حدیث نمبر: 1793
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ : سَأَلْنَا ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْ رَجُلٍ طَافَ بِالْبَيْتِ فِي عُمْرَةٍ وَلَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، أَيَأْتِي امْرَأَتَهُ ؟ , فَقَالَ : قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَطَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا ، وَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ ، وَطَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ سَبْعًا ، وَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ .
مولانا داود راز

´ہم سے حمیدی نے بیان کیا ، ان سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، ان سے عمرو بن دینار نے کہا کہ` ہم نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا جو عمرہ کے لیے بیت اللہ کا طواف تو کرتا ہے لیکن صفا اور مروہ کی سعی نہیں کرتا ، کیا وہ ( صرف بیت اللہ کے طواف کے بعد ) اپنی بیوی سے ہمبستر ہو سکتا ہے ؟ انہوں نے اس کا جواب یہ دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( مکہ ) تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کا سات چکروں کے ساتھ طواف کیا ، پھر مقام ابراہیم علیہ السلام کے قریب دو رکعت نماز پڑھی ، اس کے بعد صفا اور مروہ کی سات مرتبہ سعی کی ” اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی تمہارے لیے بہترین نمونہ ہے ۔ “

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب العمرة / حدیث: 1793
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
1793. حضرت عمرو بن دینار سے روایت ہے کہ ہم نے حضرت ابن عمر رضی ؓ سے سوال کیا کہ اگر کوئی عمرہ کرتے وقت بیت اللہ کا طواف مکمل کرے اور صفا ومروہ کے درمیان سعی نہ کرے تو کیا ا پنی بیوی کے پاس جا سکتا ہے؟ انھوں نے جواب دیا: نبی کریم ﷺ مکہ مکرمہ میں تشریف لائے کعبہ کے سات چکر لگائے اور مقام ابراہیم ؑ کے پیچھے دورکعتیں پڑھیں اس کے بعد صفا اور مروہ کے درمیان سات چکر لگائے۔ اور تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی میں بہترین نمونہ ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:1793]
حدیث حاشیہ:
فائدہ: ان احادیث سے معلوم ہوا کہ عمرہ کرنے والے کے لیے ضروری ہے کہ وہ بیت اللہ کا طواف کرنے کے بعد صفا اور مروہ کی سعی کرے، پھر اپنی حجامت بنا کر احرام کی پابندیوں سے آزاد ہو گا، چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے رسول اللہ ﷺ کے حوالے سے عمرے کی کیفیت بیان کر کے سائل کو جواب دیا جبکہ حضرت جابر بن عبداللہ ؓ نے دو ٹوک الفاظ میں فرمایا: جب تک صفا اور مروہ کی سعی نہ کرے وہ اپنی بیوی کے پاس نہیں جا سکتا۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1793 سے ماخوذ ہے۔