حدیث نمبر: 1702
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " كُنْتُ أَفْتِلُ الْقَلَائِدَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَيُقَلِّدُ الْغَنَمَ ، وَيُقِيمُ فِي أَهْلِهِ حَلَالًا " .
مولانا داود راز

´ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا ، ان سے عبدالواحد نے بیان کیا ، ان سے اعمش نے بیان کیا ، ان سے ابراہیم نے ، ان سے اسود نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ` میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کے جانوروں کے قلادہ خود بٹا کرتی تھی ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری کو بھی قلادہ پہنایا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود اپنے گھر اس حال میں مقیم تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حلال تھے ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الحج / حدیث: 1702
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 3095

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3095 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´ہدی کے اونٹوں کو قلادہ پہنانے کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی ۱؎ کے لیے قلادہ (پٹہ) بٹتی تھی، آپ وہ قلادہ اپنی ہدی والے جانور کے گلے میں ڈالتے، پھر اس کو روانہ فرما دیتے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ ہی میں مقیم رہتے، اور جن باتوں سے محرم پرہیز کرتا ہے ان میں سے کسی بات سے آپ پرہیز نہیں کرتے تھے ۲؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3095]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
هدي اس جانور کو کہتے ہیں جو حرم کی حدود میں قربان کیا جاتا ہے۔

(2)
جس طرح حاجی ہدی کی قربانی دیتا ہےاس طرح دوسرا آدمی بھی ہدی کا جانور مکہ میں بھیج سکتا ہے۔

(3)
یہ جانور منی میں قربان کیے جاتے ہیں تاہم مکہ شریف کے اندر بھی قربان کیے جاسکتے ہیں۔

(4)
قلادے سے مراد وہ رسی ہے جو ہدی کے گلے میں ڈالی جاتی ہےاور علامت کے طور پر جوتوں کا جوڑا اس رسی کے ذریعے سے جانور کے گلے میں لٹکا دیا جاتا ہے۔

(5)
قربانی کا جانور (اونٹ، گائے، بکری اور بھیڑ وغیرہ)
مکہ بھیجنے والے احرام کی پابندیاں عائد نہیں ہوتیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3095 سے ماخوذ ہے۔