حدیث نمبر: 1861
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ ، قَالَ : حَدَّثَتْنَا عَائِشَةُ بِنْتُ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِين رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : قُلْتُ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا نَغْزُو وَنُجَاهِدُ مَعَكُمْ ؟ فَقَالَ : لَكِنَّ أَحْسَنَ الْجِهَادِ وَأَجْمَلَهُ الْحَجُّ حَجٌّ مَبْرُورٌ " ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : فَلَا أَدَعُ الْحَجَّ بَعْدَ إِذْ سَمِعْتُ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا داود راز

´ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا ، ان سے حبیب بن عمرہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا مجھ سے عائشہ بنت طلحہ نے بیان کیا اور ان سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ` میں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم بھی کیوں نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد اور غزووں میں جایا کریں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگوں کے لیے سب سے عمدہ اور سب سے مناسب جہاد حج ہے ، وہ حج جو مقبول ہو ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں کہ جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد سن لیا ہے حج کو میں کبھی چھوڑنے والی نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب جزاء الصيد / حدیث: 1861
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
1861. اُم المومنین سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے، انھوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول اللہ ﷺ!کیا ہم آپ کے ساتھ مل کر جہاد نہ کریں؟آپ نے فرمایا: ’’لیکن تمھارا اچھا اور خوبصورت جہاد حج مقبول ہے۔‘‘ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کہ جب سے میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ سنا ہے، اس کے بعد میں کبھی حج نہیں چھوڑتی۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:1861]
حدیث حاشیہ: آنحضرت ﷺ کا مقصد تھا کہ جہاد کے لیے نکلنا تم پر واجب نہیں جیسے مردوں پر واجب ہے۔
اس حدیث کا یہ مطلب نہیں ہے کہ عورتیں مجاہدین کے ساتھ نہ جائیں۔
بلکہ جاسکتی ہیں کیوں کہ ام عطیہ ؓ کی حدیث میں ہے کہ ہم جہاد میں نکلتے تھے اور زخمیوں کی دوا وغیرہ کرتے تھے اور آپ ﷺ نے ایک عورت کو بشارت دی تھی کہ وہ مجاہدین کے ساتھ شہید ہوگی۔
(وحیدی)
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1861 سے ماخوذ ہے۔