صحيح البخاري
كتاب الصوم— کتاب: روزے کے مسائل کا بیان
بَابُ الصَّوْمِ يَوْمَ النَّحْرِ: باب: عیدالاضحی کے دن کا روزہ رکھنا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، فَقَالَ رَجُلٌ : نَذَرَ أَنْ يَصُومَ يَوْمًا ، قَالَ : أَظُنُّهُ قَال : الِاثْنَيْنِ ، فَوَافَقَ ذَلِكَ يَوْمَ عِيدٍ ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : " أَمَرَ اللَّهُ بِوَفَاءِ النَّذْرِ ، وَنَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَوْمِ هَذَا الْيَوْمِ " .´ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے معاذ بن معاذ عنبری نے بیان کیا ، کہا کہ ہم کو عبداللہ بن عون نے خبر دی ، ان سے زیاد بن جبیر نے بیان کیا کہ` ایک شخص ابن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ ایک شخص نے ایک دن کے روزے کے نذر مانی ۔ پھر کہا کہ میرا خیال ہے کہ وہ پیر کا دن ہے اور اتفاق سے وہی عید کا دن پڑ گیا ۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے تو نذر پوری کرنے کا حکم دیا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن روزہ رکھنے سے ( اللہ کے حکم سے ) منع فرمایا ہے ۔ ( گویا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کوئی قطعی فیصلہ نہیں دیا ) ۔
تشریح، فوائد و مسائل
یعنی اس روایت میں عید کی وضاحت نہیں ہے کہ وہ کون سی عید تھی اور یہاں باب کا اقتضاءعیدالاضحی ہے سو اس کی تصریح یزید بن زریع کی روایت میں موجود ہے جس میں یہ ہے کہ اتفاق سے اس دن قربانی کا دن پڑگیا تھا۔
یزید بن زریع کی روایت میں یہ لفظ وضاحت کے ساتھ موجود ہے۔
اور ایسا ہی احمد کی روایت میں ہے جسے انہوں نے اسماعیل بن علیہ سے، انہوں نے یونس سے نقل کیا ہے، پس ثابت ہو گیا کہ روایت میں یوم عید سے عید الاضحی یوم النحر مراد ہے۔
(1)
حافظ ابن حجر ؒ لکھتے ہیں: اس روایت میں وضاحت نہیں ہے کہ وہ کون سی عید تھی لیکن عنوان کا تقاضا ہے کہ اس سے مراد عید الاضحیٰ کا دن ہے، چنانچہ یزید بن زریع کی روایت میں اس کی صراحت ہے، یعنی جس دن روزہ رکھنے کی نذر مانی تھی اس دن اتفاق سے عید الاضحیٰ تھی۔
حضرت ابن عمر ؓ نے دلائل کے تعارض کے پیش نظر صراحت کے ساتھ جواب دینے سے توقف فرمایا۔
(2)
علامہ خطابی فرماتے ہیں: اس مسئلے میں اختلاف ہے۔
بعض نے کہا ہے: اگر کسی نے نذر مانی کہ جس دن فلاں آئے گا وہ روزہ رکھے گا، اور وہ عید کے دن آیا تو نہ روزہ رکھے اور نہ اس کی قضا ہی دے۔
بعض نے کہا کہ وہ عید کے دن روزہ نہ رکھے لیکن بعد میں اس کی قضا دے۔
بعض حضرات کا خیال ہے کہ جہاں امر اور نہی دونوں جمع ہو جائیں وہاں نہی پر عمل کیا جائے گا، لہذا اس دن روزہ نہ رکھا جائے اور نہ اس کی قضا ہی دینا ضروری ہے۔
(فتح الباري: 306/4)
ہمارے نزدیک راجح موقف یہ ہے کہ نہی کو مقدم کرتے ہوئے اس دن کا روزہ نہ رکھا جائے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس شخص کو سوار ہونے کا حکم دیا تھا جس نے پیدل چل کر حج کرنے کی نذر مانی تھی۔
اگر ایسے حالات میں نذر کا پورا کرنا ضروری ہوتا تو آپ اسے سواری استعمال کرنے کا حکم نہ دیتے۔
صورت مذکورہ میں بھی نذر کا پورا کرنا ضروری نہیں کیونکہ اس دن کا روزہ رکھنا جائز نہیں، لہذا وہ اپنی نذر کسی صورت میں پوری نہیں کرے گا۔
(فتح الباري: 307/4)
(1)
اہل علم کا اس امر پر اتفاق ہے کہ عید الفطر اور عید الاضحیٰ کے دن نفلی یا فرض یا نذر کا روزہ جائز نہیں۔
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید الفطر اور عید الاضحیٰ کے روزے سے منع فرمایا ہے۔
(صحیح البخاري، الصوم، حدیث: 1991)
اگر کوئی شخص کچھ دنوں کے لیے روزے رکھنے کی نذر مانتا ہے اور ان دنوں میں عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ آ جائے تو امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ان دنوں کا روزہ نہ رکھے اور نہ چھوڑے ہوئے روزوں کی قضا ہی دے جبکہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ان دنوں روزہ تو نہ رکھے، البتہ اس کی قضا ضروری ہے۔
(2)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے پہلی حدیث کے آخر میں علامہ اسماعیلی کے حوالے سے ایک اضافہ نقل کیا ہے کہ جب اس کا ذکر حضرت حسن بصری رحمہ اللہ کے پاس ہوا تو انہوں نے فرمایا کہ اس کے بجائے بعد میں ایک دن کا روزہ رکھ لیا جائے۔
(فتح الباري: 720/11)
واللہ أعلم