حدیث نمبر: 1949
حَدَّثَنَا عَيَّاشٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، " قَرَأَ فِدْيَةٌ طَعَامُ مَسَاكِينَ " ، قَالَ : هِيَ مَنْسُوخَةٌ .
مولانا داود راز

´ہم سے عیاش نے بیان کیا ، ان سے عبدالاعلیٰ نے بیان کیا ، ان سے عبیداللہ نے بیان کیا ، ان سے نافع نے کہ` عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ( آیت مذکور بالا ) «فديه طعام مسكين» پڑھی اور فرمایا یہ منسوخ ہے ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الصوم / حدیث: 1949
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
1949. حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے انھوں نے ﴿فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ﴾ پڑھا اور فرمایا کہ یہ آیت منسوخ ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:1949]
حدیث حاشیہ: پورا ترجمہ آیت کا یوں ہے اور جو لوگ روزہ کی طاقت رکھتے ہیں، لیکن روزہ رکھنا نہیں چاہتے وہ ایک مسکین کو کھانا کھلا دیں، پھر جو شخص خوشی سے زیادہ آدمیوں کو کھلائے تو اس کے لیے بہتر ہے اور اگر تم روزہ رکھو تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے اگر تم سمجھو۔
رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن اترا جو لوگوں کو دین کی سچی راہ سمجھاتا ہے اور اس میں کھلی کھلی ہدایت کی باتیں اور صحیح کو غلط سے جدا کرنے کی دلیلیں موجود ہیں، پھر اے مسلمانو! تم میں سے جو کوئی رمضان کا مہینہ پائے وہ روزہ رکھے اور جو بیمار یا مسافر ہو وہ دوسرے دنوں میں یہ گنتی پوری کرے، اللہ تمہارے ساتھ آسانی کرنا چاہتا ہے اور تم پر سختی کرنا نہیں چاہتا اور اس حکم کی غرض یہ ہے کہ تم گنتی پوری کر لو اور اللہ نے جو تم کو دین كى سچی راہ بتلائی اس کے شکریہ میں اس کی بڑائی کرو اور اس لیے کہ تم اس کا احسان مانو شروع اسلام میں و علی الذین یطیقونه (البقرة: 184)
اترا تھا اور مقدور والے لوگوں کو اختیار تھا وہ روزہ رکھیں خواہ فدیہ دیں پھر یہ حکم منسوخ ہو گیا اور صحیح جسم والے مقیم پر روزہ رکھنا فمن شهد منکم الشهر (البقرة: 185)
سے واجب ہو گیا۔
(وحیدی)
بعض نے کہا وعلی الذین یطیقونه کے معنی یہ ہیں جو لوگ روزہ کی طاقت نہیں رکھتے گو مقیم اور تندرست ہیں مثلاً ضعیف بوڑھے لوگ تو وہ ہر روزے کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلائیں اس صورت میں یہ آیت منسوخ نہ ہوگی اور تفصیل اس مسئلہ کی تفسیروں میں ہے۔
(وحیدی)
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1949 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
1949. حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے انھوں نے ﴿فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ﴾ پڑھا اور فرمایا کہ یہ آیت منسوخ ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:1949]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث میں ناسخ آیت کو متعین نہیں کیا گیا، البتہ طبری کی روایت کے مطابق اس کے بعد والی آیت ناسخ قرار دی گئی ہے۔
سنن بیہقی میں ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ مدینہ طیبہ تشریف لائے تو ان پر رمضان کے روزے فرض کر دیے گئے جبکہ رسول اللہ ﷺ کے صحابۂ کرام ؓ روزہ رکھنے سے زیادہ مانوس نہیں تھے کیونکہ وہ مہینے میں صرف تین روزے رکھنے کے عادی تھے، اس بنا پر ان پر ایک ماہ کے روزے تکلیف اور مشقت کا باعث تھے، پھر انہیں رخصت تھی کہ اگر کوئی کسی مسکین کو روزہ رکھوا دے تو وہ خود اسے ترک کر دے، پھر اس رخصت کو بھی منسوخ کر دیا گیا۔
(السنن الکبرٰی للبیھقي: 200/4) (2)
حضرت ابن عباس ؓ کے نزدیک یہ آیت منسوخ نہیں بلکہ محکم ہے۔
وہ فرماتے ہیں: یہ منسوخ نہیں بلکہ اس سے مراد بوڑھا مرد اور بوڑھی عورت ہے جو روزہ رکھنے کی طاقت نہیں رکھتے، وہ ہر دن ایک مسکین کو کھانا کھلا دیں۔
(صحیح البخاري، التفسیر، حدیث: 4505)
یعنی ان کے نزدیک يُطِيقُونَهُ کے معنی ’’عدم استطاعت‘‘ کے ہیں۔
اس مقام پر اس فعل میں سلب ماخذ کی خصوصیت پائی جاتی ہے۔
واللہ أعلم
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1949 سے ماخوذ ہے۔