ، وَمَنْ شَاءَ فَلْيُفْطِرْ " .´ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا ، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا ، ان سے حمید بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا کہ` انہوں نے معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما سے عاشوراء کے دن منبر پر سنا ، انہوں نے کہا کہ اے اہل مدینہ ! تمہارے علماء کدھر گئے ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا کہ یہ عاشوراء کا دن ہے ۔ اس کا روزہ تم پر فرض نہیں ہے لیکن میں روزہ سے ہوں اور اب جس کا جی چاہے روزہ سے رہے ( اور میری سنت پر عمل کرے ) اور جس کا جی چاہے نہ رہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
تفقه:
➊ اس مسئلے میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ عاشوراء کا روزہ رکھنا سنت اور افضل ہے لیکن فرض و واجب نہیں ہے۔ [ديكهئے التمهيد 203/7]
➋ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشوراء کے بارے میں فرمایا: «أَحْتَسِبُ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ» مجھے اللہ سے یہ امید ہے کہ اس کے ذریعے سے گزشتہ سال کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ [صحيح مسلم:1162]
➌ عاشوراء میں یہودیوں کی مخالفت والی حدیث کے راوی سيدنا عبدالله بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا:«صوموا التاسع والعاشر و خالفوا اليهود» نو اور دس کا روزہ رکھو اور یہودیوں کی مخالفت کرو۔ [السنن الكبري للبيهقي 287/4 وسنده صحيح، مصنف عبدالرزاق:7839]
➍ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ حدیث رسول سے اتنا پیار کرتے تھے کہ منبر پر بھی اشاعۃ الحدیث میں مصروف رہتے تھے۔ معلوم ہوا کہ صحابہ کرام حدیث کو حجت سمجھتے تھے۔ رضی اللہ عنہم اجمعین
➎ علماء کو سنت کی ترویج کے لئے ہمہ وقت کوشاں رہنا چاہئے۔
➏ اچھے حکمران علماء کو اشاعت علم کی ترغیب دلاتے اور اس میں معاونت کرتے ہیں۔
یہ ان کی خلافت کا پہلا حج تھا۔
اور اخیر حج ان کا 57ھ میں ہوا تھا۔
حافظ کے خیال کے مطابق یہ تقریر ان کے آخری حج میں تھی۔
حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف کہتے ہیں کہ میں نے معاویہ رضی اللہ عنہ کو عاشوراء کے دن منبر پر کہتے سنا: ” اے مدینہ والو! تمہارے علماء کہاں ہیں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس دن میں کہتے ہوئے سنا کہ میں روزہ سے ہوں تو جو روزہ رکھنا چاہے وہ رکھے۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2373]