حدیث نمبر: 1860
وقَالَ لِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ هُوَ الْأَزْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ : " أَذِنَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لِأَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آخِرِ حَجَّةٍ حَجَّهَا ، فَبَعَثَ مَعَهُنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ " .
مولانا داود راز

´امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ مجھ سے احمد بن محمد نے کہا کہ ان سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد نے ، ان سے ان کے داد ( ابراہیم بن عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ ) نے کہ` عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے آخری حج کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کو حج کی اجازت دی تھی اور ان کے ساتھ عثمان بن عفان اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہما کو بھیجا تھا ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب جزاء الصيد / حدیث: 1860
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
1860. حضرت ابراہیم بن عبدالرحمٰن بن عوف سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ حضرت عمر ؓ نے اپنے آخری حج کے وقت نبی ﷺ کی ازواج مطہرات رضوان اللہ عنھن اجمعین کو حج کرنے کی اجازت دے دی تھی۔ انھوں نے ان کے ہمراہ حضرت عثمان بن عفان ؓاور حضرت عبدالرحمٰن بن عوف ؓ کو روانہ کیا تھا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:1860]
حدیث حاشیہ: آنحضرت ﷺ کی سب بیویاں حج کو گئیں مگر حضرت سودہ اور حضرت زینب ؓ وفات تک مکان سے نہ نکلیں۔
پہلے حضرت عمر ؓ کو تردد ہوا تھا کہ آپ ﷺ کی بیویوں کو حج کے لیے نکالیں یا نہیں۔
پھر انہوں نے اجازت دی اورنگہبانی کے لیے حضرت عثمان ؓ کو ساتھ کر دیا، پھر حضرت معاویہ ؓ کی خلافت میں بھی امہات المومنین نے حج کیا، ہودجوں پر سوار تھیں، ان پر چادریں پڑی ہوئی تھیں۔
(وحیدی)
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1860 سے ماخوذ ہے۔