حدیث نمبر: 1859
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ ، أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ ، عَنِ الْجُعَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، يَقُولُ لِلسَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، وَكَانَ قَدْ حُجَّ بِهِ فِي ثَقَلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا داود راز

´ہم سے عمرو بن ذرارہ نے بیان کیا ، کہا کہ ہمیں قاسم بن مالک نے خبر دی ، انہیں جعید بن عبدالرحمٰن نے ، انہوں نے کہا کہ میں نے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ سے سنا ، وہ سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے کہہ رہے تھے` سائب رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامان کے ساتھ ( یعنی بال بچوں میں ) حج کرایا گیا تھا ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب جزاء الصيد / حدیث: 1859
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
1859. حضرت عمر بن عبد العزیز ؒسے روایت ہے، انھوں نے حضرت سائب بن یزید ؓ کے متعلق فرمایا: انھیں نبی ﷺ کے سامان سفر (بال بچوں)میں حج کرایا گیا تھا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:1859]
حدیث حاشیہ: دوسری روایت میں ہے کہ عمر بن عبدالعزیز ؒنے حضرت سائب بن یزید ؓ سے مدد کے بارے میں پوچھا تھا۔
حضرت سائب بن یزید ؓ حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ ﷺ کے سامان کے ساتھ تھے اور وہ اس وقت بالغ تھے۔
اس سے بھی بچے حج کا کرنا ثابت ہو گیا۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1859 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
1859. حضرت عمر بن عبد العزیز ؒسے روایت ہے، انھوں نے حضرت سائب بن یزید ؓ کے متعلق فرمایا: انھیں نبی ﷺ کے سامان سفر (بال بچوں)میں حج کرایا گیا تھا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:1859]
حدیث حاشیہ:
(1)
بچے کا حج کرنا جائز اور درست ہے۔
اس مسئلے میں کوئی اختلاف نہیں۔
صحیح مسلم میں ہے کہ ایک عورت نے اپنا بچہ اٹھا کر رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا: آیا اس کا حج صحیح ہے؟ آپ نے فرمایا: ’‘ہاں، البتہ اس کا ثواب تجھے ملے گا۔
‘‘ (صحیح مسلم، الحج، حدیث: 3254(1336)
اس سے معلوم ہوا کہ بچے کا حج مشروع ہے لیکن یہ حج فرض کو ساقط نہیں کرے گا بلکہ بلوغ کے بعد اسے حج واجب دوبارہ کرنا ہو گا کیونکہ بچہ بالغ ہونے تک مرفوع القلم ہے، لہذا اس پر حج فرض نہیں۔
اگر بچہ اپنا حج فاسد کر دیتا ہے تو اس پر اس کی قضا ضروری نہیں اور نہ اس پر فدیہ ہی واجب ہے۔
(2)
امام بخاری ؒ نے حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت سائب بن یزید ؓ کے حج کرنے سے اپنے قائم کردہ عنوان کو ثابت کیا ہے کیونکہ حج کے وقت یہ دونوں حضرات نابالغ تھے، اس کے باوجود انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ حج کیا۔
وھو المقصود
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1859 سے ماخوذ ہے۔