صحيح البخاري
كتاب جزاء الصيد— کتاب: شکار کے بدلے کا بیان
بَابُ لاَ يُعِينُ الْمُحْرِمُ الْحَلاَلَ فِي قَتْلِ الصَّيْدِ: باب: شکار کرنے میں احرام والا غیر محرم کی کچھ بھی مدد نہ کرے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ نَافِعٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ ، سَمِعَ أَبَا قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْقَاحَةِ مِنْ الْمَدِينَةِ عَلَى ثَلَاثٍ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْقَاحَةِ ، وَمِنَّا الْمُحْرِمُ وَمِنَّا غَيْرُ الْمُحْرِمِ ، فَرَأَيْتُ أَصْحَابِي يَتَرَاءَوْنَ شَيْئًا فَنَظَرْتُ ، فَإِذَا حِمَارُ وَحْشٍ يَعْنِي وَقَعَ سَوْطُهُ ، فَقَالُوا : لَا نُعِينُكَ عَلَيْهِ بِشَيْءٍ إِنَّا مُحْرِمُونَ ، فَتَنَاوَلْتُهُ فَأَخَذْتُهُ ، ثُمَّ أَتَيْتُ الْحِمَارَ مِنْ وَرَاءِ أَكَمَةٍ ، فَعَقَرْتُهُ فَأَتَيْتُ بِهِ أَصْحَابِي ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ : كُلُوا ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : لَا تَأْكُلُوا ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ أَمَامَنَا ، فَسَأَلْتُهُ ، فَقَالَ : كُلُوهُ حَلَالٌ " ، قَالَ لَنَا عَمْرٌو : اذْهَبُوا إِلَى صَالِحٍ فَسَلُوهُ عَنْ هَذَا وَغَيْرِهِ ، وَقَدِمَ عَلَيْنَا هَاهُنَا .´ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ، کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے صالح بن کیسان نے بیان کیا ، ان سے ابومحمد نے ، ان سے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے غلام نافع نے ، انہوں نے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، آپ نے فرمایا کہ` ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ سے تین منزل دور مقام قاحہ میں تھے ۔ ( دوسری سند امام بخاری رحمہ اللہ نے ) کہا کہ ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے سفیان نے بیان کیا کہا ہم سے صالح بن کیسان نے بیان کیا ، ان سے ابومحمد نے اور ان سے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مقام قاحہ میں تھے ، بعض تو ہم میں سے محرم تھے اور بعض غیر محرم ۔ میں نے دیکھا کہ میرے ساتھی ایک دوسرے کو کچھ دکھا رہے ہیں ، میں نے جو نظر اٹھائی تو ایک گورخر سامنے تھا ، ان کی مراد یہ تھی کہ ان کا کوڑا گر گیا ، ( اور اپنے ساتھیوں سے اسے اٹھانے کے لیے انہوں نے کہا ) ، لیکن ساتھیوں نے کہا کہ ہم تمہاری کچھ بھی مدد نہیں کر سکتے کیونکہ ہم محرم ہیں ) اس لیے میں نے وہ خود اٹھایا اس کے بعد میں اس گورخر کے نزدیک ایک ٹیلے کے پیچھے سے آیا اور اسے شکار کیا ، پھر میں اسے اپنے ساتھیوں کے پاس لایا ، بعض نے تو یہ کہا کہ ( ہمیں بھی ) کھا لینا چاہئے لیکن بعض نے کہا کہ نہیں کھانا چاہیے ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا ۔ آپ ہم سے آگے تھے ، میں نے آپ سے مسئلہ پوچھا تو آپ نے بتایا کہ کھا لو یہ حلال ہے ۔ ہم سے عمرو بن دینار نے کہا کہ صالح بن کیسان کی خدمت میں حاضر ہو کر اس حدیث اور اس کے علاوہ کے متعلق پوچھ سکتے ہو اور وہ ہمارے پاس یہاں آئے تھے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
اسی صورت میں اس شکار کا گوشت احرام والوں کو بھی کھانا درست ہے، اس سے حالت احرام کی روحانی اہمیت اور بھی ظاہر ہوتی ہے۔
آدمی محرم بننے کے بعد ایک خالص مخلص فقیر الی اللہ بن جاتا ہے پھر شکار یا اسکے متعلق اور اس سے اس کو کیا واسطہ۔
جو حج ایسے ہی نیک جذبات کے ساتھ ہوگا وہی حج مبرور ہے۔
نافع بن مرجس عبداللہ بن عمر ؓ کے آزاد کردہ ہیں۔
یہ دیلمی تھے اور اکابر تابعین میں سے ہیں، حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت ابوسعید خدری ؓ سے حدیث کی سماعت کی ہے۔
ان سے بہت سے اکابر علماءحدیث نے روایت کی ہے جن میں امام زہری، امام مالک بن انس شامل ہیں۔
حدیث کے بارے میں یہ بہت ہی مشہورشخص ہیں۔
نیز ان ثقہ راویوں میں سے ہیں، جن کی روایت شک و شبہ سے بالا ہوتی ہے اور جن کی حدیث پر عمل کیا جاتا ہے۔
حضرت ابن عمر ؓ کی حدیث کا بڑا حصہ ان پر موقوف ہے۔
امام مالک فرماتے ہیں کہ جب نافع کے واسطے سے ابن عمر ؓ کی حدیث سن لیتا ہوں تو کسی اور راوی سے سننے سے بے فکر ہو جاتا ہوں۔
117ھ میں وفات پائی سرجس میں سین مہملہ اول مفتوح راءساکن اور جیم مکسور ہے۔
(1)
بعض حضرات کا خیال ہے کہ جن چیزوں سے شکار کیا جاتا ہے ان کے ذریعے سے محرم کے لیے غیر محرم کی مدد کرنا جائز نہیں، البتہ جن سے شکار نہیں کیا جاتا ان سے مدد کی جا سکتی ہے۔
امام بخاری ؒ نے ان کی تردید فرمائی اور واضح کیا کہ ہر کام یا بات کے ذریعے سے مدد کرنا منع ہے، چنانچہ اس حدیث میں ہے کہ حضرت ابو قتادہ ؓ کے ساتھیوں نے اس سلسلے میں ان کی کوئی مدد نہ کی بلکہ صاف انکار کر دیا، پھر وہ خود گھوڑے سے اترے اور اپنا کوڑا اٹھایا۔
(2)
بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کسی دوسرے ساتھی کا کوڑا چھین کر لے گئے۔
اگر ایسی صورت ہو تو احرام والوں کے لیے شکار کا گوشت کھانا جائز ہے۔
روایات سے پتہ چلتا ہے کہ ساتھیوں کو شکار کا گوشت کھانے کے بعد شک پیدا ہوا۔
اسی طرح صحابہ کے کردار سے پتہ چلتا ہے کہ انہیں اس بات کا علم تھا کہ شکار کے سلسلے میں محرم آدمی کسی غیر محرم کی مدد نہیں کر سکتا۔
(فتح الباري: 37/4)
واللہ أعلم۔
(3)
حضرت صالح بن کیسان مدینہ طیبہ میں رہتے تھے، وہ ایک دفعہ مکہ مکرمہ آئے تو عمرو بن دینار نے اپنے ساتھیوں سے کہا: جاؤ، ان سے تصدیق کرو۔
امام بخاری ؒ نے حدیث کے آخر میں اسی حقیقت کو بیان کیا ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کی روایت کا مقصد یہ کہ مسلمان کے لئے یہ امر باعث فخر ہے کہ وہ ہر حال میں اللہ کا سپاہی ہے ہر حال میں سپاہیانہ زندگی گزارنا یہی اس کا اوڑھنا اور بچھونا ہے۔
صد افسوس کہ عام اہل اسلام بلکہ خواص تک ان حقائق اسلام سے حد درجہ غافل ہوگئے ہیں۔
علمائے ظواہر صرف فروعی مسائل میں الجھ کر رہ گئے اور حقائق اسلام نظروں سے بالکل اوجھل ہوگئے جس کی سزا سارے مسلمان عام طور پر غلامانہ زندگی کی شکل میں بھگت رہے ہیں۔
إلا من شاء اللہ
1۔
احرام والا آدمی خود شکار نہیں کر سکتا اور نہ کسی شکاری آدمی کا تعاون ہی کر سکتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ حضرت ابو قتادہ ؓنے اپنے ساتھیوں سے اپنا نیزہ پکڑنا چاہا، لیکن انھوں نے انکار کردیا کیونکہ ایسا کرنے سے احرام والے کا تعاون شامل ہو جاتا ہےجبکہ محرم شکار کی طرف اشارہ بھی نہیں کر سکتا۔
2۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضرت ابوقتادہ ؓ نیزے سے مسلح تھے۔
امام بخاری ؓ نے اس سے نیزے کے استعمال کا جواز ثابت کیا ہے لیکن اس حدیث سے نیزے کی فضیلت ثابت نہیں ہوتی بلکہ حضرت ابن عمر ؓ کے متعلق روایت میں اس کی فضیلت مذکورہ ہے واللہ أعلم۔
حافظ نے کہا اس کا ایک شاہد اور ہے جسے ترمذی نے صفوان بن امیہ سے نکالا کہ گوشت کو منہ سے نوچ کر کھاؤ وہ جلدی ہضم ہو گا۔
اس کی سند بھی ضعیف ہے۔
مافي الباب یہ ہے کہ منہ سے نوچ کر کھانا اولیٰ ہوگا۔
میں (مولانا وحیدالزماں مرحوم)
کہتا ہوں جب گوشت چھری سے کاٹ کر کھانا درست ہوا تو روٹی بھی چھری سے کاٹ کر کھانا درست ہوگی۔
اسی طرح کانٹے سے کھانا بھی درست ہو گا۔
اسی طرح چمچہ سے بھی اور جن لوگوں نے ان باتوں میں تشدد اور غلو کیا ہے اور ذرا ذرا سی باتوں پرمسلمانوں کو کافر بنایا ہے میں ان کا یہ تشدد ہرگز پسند نہیں کرتا۔
کافروں کی مشابہت کرنا تومنع ہے مگریہ وہی مشابہت ہے جو ان کے مذہب کی خاص نشانی ہو جیسے صلیب لگانا یا انگریزوں کی ٹوپی پہننا لیکن جب کسی کی نیت مشابہت کی نہ ہو، یہی لباس مسلمانوں میں بھی رائج ہومثلاً ترک یا ایران کے مسلمانوں میں تواس کی مشابہت میں داخل نہیں کر سکتے اورنہ ایسے کھانے پینے لباس کو فروعی باتوں کی وجہ سے مسلمان کے کفر کا فتویٰ دے سکتے ہیں (وحیدی)
مگر مسلمان کے لیے دیگر اقوام کی مخصوص عادات و غلط روایات سے بچنا ضروری ہے۔
(1)
امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث سے ثابت کیا ہے کہ چھری کانٹا استعمال کیے بغیر گوشت کو منہ سے نوچ نوچ کر کھانا بھی جائز ہے بلکہ بہتر ہے کیونکہ ایسا کرنے سے اس کے جلدی ہضم ہونے میں مدد ملتی ہے۔
(2)
اس حدیث میں ہے کہ جب حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے گورخر کا شانہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دانتوں سے نوچ نوچ کر کھایا۔
اس کے لیے لفظ تعرق استعمال ہوا ہے۔
جس ہڈی پر گوشت ہو اسے عِرق کہتے ہیں اور اگر اسے نوچ نوچ کر بالکل صاف کر دیا جائے تو اسے عراق کہا جاتا ہے۔
بہرحال گوشت کھانے کے لیے چھری کانٹا استعمال کرنا اور دانتوں سے نوچ کر کھانا دونوں طرح جائز ہے، البتہ نوچ کر کھانا مستحب ہے۔
(فتح الباري: 677/9)
(1)
محرم کے خود شکار کرنے پر پابندی ہے اور وہ اس سلسلے میں کسی قسم کا تعاون بھی نہیں کر سکتا حتی کہ وہ اس کی طرف اشارہ تک بھی نہیں کر سکتا، چنانچہ حدیث میں ہے کہ ابو قتادہ ؓ کے ساتھیوں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا تو آپ نے فرمایا: ’’ تم میں سے کسی نے اس کی طرف اشارہ تو نہیں کیا تھا؟‘‘ انہوں نے کہا: نہیں۔
اس پر آپ نے فرمایا: ’’شکار کا بقیہ گوشت کھا لو‘‘ (صحیح البخاري، جزاءالصید، حدیث: 1824) (2)
اس حدیث میں ہے کہ صحابۂ كرام ؓ جنگلی گدھا دیکھ کر ہنس پڑے۔
یہ ہنسنا اشارے کے لیے نہیں بلکہ اظہار تعجب کے طور پر تھا کہ ہم قدرت رکھنے کے باوجود احرام کی وجہ سے اسے شکار نہیں کر سکتے۔
(3)
امام بخاری ؒ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ شکار دیکھ کر اس طرح ہنس پڑنا اس کی طرف اشارہ کرنا نہیں ہے، اس لیے اگر شکار کے سلسلے میں محرم آدمی نے کسی غیر محرم سے کسی قسم کا تعاون نہ کیا ہو تو شکار کا گوشت کھانے میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ شکار محرم کے لیے نہ کیا گیا ہو۔
واللہ أعلم
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے ایک نیل گائے شکار کیا اور اسے اپنے ساتھیوں کے پاس لے کر آئے، وہ لوگ احرام باندھے ہوئے تھے اور میں حلال (یعنی احرام سے باہر) تھا تو ہم نے اس میں سے کھایا، پھر ہم میں سے ہر ایک نے دوسرے سے کہا: ہم اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ لیتے تو بہتر ہوتا، چنانچہ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، تو آپ نے فرمایا: ” تم نے ٹھیک کیا “، پھر فرمایا: ” کیا تم لوگوں کے پاس اس میں سے کچھ ہے؟ “ ہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4350]
عبداللہ بن ابی قتادہ کہتے ہیں کہ میرے والد صلح حدیبیہ کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلے تو ان کے ساتھیوں نے احرام باندھ لیا لیکن انہوں نے نہیں باندھا، (ان کا بیان ہے) کہ میں اپنے اصحاب کے ساتھ تھا کہ اسی دوران ہمارے اصحاب ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر ہنسے، میں نے نظر اٹھائی تو اچانک ایک نیل گائے مجھے دکھائی پڑا، میں نے اسے نیزہ مارا اور (اسے پکڑنے اور ذبح کرنے کے لیے) ان س۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2827]
«. . . 426- وعن أبى النضر عن نافع مولى أبى قتادة الأنصاري عن أبى قتادة: أنه كان مع رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى إذا كنا ببعض طريق مكة تخلف مع أصحاب له محرمين وهو غير محرم. فرأى حمارا وحشيا فاستوى على فرسه، ثم سأل أصحابه أن يناولوه سوطه فأبوا، فسألهم رمحه فأبوا، فأخذ، ثم شد على الحمار فقتله، فأكل بعض أصحاب النبى صلى الله عليه وسلم وأبى بعضهم، فلما أدركوا رسول الله صلى الله عليه وسلم سألوه عن ذلك، فقال: ”إنما هي طعمة أطعمكموها الله.“ . . .»
”. . . سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ ابوقتادہ الانصاری رضی اللہ عنہ نے کہا: جب ہم مکے کے بعض راستے میں تھے تو وہ بعض ساتھیوں سمیت پیچھے رہ گئے اور انہوں نے احرام نہیں باندھا تھا۔ پھر انہوں نے ایک گورخر (جنگلی حلال جانور) دیکھا تو اپنے گھوڑے پر چڑھ گئے پھر اپنے ساتھیوں سے کہا کہ وہ انہیں ان کا کوڑا دے دیں مگر ساتھیوں نے انکار کر دیا۔ پھر انہوں نے کہا کہ ان کا نیزہ انہیں دے دیں مگر ساتھیوں نے (اس سے بھی) انکار کر دیا تو انہوں نے خود پکڑ لیا پھر گورخر پر حملہ کر کے اسے شکار کر لیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض صحابہ نے اس گورخر کے گوشت میں سے کھایا اور بعض نے کھانے سے انکار کر دیا پھر جب ان کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس (شکار) کے بارے میں پوچھا: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ (حلال) کھانا ہے جو تمہیں اللہ نے کھلایا ہے۔ . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 311]
[وأخرجه البخاري 2914، ومسلم 57/1196، من حديث مالك به]
تفقه:
➊ حالت احرام میں شکار کرنا جائز نہیں ہے لیکن اگر کوئی ایسا شخص شکار کرے جو احرام میں نہیں تو اس کا کیا ہوا شکار ان لوگوں کے لئے بھی حلال ہے جو حالت احرام میں ہیں۔ یاد رہے کہ حالتِ احرام کے علاوہ شکار مطلقاً حلال ہے اِلا یہ کہ کوئی دلیل اسے خاص کر دے۔
➋ مشتبہ چیزوں سے بچنا چاہئے۔
➌ سیدنا زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ حالتِ احرام میں ہرن کے بھونے ہوئے گوشت سے ناشتہ کرتے تھے۔ [الموطأ 1/350 ح795 وسنده صحيح]
➍ جو چیز منع ہے اس میں کسی شخص سے تعاون نہیں کرنا چاہئے مثلاً اگر کوئی شخص کہے کہ سگریٹ یا نسوار لے آؤ تو اسے یہ چیزیں لاکر نہیں دینی چاہئیں۔ یہی حکم دوسری ممنوعہ چیزوں کا بھی ہے۔
➎ اتباع سنت میں صحابہ کرام ہر وقت مستعد و ثابت قدم رہتے تھے۔
➏ حالت احرام میں گوشت خرید کر کھانا جائز ہے۔
➐ اگر کسی بات میں شک ہو تو کتاب و سنت کی طرف رجوع کر کے تصدیق کر لینی چاہیے۔
➑ نیز دیکھئے: حدیث [البخاري 5491، ومسلم 58/1196]
سیدنا ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے ان کے جنگلی گدھے کو شکار کرنے کے قصے میں جبکہ انہوں نے احرام نہیں باندھا تھا، مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا اور وہ احرام والے تھے ” کیا تم میں سے کسی نے اسے حکم دیا تھا یا اس کی طرف کسی چیز سے اشارہ کیا تھا؟ “ انہوں نے کہا نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” پس کھاؤ اس کے گوشت سے جو بچ گیا ہے۔ “ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 599]
«فِي فِصَّةِ صَيْدِهِ الْحِمَارِ الْوَحْشِي» جنگلی گدھے کو شکار کرنے کے قصے میں۔
فوائد و مسائل:
➊ اس قصے کی تفصیل یہ ہے کہ حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سفر کے لیے نکلے، مگر اپنے چند ساتھیوں سمیت پیچھے رہ گئے۔ حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے احرام نہیں باندھا تھا، البتہ ان کے ساتھی احرام کی حالت میں تھے۔ جب انہوں نے وحشی گدھا دیکھا تو اسے نظر انداز کر دیا۔ جب ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کی نظر اس پر پڑی تو وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہو گئے اور ساتھیوں سے کہا کہ میری لاٹھی پکڑاؤ، انہوں نے اس سے انکار کر دیا، پھر ابوقتادہ رضی اللہ عنہ اس پر حملہ آور ہوئے اور اسے زخمی کر دیا۔ ذبح کر کے حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے بھی اس کا گوشت کھایا اور ان کے ساتھیوں نے بھی کھایا مگر پھر وہ پریشان ہو گئے۔ بالآخر جب وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سارا ماجرا عرض کیا جس کا جواب اس روایت میں مذکور ہے۔
➋ یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ جنگلی جانور کا شکار جب غیر محرم کرے اور محرم نے اس سلسلے میں اس کی کوئی مدد نہ کی ہو اور نہ اس بارے میں کوئی اشارہ ہی کیا ہو تو محرم بھی اس میں سے کھا سکتا ہے مگر اس بارے میں مزید تفصیل ہے جو آئندہ حدیث کے تحت آرہی ہے۔