صحيح البخاري
كتاب الحج— کتاب: حج کے مسائل کا بیان
بَابُ إِذَا حَاضَتِ الْمَرْأَةُ بَعْدَ مَا أَفَاضَتْ: باب: اگر طواف افاضہ کے بعد عورت حائضہ ہو جائے؟
حدیث نمبر: 1760
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " رُخِّصَ لِلْحَائِضِ أَنْ تَنْفِرَ إِذَا أَفَاضَتْ .مولانا داود راز
´ہم سے مسلم نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے وہیب نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے ابن طاؤس نے بیان کیا ، ان سے ان کے باپ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` عورت کو اس کی اجازت ہے کہ اگر وہ طواف افاضہ ( طواف زیارت ) کر چکی ہو اور پھر ( طواف وداع سے پہلے ) حیض آ جائے تو ( اپنے گھر ) واپس چلی جائے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 329 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
329. حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: اگر حائضہ کو عذر حیض شروع ہو جائے تو وہ (طواف وداع کے بغیر) مکے سے روانہ ہو سکتی ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:329]
حدیث حاشیہ:
1۔
طواف کی تین اقسام ہیں:۔
طواف قدوم:۔
اسے طواف تحیہ بھی کہا جاتا ہے۔
بیت اللہ میں داخل ہوتے ہی پہلے یہ طواف کیا جاتا ہے۔
اگر کوئی عورت حالت ِحیض میں مکہ پہنچے تویہ طواف ساقط ہوجاتا ہے۔
۔
طواف افاضہ:۔
اسے طواف زیارت بھی کہاجاتاہے۔
یہ حج کارکن ہے۔
یہ طواف ذوالحجہ کی دسویں تاریخ کو کیا جاتا ہے۔
یہ کسی حالت میں ساقط نہیں ہوتا۔
اگرعورت کو حیض آجائے تو وہ اس کےختم ہونے کا انتظار کرے اور طواف افاضہ کرکے وطن واپس آئے۔
۔
طواف وداع: اسے طواف صدر بھی کہتے ہیں جو وطن واپسی کے وقت کیا جاتا ہے۔
اگر کوئی عورت حالت حیض میں ہے تو طواف وداع بھی ساقط ہوجاتا ہے۔
2۔
امام بخاری ؒ کا مقصد یہ ہے کہ طواف افاضہ،جوحج کارکن ہے، کرلینے کے بعداگر کسی خاتون کو حیض شروع ہوجائے تو اسے طواف وداع کے لیے مکہ مکرمہ میں ٹھہرنا ضروری نہیں، وہ اپنے گھر واپس آسکتی ہے، کیونکہ شریعت نے اسے ساقط کردیا ہے۔
طواف افاضہ کو طواف رکن، طواف زیارت اورطواف یوم النحر بھی کہتے ہیں۔
حضرت ابن عمر ؓ کا پہلے فتویٰ تھا کہ حائضہ کو طواف وداع کے لیے طہارت کا انتظار کرنا ہوگا۔
جب انھیں پتہ چلاکہ رسول اللہ ﷺ نے اس کی رخصت دی تھی تو اس موقف سے رجوع کرلیا یا رخصت کا پہلے علم تھا، لیکن وہ بھول گئے اور اسے متاثر کردینے کا فتویٰ دینے لگے، بعد میں یاد دہانی کرانے سے اپنے فتوی سے دستبردار ہوگئے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حائضہ عورت بیت اللہ کا طواف نہیں کرسکتی۔
(فتح الباري: 555/1)
1۔
طواف کی تین اقسام ہیں:۔
طواف قدوم:۔
اسے طواف تحیہ بھی کہا جاتا ہے۔
بیت اللہ میں داخل ہوتے ہی پہلے یہ طواف کیا جاتا ہے۔
اگر کوئی عورت حالت ِحیض میں مکہ پہنچے تویہ طواف ساقط ہوجاتا ہے۔
۔
طواف افاضہ:۔
اسے طواف زیارت بھی کہاجاتاہے۔
یہ حج کارکن ہے۔
یہ طواف ذوالحجہ کی دسویں تاریخ کو کیا جاتا ہے۔
یہ کسی حالت میں ساقط نہیں ہوتا۔
اگرعورت کو حیض آجائے تو وہ اس کےختم ہونے کا انتظار کرے اور طواف افاضہ کرکے وطن واپس آئے۔
۔
طواف وداع: اسے طواف صدر بھی کہتے ہیں جو وطن واپسی کے وقت کیا جاتا ہے۔
اگر کوئی عورت حالت حیض میں ہے تو طواف وداع بھی ساقط ہوجاتا ہے۔
2۔
امام بخاری ؒ کا مقصد یہ ہے کہ طواف افاضہ،جوحج کارکن ہے، کرلینے کے بعداگر کسی خاتون کو حیض شروع ہوجائے تو اسے طواف وداع کے لیے مکہ مکرمہ میں ٹھہرنا ضروری نہیں، وہ اپنے گھر واپس آسکتی ہے، کیونکہ شریعت نے اسے ساقط کردیا ہے۔
طواف افاضہ کو طواف رکن، طواف زیارت اورطواف یوم النحر بھی کہتے ہیں۔
حضرت ابن عمر ؓ کا پہلے فتویٰ تھا کہ حائضہ کو طواف وداع کے لیے طہارت کا انتظار کرنا ہوگا۔
جب انھیں پتہ چلاکہ رسول اللہ ﷺ نے اس کی رخصت دی تھی تو اس موقف سے رجوع کرلیا یا رخصت کا پہلے علم تھا، لیکن وہ بھول گئے اور اسے متاثر کردینے کا فتویٰ دینے لگے، بعد میں یاد دہانی کرانے سے اپنے فتوی سے دستبردار ہوگئے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حائضہ عورت بیت اللہ کا طواف نہیں کرسکتی۔
(فتح الباري: 555/1)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 329 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 945 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´حائضہ عورت حج کے کون کون سے مناسک ادا کرے؟`
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہما کہتی ہیں کہ مجھے حیض آ گیا چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے طواف کے علاوہ سبھی مناسک ادا کرنے کا حکم دیا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 945]
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہما کہتی ہیں کہ مجھے حیض آ گیا چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے طواف کے علاوہ سبھی مناسک ادا کرنے کا حکم دیا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 945]
اردو حاشہ: 1؎: بخاری ومسلم کی روایت میں ہے' أهلي بالحج واصنعي ما يصنع الحاج غير أن لا تطوفي بالبيت' یعنی حج کا تلبیہ پکارو اوروہ سارے کام کرو جو حاجی کرتا ہے سوائے خانہ کعبہ کے طواف کے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 945 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 1744 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´حائضہ عورت حج کا تلبیہ پکارے اور احرام باندھ لے۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” حائضہ اور نفاس والی عورتیں جب میقات پر آ جائیں تو غسل کریں، احرام باندھیں اور حج کے تمام مناسک ادا کریں سوائے بیت اللہ کے طواف کے ۱؎۔“ ابومعمر نے اپنی حدیث میں «حتى تطهر» ” یہاں تک کہ پاک ہو جائیں “ کا اضافہ کیا۔ ابن عیسیٰ نے عکرمہ اور مجاہد کا ذکر نہیں کیا، بلکہ یوں کہا: «عن عطاء عن ابن عباس» اور ابن عیسیٰ نے «كلها» کا لفظ بھی نقل نہیں کیا بلکہ صرف «المناسك إلا الطواف بالبيت» ” مناسک پورے کریں بجز خانہ کعبہ کے طواف کے “ کہا۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1744]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” حائضہ اور نفاس والی عورتیں جب میقات پر آ جائیں تو غسل کریں، احرام باندھیں اور حج کے تمام مناسک ادا کریں سوائے بیت اللہ کے طواف کے ۱؎۔“ ابومعمر نے اپنی حدیث میں «حتى تطهر» ” یہاں تک کہ پاک ہو جائیں “ کا اضافہ کیا۔ ابن عیسیٰ نے عکرمہ اور مجاہد کا ذکر نہیں کیا، بلکہ یوں کہا: «عن عطاء عن ابن عباس» اور ابن عیسیٰ نے «كلها» کا لفظ بھی نقل نہیں کیا بلکہ صرف «المناسك إلا الطواف بالبيت» ” مناسک پورے کریں بجز خانہ کعبہ کے طواف کے “ کہا۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1744]
1744. اردو حاشیہ: ➊ حیض ونفاس والی عورتیں حج وعمر ہ کے لیے غسل کر کے احرام باندھیں تلبیہ پکاریں اور تسبیحات استغفار اور اذکار میں مشغول رہیں۔ سوائے بیت اللہ کے طواف کے ان پر اور کوئی پابندی نہیں۔
➋ ایسے ہی کسی کو احتلام ہو جائے تو اس کے احرام میں کوئی خلل نہیں آتا۔
➋ ایسے ہی کسی کو احتلام ہو جائے تو اس کے احرام میں کوئی خلل نہیں آتا۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1744 سے ماخوذ ہے۔