صحيح البخاري
كتاب الصوم— کتاب: روزے کے مسائل کا بیان
بَابُ مَا يُذْكَرُ مِنْ صَوْمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِفْطَارِهِ: باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزہ رکھنے اور نہ رکھنے کا بیان۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُفْطِرُ مِنَ الشَّهْرِ ، حَتَّى نَظُنَّ أَنْ لَا يَصُومَ مِنْهُ ، وَيَصُومُ حَتَّى نَظُنَّ أَنْ لَا يُفْطِرَ مِنْهُ شَيْئًا ، وَكَانَ لَا تَشَاءُ تَرَاهُ مِنَ اللَّيْلِ مُصَلِّيًا إِلَّا رَأَيْتَهُ ، وَلَا نَائِمًا إِلَّا رَأَيْتَهُ " ، وَقَالَ سُلَيْمَانُ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، أَنَّهُ سَأَلَ أَنَسًا فِي الصَّوْمِ .´ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے محمد بن جعفر نے بیان کیا ، ان سے حمید طویل نے اور انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا ، آپ نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی مہینہ میں بے روزہ کے رہتے تو ہمیں خیال ہوتا کہ اس مہینہ میں آپ روزہ رکھیں گے ہی نہیں ۔ اسی طرح کسی مہینہ میں نفل روزہ رکھنے لگتے تو ہم خیال کرتے کہ اب اس مہینہ کا ایک دن بھی بے روزے کے نہیں گزرے گا ۔ جو جب بھی چاہتا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو رات میں نماز پڑھتے دیکھ سکتا تھا اور جب بھی چاہتا سوتا ہوا بھی دیکھ سکتا تھا ۔ سلیمان نے حمید طویل سے یوں بیان کیا کہ انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے روزہ کے متعلق پوچھا تھا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ہر رات میں سوتے اور عبادت بھی کرتے تو جو شخص آپ کو جس حال میں دیکھنا چاہتا دیکھ لیتا۔
بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ساری رات جاگنا اور عبادت کرنا یا ہمیشہ روزہ رکھنا آنحضرت ﷺ کی عبادت سے بڑھ کر ہے۔
ان کو اتنا شعور نہیں کہ ساری رات جاگتے رہنے سے یا ہمیشہ روزہ رکھنے سے نفس کو عادت ہو جاتی ہے پھر اس کو عبادت میں کوئی تکلیف نہیں رہتی۔
مشکل یہی ہے کہ رات کو سونے کی عادت بھی رہے اسی طرح دن میں کھانے پینے کی اورپھر نفس پر زور ڈال کر جب ہی چاہے اس کی عادت توڑے۔
میٹھی نیند سے منہ موڑے۔
پس جو آنحضرت ﷺ نے کیا وہی افضل اور وہی اعلیٰ اور وہی مشکل ہے۔
آپ کی نو بیویاں تھیں آپ ﷺ ان کا حق بھی ادا فرماتے، اپنے نفس کا بھی حق ادا کرتے۔
اپنے عزیز و اقارب اور عام مسلمانوں کے بھی حقوق ادا فرماتے۔
اس کے ساتھ خدا کی بھی عبادت کرتے، کہیے اس کے لیے کتنا بڑا دل اور جگر چاہیے۔
ایک سونٹا لے کر لنگوٹ باندھ کر اکیلے دم بیٹھ رہنا اور بے فکری سے ایک طرف کے ہوجانا یہ نفس پر بہت سہل ہے۔
(1)
اس روایت سے امام بخاری ؒ نے رسول اللہ ﷺ کے حق میں نماز تہجد کا عدم وجوب ثابت کیا ہے، کیونکہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ کبھی کبھی پوری رات سو کر گزار دیتے تھے۔
اگر قیام اللیل واجب ہوتا تو آپ اس کی پابندی ضرور کرتے۔
(فتح الباري: 29/3) (2)
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا رات نو نفل پڑھنا محوِ استراحت ہونا رات کے مختلف اوقات میں تھا۔
جو شخص آپ کو جس حالت میں دیکھنا چاہتا وہ دیکھ لیا کرتا تھا۔
یہ حضرت انس ؓ کا اپنا مشاہدہ ہے جو حضرت عائشہ ؓ کے بیان کے خلاف نہیں کہ آپ مرغ کی آواز سن کر بیدار ہو جاتے تھے، کیونکہ انہوں نے اپنے چشم دید حالات بیان کیے ہیں اور آپ رات کی نماز عموماً گھر میں پڑھتے تھے جبکہ حضرت انس ؓ کی حدیث اس کے علاوہ پر محمول ہے۔
دونوں نے رسول اللہ ﷺ کے متعلق اپنے اپنے مشاہدات کو بیان کیا ہے۔
(فتح الباري: 31/3) (3)
ابو خالد احمر کی اس متابعت کو امام بخاری ؒ نے خود ہی متصل سند سے بیان کیا ہے۔
(صحیح البخاري، الصوم، حدیث: 1973)
سلیمان کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ حمید راوی نے حضرت انس ؓ سے رسول اللہ ﷺ کے روزے کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے یہ حدیث بیان فرمائی۔
(صحیح البخاري، الصوم، حدیث: 1972)