حدیث نمبر: 1932
ثُمَّ دَخَلْنَا عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، فَقَالَتْ : مِثْلَ ذَلِكَ .
مولانا داود راز

‏‏‏‏ اس کے بعد ہم ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے اسی طرح حدیث بیان کی ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الصوم / حدیث: 1932
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
1932. پھر ہم حضرت ام سلمہ ؓ کے پاس گئے تو انھوں نے بھی اسی طرح فرمایا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:1932]
حدیث حاشیہ: اس حدیث سے بھی ہر دو مسئلے ثابت ہوئے روزہ دار کے لیے غسل کا جائز ہونا اور بحالت روزہ غسل جنابت فجر ہونے کے بعد کرنا چوں کہ شریعت میں ہر ممکن آسانی پیش نظر رکھی گئی ہے اس لیے آنحضرت ﷺ نے اپنے اسوہ حسنہ سے عملاً یہ آسانیاں پیش کی ہیں۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1932 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
1932. پھر ہم حضرت ام سلمہ ؓ کے پاس گئے تو انھوں نے بھی اسی طرح فرمایا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:1932]
حدیث حاشیہ:
(1)
ان احادیث سے دو مسئلے ثابت ہوتے ہیں: ٭ روزے کی حالت میں غسل جنابت فجر کے بعد نماز سے پہلے کرنا۔
٭ روزے دار کے لیے غسل کا جائز ہونا۔
شریعت مطہرہ میں ہر ممکن بندوں کی سہولت پیش نظر رکھی گئی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے اپنے اسوۂ مبارکہ سے عملاً یہ آسانیاں پیش کی ہیں۔
(2)
ان احادیث کا مقصد یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنی بیویوں سے صحبت کرتے، اگر سوتے سوتے صبح ہو جاتی تو حالت جنابت میں روزہ رکھ لیتے، پھر غسل کر کے نماز پڑھتے۔
اس سے معلوم ہوا کہ جنابت روزے کے منافی نہیں۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1932 سے ماخوذ ہے۔