صحيح البخاري
كتاب الصوم— کتاب: روزے کے مسائل کا بیان
بَابُ أَجْوَدُ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكُونُ فِي رَمَضَانَ: باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں سب سے زیادہ سخاوت کیا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدَ النَّاسِ بِالْخَيْرِ ، وَكَانَ أَجْوَدُ مَا يَكُونُ فِي رَمَضَانَ حِينَ يَلْقَاهُ جِبْرِيلُ ، وَكَانَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام يَلْقَاهُ كُلَّ لَيْلَةٍ فِي رَمَضَانَ ، حَتَّى يَنْسَلِخَ يَعْرِضُ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقُرْآنَ ، فَإِذَا لَقِيَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام ، كَانَ أَجْوَدَ بِالْخَيْرِ مِنَ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ " .´ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا ، انہیں ابن شہاب نے خبر دی ، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے کہ` عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سخاوت اور خیر کے معاملہ میں سب سے زیادہ سخی تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سخاوت اس وقت اور زیادہ بڑھ جاتی تھی جب جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے رمضان میں ملتے ، جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے رمضان شریف کی ہر رات میں ملتے یہاں تک کہ رمضان گزر جاتا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جبرائیل علیہ السلام سے قرآن کا دور کرتے تھے ، جب جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے لگتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلتی ہوا سے بھی زیادہ بھلائی پہنچانے میں سخی ہو جایا کرتے تھے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
عربی زبان میں "جود" اور "سخا" کا فرق یہ ہے کہ سخاوت کرتے وقت انسان اپنے اہل و عیال کا بھی خیال رکھتا ہے جبکہ جود فرماتے تھے۔
ماہ رمضان میں اس لیے زیادہ سخاوت کرتے کہ اس میں ثواب دوچند ہو جاتا ہے اور اس میں اعلیٰ عبادت، یعنی روزے رکھنے کا اہتمام ہوتا ہے، اس کے علاوہ اس میں شب قدر بھی ہے، نیز اس لیے بھی زیادہ سخاوت کرتے کہ اس میں حضرت جبرئیل ؑ سے آپ کی ملاقات ہوتی۔
(3)
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جب بزرگان دین کسی کے گھر آئیں تو دل کھول کر سخاوت کرنی چاہیے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کا معمول تھا۔
(عمدةالقاري: 33/8) (4)
کھلی ہوا سے مراد بارش سے قبل آنے والی ہوا ہے جسے اللہ تعالیٰ بارش برسانے کے لیے چھوڑتا ہے۔
جب بارش برستی ہے تو زمین کے ہر خطے کو اس سے فائدہ ہوتا ہے، اسی طرح رسول اللہ ﷺ کی جودوسخا سے ہر فقیر و تنگ دست اور غنی و مالدار کو فائدہ پہنچتا تھا۔
کھلی ہوا سے تشبیہ دینے کا یہی مقصد ہے۔
(فتح الباري: 150/4)
واللہ أعلم
«. . . قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدَ النَّاسِ، وَكَانَ أَجْوَدُ مَا يَكُونُ فِي رَمَضَانَ حِينَ يَلْقَاهُ جِبْرِيلُ، وَكَانَ يَلْقَاهُ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ فَيُدَارِسُهُ الْقُرْآنَ، فَلَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدُ بِالْخَيْرِ مِنَ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ . . .»
”. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب لوگوں سے زیادہ جواد (سخی) تھے اور رمضان میں (دوسرے اوقات کے مقابلہ میں جب) جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتے بہت ہی زیادہ جود و کرم فرماتے۔ جبرائیل علیہ السلام رمضان کی ہر رات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کرتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قرآن کا دورہ کرتے، غرض نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو بھلائی پہنچانے میں بارش لانے والی ہوا سے بھی زیادہ جود و کرم فرمایا کرتے تھے . . .“ [صحيح البخاري/كِتَابُ بَدْءِ الْوَحْيِ: 6]
اس حدیث کی مناسبت باب سے یہ ہے کہ رمضان شریف میں حضرت جبرئیل آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن مجید کا دور کیا کرتے تو معلوم ہوا کہ قرآن یعنی وحی کا نزول رمضان شریف میں شروع ہوا۔ جیسا کہ آیت شریفہ «شهر رمضان الذى انزل فيه القرآن» [البقرة: 185] میں مذکور ہے۔ یہ نزول قرآن لوح محفوظ سے بیت العزت میں سماء دنیا کی طرف تھا۔ پھر وہاں سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نزول بھی رمضان شریف ہی میں شروع ہوا۔ اسی لیے رمضان شریف قرآن کریم کے لیے سالانہ یادگار مہینہ قرار پایا اور اسی لیے اس مبارک ماہ میں آپ اور حضرت جبرئیل علیہ السلام قرآن مجید کا باقاعدہ دور فرمایا کرتے تھے۔ساتھ ہی آپ کے ”جود“ کا ذکر خیر بھی کیا گیا۔
سخاوت خاص مال کی تقسیم کا نام ہے اور «جود» کے معنی «اعطاءما ينبغي لمن ينبغي» کے ہیں جو بہت زیادہ عمومیت لئے ہوئے ہے۔ پس «جود» مال ہی پر موقوف نہیں۔ بلکہ جو شے بھی جس کے لئے مناسب ہو دے دی جائے، اس لئے آپ «اجود الناس» تھے۔ حاجت مندوں کے لئے مالی سخاوت، تشنگان علوم کے لئے علمی سخاوت، گمراہوں کے لئے فیوض روحانی کی سخاوت، الغرض آپ ہر لحاظ سے تمام بنی نوع انسان میں بہترین سخی تھے۔ آپ کی جملہ سخاوتوں کی تفصیلات کتب احادیث و سیر میں منقول ہیں۔
آپ کی «جود» و سخاوت کی تشبیہ بارش لانے والی ہواؤں سے دی گئی جو بہت ہی مناسب ہے۔ باران رحمت سے زمین سرسبز و شاداب ہو جاتی ہے۔ آپ کی جود و سخاوت سے بنی نوع انسان کی اجڑی ہوئی دنیا آباد ہو گئی۔ ہر طرف ہدایات کے دریا بہنے لگے۔ خدا شناسی اور اخلاق فاضلہ کے سمندر موجیں مارنے لگے۔ آپ کی سخاوت اور روحانی کمالات سے ساری دنیائے انسانیت نے فیض حاصل کئے اور یہ مبارک سلسلہ تا قیام دنیا قائم رہے گا۔ کیوں کہ آپ پر نازل ہونے والا قرآن مجید وحی متلو اور حدیث شریف وحی غیرمتلو تاقیام دنیا قائم رہنے والی چیزیں ہیں۔ پس دنیا میں آنے والے انسان ان سے فیوض حاصل کرتے ہی رہیں گے۔ اس سے وحی کی عظمت بھی ظاہر ہے اور یہ بھی کہ قرآن وحدیث کے معلمین و متعلمین کو بہ نسبت دوسرے لوگوں کے زیادہ سخی،جواد وسیع القلب ہونا چاہئیے کہ ان کی شان کا یہی تقاضہ ہے۔خصوصاً رمضان شریف کا مہینہ جود و سخاوت ہی کا مہینہ ہے کہ اس میں ایک نیکی کا ثواب کتنے ہی درجات حاصل کر لیتا ہے۔ جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس ماہ مبارک میں خصوصیت کے ساتھ اپنی ظاہری و باطنی سخاوتوں کے دریا بہا دیتے تھے۔
سند حدیث: پہلا موقع ہے کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے یہاں سند حدیث میں تحویل فرمائی ہے۔ یعنی امام زہری تک سند پہنچا دینے کے بعد پھر آپ دوسری سندکی طرف لوٹ آئے ہیں اور عبدان پہلے استاد کے ساتھ اپنے دوسرے استاد بشر بن محمد کی روایت سے بھی اس حدیث کو نقل فرمایا ہے اور زہری پر دونوں سندوں کو یکجا کر دیا۔ محدثین کی اصطلاح میں لفظ ح (مثلاً جو اس سند میں آیا ہے «عن الزهري. ح وحدثنا بشر بن محمد» ) سے یہی تحویل مراد ہوتی ہے۔ اس سے تحویل سند اور سند میں اختصار مقصود ہوتا ہے۔ آگے اس قسم کے بہت سے مواقع آتے رہیں گے۔ بقول علامہ قسطلانی رحمہ اللہ اس حدیث کی سند میں روایت حدیث کی مختلف اقسام تحدیث، اخبار، عنعنہ، تحویل سب جمع ہو گئی ہیں۔جن کی تفصیلات مقدمہ میں بیان کی جائیں گی۔ ان شاءاللہ تعالیٰ۔
1۔
اس حدیث کا عنوان سے تعلق اس طرح ہے کہ پہلی حدیث میں نزول وحی کی جگہ کا تعین تھا کہ وحی کا آغاز غارحرا میں ہوا اور اس حدیث میں ابتدائے وحی کا وقت بتایا گیا ہے کہ وہ ماہ رمضان المبارک ہے۔
اس سے وحی کی عظمت بھی ظاہر ہوتی ہے کہ کسی معمولی چیز کے لیے زمان ومکان کا تعین نہیں کیا جاتا بلکہ اس قسم کا اہتمام کسی اہم اور بلند پایہ چیز ہی کے لیے کیا جاتا ہے۔
2۔
سخاوت کسی کے سوال کرنے پر دل کے نرم ہونے کی وجہ سے کوئی چیز دینے کا نام ہے جبکہ (جُود)
کا مطلب یہ ہے کہ جو چیز جس کے لیے مناسب ہو، اس کے مانگے بغیر ہی اسے دے د ینا۔
بعض نے اس کا فرق یہ کیا ہے کہ سخاوت کا مطلب کچھ دے دینا اور کچھ اپنے لیے رکھ لینا ہے جبکہ جود کے معنی یہ ہیں کہ زیادہ دے دینا اورتھوڑا بہت اپنے لیے رکھنا۔
(الفروق اللغوية، ص: 196)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واقعی (أَجْوَدَ النَّاسِ)
تھے کیونکہ یہ ہر شخص کو وہی کچھ دیتے جو اس کے مناسب حال ہوتا، چنانچہ فقیروں کو مال دیتے، تشنگان علوم کی علمی پیاس بجھاتے اور گم کردہ راہوں کو سیدھا راستہ دکھاتے الغرض حدیث سے معلوم ہوتاہے کہ آپ کے جُود کے تین درجے تھے: (الف)
۔
عام طور پر بھی آپ تمام لوگوں سے زیادہ صاحب جودوسخا تھے۔
(ب)
۔
رمضان المبارک میں یہ جودوکرم اور بڑھ جاتا تھا۔
(ج)
۔
رمضان کی راتیں مذید اس شان جودوکرم میں اضافے کا باعث ہوتیں جبکہ آپ جبرئیل علیہ السلام سے ملاقات فرماتے۔
اس دوران میں کسی سائل کو تہی دامن اور مایوس واپس نہ کرتے حتیٰ کہ اگر قرض بھی لینا پڑتا تو بھی خیرات کا فیض عام جاری رکھنے کے لیے ایسا کرگزرتے تھے۔
3۔
(الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ)
اس ہوا کو کہتے ہیں۔
جوبڑی تیز چلتی ہے اور بارش کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جودوسخا کو اس قسم کی بارش لانے والی ہوا سے تشبیہ دی گئی ہے جو کہ بہت ہی مناسب ہے، چنانچہ جس طرح باران رحمت سے بنجر اور بے آباد زمین سرسبزوشاداب ہو جاتی ہے اسی طرح آپ کے جودوسخا سے بنی نوع انسان کی اجڑی ہوئی دنیا آباد ہوئی اور ہر طرف رشد و ہدایت کے دریا موج زن ہوئے۔
الغرض آپ کے روحانی کمالات سے تمام کائنات فیض یاب ہوئی اور یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔
4۔
اس حدیث میں سخاوت کے متعلق شوق دلایا گیا ہے، خاص طور پر رمضان المبارک میں دل کھول کراپنا مال خرچ کرنا چاہیے، نیز جب نیکو کار اوراہل خیر سے ملاقات ہو تو بھی فیاضی اوردریا دلی کا مظاہرہ کرناچاہیے۔
یہ بھی معلوم ہوا کہ رمضان المبارک میں قرآن کریم کی کثرت سے تلاوت کرنی چاہیے اور یہ تلاوت تمام اوراد و اذکار سے افضل اوراعلیٰ ہے۔
(فتح الباري: 1؍31)
5۔
(مُدَارَسَه)
یہ ہے کہ حضرت جبریل علیہ السلام رمضان میں نازل شدہ قرآن پڑھتےاور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے سنتے، پھر ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تلاوت فرماتے اور حضرت جبریل علیہ السلام اس کا سماع فرماتے۔
گویا باری باری قرآن مجید پڑھتے جسے ہمارے ہاں دَور کرنا کہا جاتا ہے۔
آخری سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبریل علیہ السلام سے دومرتبہ دور کیا تاکہ مجموعی طور پر پورے قرآن کی یاد دہانی ہوجائے، نیز یاد رہے کہ یہ آخری دور اسی ترتیب سے ہوا تھا جس ترتیب سے آج ہمارے ہاں قرآن موجود ہے کیونکہ اس آخری دور کے وقت حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ موجود تھے۔
انھوں نے بعد میں اسی ترتیب سے لکھا جس ترتیب سے انھوں نے سنا تھا۔
واضح رہے کہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ترتیب نزولی کے مطابق قرآن جمع کیا تھا اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ترتیب ان کےعلاوہ ہے۔
اس حدیث کو اسی لیے اس باب کے تحت لائے۔
باب اور حدیث میں یہی مطابقت ہے۔
1۔
حافظ ابن حجر ؒنے لکھا ہے کہ اس حدیث سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت سخاوت کو بیان کرنا مقصود ہے۔
(فتح الباري: 701/6)
ہمارارجحان یہ ہے کہ اس حدیث سے ایک اشکال کا ازالہ مقصود ہے اور وہ یہ کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم اطہر سے طبعی طور پر خوشبوآتی تھی اگرچہ آپ نے خوشبو نہ بھی استعمال کی ہوتی،تو اس کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خوشبو کیوں استعمال کرتے تھے؟امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ یہ روایت لاکربتانا چاہتے ہیں کہ اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ کی فرشتوں سے ملاقات ہوتی رہتی تھی،خاص طور پر فرشتہ وحی حضرت جبرئیل ؑ کے ساتھ ملاقات کا سلسلہ بکثرت جاری رہتا تھا۔
اس کے علاوہ آپ کی مبارک مجلس میں لوگ کثرت سے حاضر رہتے تھے۔
اس ماحول کو پاکیزہ اور معطر رکھنے کے لیے آپ طبعی خوشبو کے علاوہ خود ساختہ خوشبو بھی بکثرت استعمال کرتے تھے۔
واللہ أعلم۔
کہتے ہیں کہ زید بن ثابت کی قرات آنحضرت ﷺ کے اخیر دور کے موافق ہے۔
حضرت ابوہریرہ ؓ اور حضرت فاطمہ ؓ کی جو رویات مذکور ہوئی ہیں ان کو خود حضرت امام بخاری ؒ نے باب علامات النبوۃ اور فضائل القرآن میں وصل کیا ہے۔
1۔
حضرت فاطمہ ؓ کی روایت کو امام بخاری ؒ نے متصل سند سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انھیں رازداری کے طور پرفرمایا: ’’میرے ساتھ حضرت جبرئیل علیہ السلام ہر سال قرآن مجید کا دور کرتے تھے اور اس سال انھوں نے دومرتبہ دور کیا ہے۔
میراخیال ہے کہ میر ی وفات کا وقت آچکا ہے۔
‘‘ (صحیح البخاري، المناقب، حدیث: 3624)
حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت میں ہے: جس سال رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی تو آپ کے ساتھ حضرت جبریل ؑ نے دومرتبہ دور کیا۔
(صحیح البخاري، فضائل القرآن، حدیث: 4996)
2۔
اس حدیث سے امام بخاری ؒ کا مقصد حضرت جبریل ؑ کے وجود اور ان کی کارکردگی کو ثابت کرنا ہے۔
بلغ العلی بکماله کشف الد جیٰ بجماله حسنت جمیع خصاله صلوا علیه و آله
(1)
أجود الناس: جود کا معنی ہوتا ہے، ہر انسان کو اس کی ضرورت کی چیز عطا کرنا۔
یعنی جس کو علم و معرفت کی ضرورت ہوتی، اس کو علوم و معارف سے نوازتے، ننگے کو لباس پہناتے، بھوکے کو کھانا کھلاتے اور سخی تو صرف مال کی سخاوت کرتا ہے۔
(2)
الريح المرسلة: آزاد چھوڑی ہوئی ہوا جو انتہائی تیز ہوتی ہے۔
فوائد ومسائل: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ فضیلت والے دنوں میں جودوسخا زیادہ کرنا چاہیے اور ماہ رمضان میں تلاوت قرآن کا اہتمام بھی زیادہ کرنا چاہیے، کیونکہ آپ اس مہینہ میں جبریل کے ساتھ دور کرتے تھے، یہ قرآن سنتے اور سناتے تھے۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں سب سے زیادہ سخی آدمی تھے، اور رمضان میں جس وقت جبرائیل علیہ السلام آپ سے ملتے تھے آپ اور زیادہ سخی ہو جاتے تھے، جبرائیل علیہ السلام آپ سے ماہ رمضان میں ہر رات ملاقات کرتے (اور) قرآن کا دور کراتے تھے۔ (راوی) کہتے ہیں: جس وقت جبرائیل علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کرتے تو آپ تیز چلتی ہوئی ہوا سے بھی زیادہ سخی ہ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2097]
(2) ”چھوڑی ہوئی (تیز) ہوا“ یعنی خیر و برکت اور بارش والی ہوا سے بھی زیادہ صاحب خیر وسخاوت ہوتے تھے۔ ظاہر ہے مذکورہ ہوا قریب وبعید کے تمام کے لیے بہت مفید ہے۔
(۱)اس حدیث سے معلوم ہوا کہ افضل ایام میں کثرت سے صدقہ و خیرات کرنا چاہیے۔ خصوصاً رمضان میں عام دنوں سے زیادہ صدقہ کرنا چاہیے۔
(۲) حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ امام نووی رحمہ اللہ نے اس حدیث کی شرح میں فرمایا ہے:نیک و صالح لوگوں سے مل بیٹھنا، ان کی زیارت کرنا اور اگر وہ ناپسند نہ کریں تو بار بار ملنا مسنون ہے۔
(۳) سخاوت کی تعریف یہ ہے کہ جس قدر دینا ممکن ہو اور جس کو دینا ممکن ہو دے دینا، اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سب لوگوں سے زیادہ سخی تھے کیونکہ آپ کا دل سب سے زیادہ سختی تھا، پھر جبریل کی ملاقات کی خوشی میں جبکہ وہ قرآن کا دور کرتے یہ خوشی دو بالا ہو جاتی اور آپ پہلے سے زیادہ سخاوت کرتے۔ اور ایسا کرنا حسن اخلاق کی دلیل ہے۔
(۴) اس سے معلوم ہوا کہ رمضان المبارک میں تفہیم قرآن کی خصوصی مجالس کا اہتمام کرنا چاہیے تاکہ نیکی کے ماحول سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا جاسکے۔
(۵) اس حدیث میں قرآن مجید کا دور کرنے اور اسے یاد کرنے کی ترغیب ہے۔