صحيح البخاري
كتاب الصوم— کتاب: روزے کے مسائل کا بیان
بَابُ الْوِصَالِ إِلَى السَّحَرِ: باب: سحری تک وصال کا روزہ رکھنا۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا تُوَاصِلُوا ، فَأَيُّكُمْ أَرَادَ أَنْ يُوَاصِلَ فَلْيُوَاصِلْ حَتَّى السَّحَرِ " ، قَالُوا : فَإِنَّكَ تُوَاصِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : لَسْتُ كَهَيْئَتِكُمْ ، إِنِّي أَبِيتُ لِي مُطْعِمٌ يُطْعِمُنِي وَسَاقٍ يَسْقِينِ .´ہم سے ابراہیم بن حمزہ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عبدالعزیز ابن ابی حازم نے بیان کیا ، ان سے یزید بن ہاد نے ، ان سے عبداللہ بن خباب نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ` آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے ، صوم وصال نہ رکھو ۔ اور اگر کسی کا ارادہ ہی وصال کا ہو تو سحری کے وقت تک وصال کر لے ۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کی ، یا رسول اللہ ! آپ تو وصال کرتے ہیں آپ نے فرمایا کہ میں تمہاری طرح نہیں ہوں ۔ رات کے وقت ایک کھلانے والا مجھے کھلاتا ہے اور ایک پلانے والا مجھے پلاتا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
رسول اللہ ﷺ نے پہلے مطلق طور پر وصال سے منع فرمایا، پھر آپ نے صبح تک وصال کرنے کی اجازت دی، اس سے صبح تک وصال کا روزہ رکھنے کا جواز ملتا ہے لیکن صحیح ابن خزیمہ میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ صبح تک وصال کا روزہ رکھتے تھے، آپ کے صحابۂ کرام ؓ نے بھی جب صبح تک وصال کا روزہ رکھنا چاہا تو آپ نے انہیں منع فرما دیا تو کسی نے کہا: اللہ کے رسول! آپ تو ایسا روزہ رکھتے ہیں۔
اس پر آپ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ مجھے کھلا پلا دیتا ہے۔
‘‘ (صحیح ابن خزیمة: 281/3) (2)
یہ حدیث ظاہری طور پر امام بخاری ؒ کی پیش کردہ حدیث ابو سعید ؓ کے معارض ہے کیونکہ صحیح ابن خزیمہ کی روایت کے مطابق صبح تک وصال کا روزہ رکھنے کی ممانعت ہے جبکہ امام بخاری ؒ کی روایت سے جواز معلوم ہوتا ہے۔
محدثین نے حدیث ابو ہریرہ ؓ جو صحیح ابن خزیمہ میں ہے اسے شاذ قرار دیا ہے۔
(فتح الباري: 266/4)
رات آنے تک روزہ رکھو رات ہونے پر فوراً روزہ افطار کرلو۔
احادیث میں آنحضرت ﷺ کے صوم وصال کا ذکر ہے یہ آپ ﷺ کی خصوصیات میں سے ہے۔
اسی تطبیق کو ترجیح حاصل ہے، اللہ پاک مجھے کھلاتا پلاتا ہے اس سے روحانی اکل و شرب مراد ہے۔
تفصیل مزید کے لیے اہل علم فتح الباری کا یہ مقام ملاحظہ فرمائیں۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: " تم صوم وصال نہ رکھو، اگر تم میں سے کوئی صوم وصال رکھنا چاہے تو سحری کے وقت تک رکھے۔" لوگوں نے کہا: آپ تو رکھتے ہیں؟ فرمایا: " میں تمہاری طرح نہیں ہوں، کیونکہ مجھے کھلانے پلانے والا کھلاتا پلاتا رہتا ہے۔" [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2361]
بلاشبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ ہی کھلانے پلانے والا ہے۔
اور وہ غذا یقینا روحانی ہو گی۔
اگر کوئی امتی وصال کرنا چاہتا ہے، تو سحر تک کر لے۔