صحيح البخاري
كتاب الحج— کتاب: حج کے مسائل کا بیان
بَابُ إِذَا رَمَى بَعْدَ مَا أَمْسَى أَوْ حَلَقَ قَبْلَ أَنْ يَذْبَحَ نَاسِيًا أَوْ جَاهِلاً: باب: کسی نے شام تک رمی نہ کی یا قربانی سے پہلے بھول کر یا مسئلہ نہ جان کر سر منڈوا لیا تو کیا حکم ہے؟
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْأَلُ يَوْمَ النَّحْرِ بِمِنًى ، فَيَقُولُ : لَا حَرَجَ ، فَسَأَلَهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ ؟ قَالَ : اذْبَحْ وَلَا حَرَجَ ، وَقَالَ : رَمَيْتُ بَعْدَ مَا أَمْسَيْتُ ؟ فَقَالَ : لَا حَرَجَ " .´ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ، ان سے یزید بن زریع نے بیان کیا ، ان سے خالد نے بیان کیا ، ان سے عکرمہ نے ، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یوم نحر میں منیٰ میں مسائل پوچھے جاتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے جاتے کہ کوئی حرج نہیں ، ایک شخص نے پوچھا تھا کہ میں نے قربانی کرنے سے پہلے سر منڈا لیا ہے تو آپ نے اس کے جواب میں بھی یہی فرمایا کہ جاؤ قربانی کر لو کوئی حرج نہیں اور اس نے یہ بھی پوچھا کہ میں نے کنکریاں شام ہونے کے بعد ہی مار لی ہیں ، تو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی حرج نہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
اہل حدیث کا یہی مذہب ہے اور شافعیہ اور حنابلہ کا یہی مذہب ہے اور مالکیہ اور حنفیہ کا قول ہے کہ ان میں ترتیب واجب ہے اور اس کا خلاف کرنے والوں پر دم لازم ہوگا، ظاہر ہے کہ ان حضرات کا یہ قول حدیث ہذا کے خلاف ہونے کی وجہ سے قابل توجہ نہیں کیوں کہ ہوتے ہوئے مصطفی کی گفتار مت دیکھ کسی کا قول و کردار
(1)
یہ واقعہ حجۃ الوداع کا ہے۔
لوگ مکہ اور اس کے مضافات حجاز کے اطراف و اکناف سے آئے تھے اور احکام حج سے پوری طرح واقف نہ تھے۔
جب دسویں تاریخ کو مناسک حج ادا کرنے میں تقدیم و تاخیر ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ لاعلمی اور بھول کی وجہ سے تقدیم و تاخیر میں کوئی گناہ نہیں اور نہ اس سے کوئی فدیہ ہی لازم آتا ہے۔
(2)
اس روایت میں بھول کر یا جہالت کی بنا پر کوئی کام کرنے کا ذکر نہیں ہے، تاہم اسی روایت کے بعض طرق میں بھول اور جہالت کی صراحت ہے، چنانچہ امام بخاری ؒ نے خود اس روایت کو بیان کیا ہے جس میں نسیان اور لاعلمی کا ذکر ہے۔
دیکھیے: (حدیث: 1736) (3)
بعض حضرات کے نزدیک دسویں تاریخ کے مناسک میں ترتیب واجب ہے اور اس کے برعکس کرنے پر دم واجب ہو گا لیکن یہ موقف صحیح اور صریح احادیث کے خلاف ہونے کی وجہ سے قابل التفات نہیں۔
تعلیم وتبلیغ کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ خوب کھول کھول کر ارشاد فرماتے تاکہ حاضرین کو سمجھنےمیں کوئی دقت پیش نہ آئے۔
ہاتھ کے اشارے میں وہ صراحت نہیں ہوتی، نہ ہر انسان اسے سمجھ ہی سکتا ہے۔
ان تمام اشتباہات کے پیش نظر امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے بوقت ضرورت ہی اس کا جواز ثابت کیا ہے، عام حالات میں نہیں۔
ان سے دین کی آسان ہونے کی طرف اشارہ ہے اور ان علماء کرام کے لیے قابل توجہ ہے جو ذرا ذرا سی باتوں میں نہ صرف لوگوں سے گرفت کرتے بلکہ فسق اور کفر کے تیر چلانے لگ جاتے ہیں۔
آج کے دور نازک میں بہت دور رس نگاہوں کی ضرورت ہے۔
اللہ پاک علماء اسلام کو یہ مرتبہ عطاء کرے۔
(آمین)
(1)
یہ تمام واقعات حجۃ الوداع کے موقع پر پیش آئے۔
ان سے دین اسلام کے آسان ہونے کی طرف اشارہ ہے۔
اس نازک دور میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح بہت دوررس نگاہوں کی ضرورت ہے۔
(2)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ خطا کرنے والے اور نسیان کا شکار ہونے والے پر کوئی مؤاخذہ نہیں حتی کہ فرض ادا کرنے میں اگر بھول چوک سے تقصیر ہو جائے تو وہ بھی قابل مؤاخذہ نہیں ہے، اس لیے اگر بھول کی بنا پر قسم ٹوٹ جائے تو اس پر کوئی کفارہ لازم نہیں ہو گا۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے اسی مقصد کے لیے یہ حدیث پیش کی ہے۔
غرض یوم النحر کے دن حاجی کو چار کام کرنے ہوتے ہیں رمی اور قربانی اور حلق یا قصر، ان چاروں میں ترتیب سنت ہے، لیکن فرض نہیں، اگر کوئی کام دوسرے سے آگے پیچھے ہو جائے تو کوئی حرج نہیں جیسے کہ ان حدیثوں سے نکلتا ہے۔
امام مالک اور شافعی اور اسحاق اور ہمارے امام احمد بن حنبل سب کا یہی قول ہے اور امام ابوحنيفہ کہتے ہیں کہ اس پر دم لازم آئے گا اور اگر قارن ہے تو دو دم لازم آئیں گے۔
(وحیدی)
جب شارع ؑ نے خود ایسی حالتوں میں لا حرج فرما دیا تو ایسے مواقع پر ایک یا دو دم لازم کرنا صحیح نہیں ہے آج کل معلمین حاجیوں کو ان بہانوں سے جس قدر پریشان کرتے ہیں اور ان سے روپیہ اینٹھتے ہیں یہ سب حرکتیں سخت ناپسندیدہ ہیں۔
فی الواقع کوئی شرعی کوتاہی قابل دم ہو تو وہ تو اپنی جگہ پر ٹھیک ہے مگر خواہ مخواہ ایسی چیزیں از خود پیدا کرنا بہت ہی معیوب ہے۔
اس حدیث سے مفتیان اسلام کو بھی سبق ملتا ہے، جہاں تک ممکن ہو فتوی دریافت کرنے والوں کے لیے کتاب و سنت کی روشنی میں آسانی و نرمی کا پہلو اختیار کریں مگر حدود شرعیہ میں کوئی بھی نرمی نہ ہونی چاہئے۔
(1)
امام بخاری ؒ نے مذکورہ حدیث کو چھ طرق سے بیان کیا، کچھ متن کے ساتھ اور کچھ متن کے بغیر۔
چھ طرق اس طرح ہیں: (1)
عبدالعزيز بن رفيع، عن عطاء، عن ابن عباس۔
(2)
قيس بن سعد، عن عطاء، عن جابر۔
(3)
ابن خثيم، عن عطاء، عن ابن عباس۔
(4)
عباد بن منصور، عن عطاء، عن جابر۔
(5)
ابن خثيم، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس۔
(6)
عكرمة، عن ابن عباس۔
تیسرے طریق سے یہ روایت معلق بیان ہوئی ہے جسے علامہ اسماعیلی نے متصل سند سے بیان کیا ہے۔
چوتھے طریق کی معلق روایت کو امام احمد نے اپنی مسند میں بیان کیا ہے۔
پانچویں طریق کی معلق روایت کو سنن نسائی میں متصل سند سے بیان کیا گیا ہے۔
(عمدةالقاري: 335/7)
مذکورہ تمام روایات حجۃ الوداع سے متعلق ہیں۔
اس سال لوگوں کی کثیر تعداد حج میں شامل ہوئی۔
بعض نے ناواقفیت کی وجہ سے دسویں ذوالحجہ کے کام آگے پیچھے کر لیے کیونکہ اس دن پہلے رمی کی جاتی ہے، پھر قربانی ذبح کرنی ہوتی ہے، اس کے بعد حجامت بنوانا، پھر آخر میں طواف زیارت کرنا ہوتا ہے، نیز اس دن رمی بھی غروب آفتاب سے پہلے کرنی ہوتی ہے لیکن ناواقفیت کی وجہ سے اگر ان افعال کو آگے پیچھے کر لیا جائے تو کوئی حرج نہیں جیسا کہ صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ دسویں ذوالحجہ کو منیٰ میں لوگوں کے لیے تشریف لائے، ایک آدمی آیا اور اس نے عرض کی: اللہ کے رسول! میں نے لاعلمی کی بنا پر قربانی سے قبل اپنا سر منڈوا دیا ہے۔
آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اب ذبح کر دے کوئی حرج نہیں۔
‘‘ دوسرے نے عرض کی: اللہ کے رسول! ناواقفیت کی وجہ سے میں نے رمی کرنے سے پہلے قربانی کر دی ہے۔
آپ نے فرمایا: ’’اب رمی کر لو کوئی حرج نہیں۔
‘‘ اس دن آپ سے اس تقدیم و تاخیر کے متعلق جو بھی سوال ہوا تو آپ نے یہی جواب دیا کہ جاؤ اب کر لو اس میں کوئی حرج نہیں۔
(صحیح مسلم، الحج، حدیث: 3156(1306)
حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے قربانی کرنے، سر منڈوانے، کنکریاں مارنے اور ان میں تقدیم و تاخیر کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ’’کوئی حرج نہیں‘‘ (صحیح البخاري، الحج، حدیث: 1734) (2)
امام بخاری ان احادیث سے یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ قربانی سر منڈوانے سے پہلے کرنی چاہیے کیونکہ سائل کے سوال کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسے اس بات کا علم تھا کہ قربانی حلق سے پہلے ہے لیکن اس نے اس کے برعکس کر لیا تھا۔
امام بخاری ؒ کے استدلال کی یہی بنیاد ہے، چنانچہ حضرت مسور بن مخرمہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سر منڈوانے سے پہلے قربانی کی اور اپنے صحابہ کرام کو بھی اس کا حکم دیا۔
(صحیح البخاري، المحصر، حدیث: 1811)
اگرچہ مذکورہ ترتیب عمرۂ حدیبیہ کے موقع کی ہے، تاہم حج میں بھی مسنون ترتیب یہی ہے جیسا کہ علامہ البانی ؒ نے اسے ثابت کیا ہے۔
(حجةالنبي صلی اللہ علیه وسلم للألباني،ص: 85)
الغرض یہ ترتیب مسنون ہے، فرض نہیں۔
اگر کوئی کام آگے پیچھے ہو جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منیٰ کے دن پوچھا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: ” کوئی حرج نہیں “، چنانچہ ایک شخص نے پوچھا: میں نے ذبح کرنے سے پہلے حلق کرا لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ذبح کر لو، کوئی حرج نہیں “، دوسرے نے کہا: مجھے شام ہو گئی اور میں نے اب تک رمی نہیں کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” رمی اب کر لو، کوئی حرج نہیں ۱؎۔“ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1983]
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ منیٰ کے ایام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (حج کے مسائل) پوچھے جاتے تو آپ فرماتے ” کوئی حرج نہیں “، ایک شخص نے آپ سے پوچھا: میں نے قربانی کرنے سے پہلے ہی سر منڈا لیا؟ آپ نے فرمایا: ” کوئی حرج نہیں “، اور ایک دوسرے شخص نے کہا: شام ہو جانے کے بعد میں نے کنکریاں ماریں؟ آپ نے فرمایا: ” کوئی حرج نہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3069]
(2) نبی اکرمﷺ نے کما حقہ دین کے احکام پہنچائے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس قدر اہتمام اور لگن سے سیکھے کہ سیکھنے کا حق ادا کر دیا۔