صحيح البخاري
كتاب الصوم— کتاب: روزے کے مسائل کا بیان
بَابُ صِيَامِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ: باب: ایام تشریق کے روزے رکھنا۔
حدیث نمبر: 1996
وَقَالَ لِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي ، " كَانَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَصُومُ أَيَّامَ التَّشْرِيقِ بِمِنًى ، وَكَانَ أَبُوهَا يَصُومُهَا .مولانا داود راز
´ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) فرماتے ہیں کہ مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا ، ان سے ہشام نے بیان کیا کہ` مجھے میرے باپ عروہ نے خبر دی کہ عائشہ رضی اللہ عنہا ایام منی ( ایام تشریق ) کے روزے رکھتی تھیں اور ہشام کے باپ ( عروہ ) بھی ان دنوں میں روزہ رکھتے تھے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا داود راز
1996. حضرت عروہ بن زبیر ؓ سے روایت ہے انھوں نے کہا کہ حضرت عائشہ ؓ ایام منیٰ(ایام تشریق) میں روزے رکھاکرتی تھیں اور ہشام کے باپ حضرت عروہ بھی ان ایام میں روزے رکھتے تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:1996]
حدیث حاشیہ: منیٰ میں رہنے کے دن وہی ہیں جن کو ایام تشریق کہتے ہیں یعنی 11,12,13ذی الحجہ کے ایام۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1996 سے ماخوذ ہے۔
✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
1996. حضرت عروہ بن زبیر ؓ سے روایت ہے انھوں نے کہا کہ حضرت عائشہ ؓ ایام منیٰ(ایام تشریق) میں روزے رکھاکرتی تھیں اور ہشام کے باپ حضرت عروہ بھی ان ایام میں روزے رکھتے تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:1996]
حدیث حاشیہ:
(1)
ایام منیٰ سے مراد ایام تشریق گیارہ، بارہ اور تیرہ ذوالحجہ ہے۔
چونکہ ان دنوں قربانی کا گوشت کاٹ کر دھوپ میں ڈالا جاتا تھا تاکہ خشک ہو جائے، اس مناسبت سے انہیں ایام تشریق کہا جاتا ہے۔
(2)
امام بخاری ؒ کا رجحان یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر تمتع کرنے والے کو قربانی دستیاب نہ ہو تو وہ ایام تشریق میں تین روزے رکھ سکتا ہے باقی سات اپنے گھر واپس جا کر رکھ لے، البتہ دیگر ائمہ کے نزدیک ان ایام میں روزہ رکھنا جائز نہیں۔
ان کے نزدیک اگر تمتع کرنے والے کو قربانی نہ ملے تو وہ بھی ان دنوں میں روزے نہ رکھے اور نہ کوئی دوسرا شخص روزے رکھ سکتا ہے۔
حافظ ابن حجر نے لکھا ہے: امام بخاری ؒ کے نزدیک حج تمتع کرنے والا جسے قربانی میسر نہ ہو وہ ان دنوں میں روزے رکھ لے کیونکہ انہوں نے حضرت عائشہ ؓ کا عمل پیش کیا ہے جس سے ان کے رجحان کا پتہ چلتا ہے۔
(فتح الباري: 307/4)
(1)
ایام منیٰ سے مراد ایام تشریق گیارہ، بارہ اور تیرہ ذوالحجہ ہے۔
چونکہ ان دنوں قربانی کا گوشت کاٹ کر دھوپ میں ڈالا جاتا تھا تاکہ خشک ہو جائے، اس مناسبت سے انہیں ایام تشریق کہا جاتا ہے۔
(2)
امام بخاری ؒ کا رجحان یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر تمتع کرنے والے کو قربانی دستیاب نہ ہو تو وہ ایام تشریق میں تین روزے رکھ سکتا ہے باقی سات اپنے گھر واپس جا کر رکھ لے، البتہ دیگر ائمہ کے نزدیک ان ایام میں روزہ رکھنا جائز نہیں۔
ان کے نزدیک اگر تمتع کرنے والے کو قربانی نہ ملے تو وہ بھی ان دنوں میں روزے نہ رکھے اور نہ کوئی دوسرا شخص روزے رکھ سکتا ہے۔
حافظ ابن حجر نے لکھا ہے: امام بخاری ؒ کے نزدیک حج تمتع کرنے والا جسے قربانی میسر نہ ہو وہ ان دنوں میں روزے رکھ لے کیونکہ انہوں نے حضرت عائشہ ؓ کا عمل پیش کیا ہے جس سے ان کے رجحان کا پتہ چلتا ہے۔
(فتح الباري: 307/4)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1996 سے ماخوذ ہے۔