صحيح البخاري
كتاب الحج— کتاب: حج کے مسائل کا بیان
بَابُ تَقْضِي الْحَائِضُ الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا إِلاَّ الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ، وَإِذَا سَعَى عَلَى غَيْرِ وُضُوءٍ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ: باب: حیض والی عورت بیت اللہ کے طواف کے سوا تمام ارکان بجا لائے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، قَالَ . ح وَقَالَ لِي خَلِيفَةُ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " أَهَلَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ وَأَصْحَابُهُ بِالْحَجِّ ، وَلَيْسَ مَعَ أَحَدٍ مِنْهُمْ هَدْيٌ غَيْرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَطَلْحَةَ ، وَقَدِمَ عَلِيٌّ مِنْ الْيَمَنِ وَمَعَهُ هَدْيٌ ، فَقَالَ : أَهْلَلْتُ بِمَا أَهَلَّ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْحَابَهُ أَنْ يَجْعَلُوهَا عُمْرَةً وَيَطُوفُوا ، ثُمَّ يُقَصِّرُوا وَيَحِلُّوا إِلَّا مَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ ، فَقَالُوا : نَنْطَلِقُ إِلَى مِنًى وَذَكَرُ أَحَدِنَا يَقْطُرُ ، فَبَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا أَهْدَيْتُ ، وَلَوْلَا أَنَّ مَعِي الْهَدْيَ لَأَحْلَلْتُ ، وَحَاضَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، فَنَسَكَتِ الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا غَيْرَ أَنَّهَا لَمْ تَطُفْ بالبيت ، فَلَمَّا طَهُرَتْ طَافَتْ بالبيت ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تَنْطَلِقُونَ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ وَأَنْطَلِقُ بِحَجٍّ ، فَأَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ أَنْ يَخْرُجَ مَعَهَا إِلَى التَّنْعِيمِ ، فَاعْتَمَرَتْ بَعْدَ الْحَجِّ " .´ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عبدالوہاب ثقفی نے بیان کیا ۔ ( دوسری سند ) اور مجھ سے خلیفہ بن خیاط نے بیان کیا کہ ہم سے عبدالوہاب ثقفی نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے حبیب معلم نے بیان کیا ، ان سے عطاء بن ابی رباح نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب نے حج کا احرام باندھا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور طلحہ کے سوا اور کسی کے ساتھ قربانی نہیں تھی ، علی رضی اللہ عنہ یمن سے آئے تھے اور ان کے ساتھ بھی قربانی تھی ۔ اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ( سب لوگ اپنے حج کے احرام کو ) عمرہ کا کر لیں ۔ پھر طواف اور سعی کے بعد بال ترشوا لیں اور احرام کھول ڈالیں لیکن وہ لوگ اس حکم سے مستثنیٰ ہیں جن کے ساتھ قربانی ہو ۔ اس پر صحابہ نے کہا کہ ہم منیٰ میں اس طرح جائیں گے کہ ہمارے ذکر سے منی ٹپک رہی ہو ۔ یہ بات جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوئی تو آپ نے فرمایا ، اگر مجھے پہلے معلوم ہوتا تو میں قربانی کا جانور ساتھ نہ لاتا اور جب قربانی کا جانور ساتھ نہ ہوتا تو میں بھی ( عمرہ اور حج کے درمیان ) احرام کھول ڈالتا اور عائشہ رضی اللہ عنہا ( اس حج میں ) حائضہ ہو گئی تھیں ۔ اس لیے انہوں نے بیت اللہ کہ طواف کے سوا اور دوسرے ارکان حج ادا کئے ۔ پھر پاک ہو لیں تو طواف بھی کیا ۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ آپ سب لوگ تو حج اور عمرہ دونوں کر کے جا رہے ہیں لیکن میں نے صرف حج ہی کیا ہے ۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن ابی بکر کو حکم دیا کہ انہیں تنعیم لیے جائیں ( اور وہاں سے عمرہ کا احرام باندھیں ) اس طرح عائشہ رضی اللہ عنہا نے حج کے بعد عمرہ کیا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
اس حدیث کے آخر میں ہے: ’’پھر ایسا ہوا کہ حضرت عائشہ ؓ کو حیض آ گیا۔
انہوں نے بیت اللہ کے طواف کے علاوہ تمام مناسک حج پورے کیے اور مخصوص ایام سے فراغت کے بعد (غسل کر کے)
بیت اللہ کا طواف کیا۔
‘‘ (2)
حدیث کی عنوان سے مناسبت یوں واضح ہوتی ہے کہ جنبی اور بے وضو انسان بھی حائضہ کے حکم میں ہے، یعنی یہ حضرات بھی طہارت اور وضو کے بغیر بیت اللہ کا طواف نہیں کر سکتے جیسا کہ جمہور اہل علم کا موقف ہے، البتہ مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے کہ شعبہ نے حضرت حکم، حماد، منصور اور سلیمان سے ایسے آدمی کے متعلق سوال کیا جو وضو کے بغیر بیت اللہ کا طواف کرتا ہے تو انہوں نے فرمایا: کوئی حرج نہیں۔
لیکن احادیث کی روشنی میں ان حضرات کا یہ موقف محل نظر ہے۔
(فتح الباري: 638/3)
1۔
دور جاہلیت کا یہ دستور تھا کہ وہ حج کے مہینوں میں عمرہ کرے کو بہت بڑا گناہ خیال کرتے تھے، اسی اصول کے پیش نظر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے مدینہ طیبہ سے حج کا احرام باندھا۔
جب یہ لوگ مکہ مکرمہ پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ حج کے احرام کو عمرے کے احرام میں بدل لیں اور عمرہ کرکے احرام کھول دیں۔
صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کو اس نئے حکم پر عمل کرنے میں کچھ ہچکچاہٹ ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اگرمجھے پہلے معلوم ہوجاتا جو اب معلوم ہوا ہے تو اپنی قربانی ساتھ نہ لاتا اور تمہارے ساتھ عمرہ کرکے احرام کھول دیتا۔
‘‘2۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا مقصد یہ ہے کہ اس خواہش کے اظہار سے اللہ کے فیصلے پر کوئی اعتراض کرنا مقصود نہیں بلکہ عام لوگوں کو تسلی دینا ہے کہ وہ بلا جھجک احرام کھول کر اس کی پابندیوں سے آزاد ہو جائیں اور یہ سہولت صرف تمہارے لیے نہیں بلکہ قیامت تک آنے والے تمام لوگوں کے لیے ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مسئلے پر مختلف الفاظ استعمال فرمائے: کبھی فرمایا: ’’میں قربانی کا جانور ساتھ نہ لاتا۔
‘‘ کبھی فرمایا: ’’میں بھی اسے عمرے کے احرام میں بدل لیتا۔
‘‘ کبھی فرمایا: ’’میں وہی کچھ کرتا جو لوگوں نے کیا ہے۔
‘‘
اس حدیث کی عنوان سے مناسبت اس طرح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا لوگوں کو بیویوں کے پاس جانے کا حکم دینا وجوب کے لیے نہ تھا جیسا کہ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ خود کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم ہم پر واجب نہیں کیا تھا البتہ عورتوں کو ان کے شوہروں کے لیے حلال کیا تھا کہ وہ اگر اپنی بیویوں سے جماع کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں یہ ان پر حرام نہیں کیونکہ یہ پابندی صرف احرام کی وجہ سے تھی جب احرام کھول دیا گیا تو پابندی بھی ختم ہو گئی اور یہ حکم پہلی حالت پر آگیا یعنی جس طرح احرام سے پہلے بیویوں سے ہم بستری کرنا جائز تھا اسی طرح احرام کھول دینے کے بعد بھی حکم جواز کا ہی رہا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بیویوں کے پاس جانے کا حکم دیا تھا اس سے صرف حلال ہونے میں مبالغہ مقصود تھا کیونکہ بیویوں سے جماع کرنا حج کو خراب کر دینا ہے جبکہ احرام کی دوسری پابندیاں حج کو خراب نہیں کرتیں اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پرزور انداز میں بیان فرمایا۔
(1)
حج کے سلسلے میں مبہم نیت کی جا سکتی ہے یا نہیں؟ تاکہ جواز کی صورت میں پیش آمدہ حالات و ظروف کو مدنظر رکھتے ہوئے اس میں تبدیلی کی جا سکے۔
امام بخارى ؒ کا رجحان اس طرف ہے کہ اس کا جواز صرف رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں تھا جیسا کہ ہم آئندہ تفصیل سے بیان کریں گے۔
(2)
اس کے متعلق امام بخاری ؒ نے حضرت جابر ؓ کی روایت انتہائی اختصار سے پیش کی ہے۔
ایک دوسری روایت میں تفصیل ہے: حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام ؓ نے حج کا احرام باندھا، لیکن رسول اللہ ﷺ اور حضرت طلحہ ؓ کے علاوہ کسی کے پاس قربانی کا جانور نہیں تھا، حضرت علی ؓ یمن سے آئے تو وہ اپنی قربانی کے جانور ساتھ لے کر آئے تھے اور ان کا احرام رسول اللہ ﷺ کے احرام جیسا تھا۔
رسول اللہ ﷺ نے مکہ پہنچ کر فرمایا: ’’جو شخص اپنے ساتھ قربانی نہیں لایا وہ اس احرام کو عمرے میں بدل لے۔
طواف اور سعی کر کے حلال ہو جائے۔
اگر میرے ساتھ قربانی نہ ہوتی تو میں بھی ایسا ہی کرتا۔
‘‘ (صحیح البخاري، العمرة، حدیث: 1785)
رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی ؓ سے فرمایا: وہ اپنے احرام کو جوں کا توں رکھے اور اسے قربانیوں میں شریک کر لیا۔
(صحیح البخاري، الشرکة، حدیث: 2506) (3)
اس حدیث میں اجمالی طور پر حضرت سراقہ ؓ کا ذکر بھی ہے۔
اس کی تفصیل یہ ہے کہ اس نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! احرام حج کو ختم کر کے عمرے میں بدل لینا پھر طواف اور سعی کر کے حلال ہو جانا صرف آپ کے (زمانہ مبارک کے)
ساتھ خاص ہے (یا آئندہ کے لیے بھی ایسا ہو سکتا ہے؟)
آپ ﷺ نے فرمایا: ’’نہیں! بلکہ ہمیشہ کے لیے ہے، یعنی عمرے کو حج میں داخل کر دیا گیا ہے۔
‘‘ (صحیح البخاري، العمرة، حدیث: 1785)
ان لوگوں کی غرض یہ تھی کہ جب تمتع کیا اور حج کا احرام مکہ سے باندھا، تو اب حج کا ثواب اتنا نہ ملے گا جتنا حج مفرد میں ملتا جس کا احرام باہر سے باندھا ہوتا۔
جابر ؓ نے یہ حدیث بیان کرکے مکہ والوں کا رد کیا اور ابو شہاب کا شبہ دور کردیا کہ تمتع میں ثواب کم ملے گا۔
تمتع تو سب قسموں میں افضل ہے اور اس میں افراد اور قران دونوں سے زیادہ ثواب ہے۔
(1)
مکی حج کا مطلب یہ ہے کہ اہل مکہ جو مکہ ہی سے حج کا احرام باندھتے ہیں اس میں تکلیف اور محنت کم ہوتی ہے، لہذا ثواب بھی زیادہ نہیں ملے گا کیونکہ حج کا ثواب تو بقدر مشقت ہوتا ہے۔
ان لوگوں کا مطلب یہ تھا کہ جب حج تمتع کیا اور عمرہ کر کے احرام کھول دیا تو حج کا احرام مکہ سے باندھنا ہو گا، اس طرح حج کا ثواب اتنا نہیں ملے گا جتنا حج مفرد میں ملتا ہے جس کا احرام باہر سے باندھا جاتا ہے۔
عطاء ؒ نے حضرت جابر ؓ کی حدیث بیان کر کے اہل مکہ کا رد کیا جو ابو شہاب کو بلا فیس مشورے دے رہے تھے۔
اس طرح ابو شہاب کا شبہ دور ہو گیا کہ حج تمتع کرنے سے ثواب کم ملتا ہے۔
تمتع تو تمام اقسام حج سے افضل ہے اور اس میں افراد اور قران دونوں سے زیادہ ثواب ملتا ہے، نیز جو شخص حج سے چند دن پہلے عمرہ کرے اسے قصر کرنا (بال کٹوانا)
چاہیے تاکہ دسویں تاریخ تک بال حلق (مونڈنے)
کے قابل ہو جائیں۔
(2)
امام بخاری ؒ نے حدیث کے آخر میں وضاحت کی ہے کہ حضرت عطاء بن ابی رباح کے واسطے سے ابو شہاب کی صرف یہی ایک روایت متصل سند سے مروی ہے، تاہم دوسرے طرق سے اس کی متعدد روایات کتب حدیث میں مروی ہیں۔
(فتح الباري: 544/3)
(1)
جب آدمی ادائے مناسک کے لیے مکہ مکرمہ روانہ ہو تو احرام باندھتے وقت حج یا عمرے کا تعین کرنا چاہیے، پھر حج کی نیت ہو تو اس بات کا بھی اظہار ہونا چاہیے کہ کون سا حج کرنا ہے: حج افراد، تمتع یا قران۔
مبہم احرام جائز نہیں۔
(2)
حج کے احرام کو عمرے میں بدلنا بھی اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے لیکن جمہور کے نزدیک یہ حکم منسوخ ہے۔
ایسا کرنا اس وقت تھا جب احکام پوری طرح واضح نہ تھے۔
اب جبکہ دین اسلام کی تکمیل ہو چکی ہے تو بامر مجبوری ہی ایسا کیا جا سکتا ہے لیکن عام حالات میں حج کے احرام کو عمرے میں تبدیل کرنا صحیح نہیں، البتہ حضرت ابن عباس ؓ کا موقف ہے کہ یہ حدیث محکم ہے اور اب بھی ایسا کیا جا سکتا ہے۔
امام احمد ؒ نے اسی موقف کی تائید کی ہے۔
(فتح الباري: 544/3)
واللہ أعلم
‘‘ اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے تنعیم سے جو عمرہ کیا وہ محض دل کے کھٹک اور خلجان کو دور کرنے کے لیے تھا عمرہ ترک نہیں کیا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی قضائی دی ہو اور اس حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حج قِران کے لیے ایک طواف اور ایک سعی کافی ہے۔
اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سراقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جو جواب دیا ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے حج کو فسخ کر کے عمرہ کی نیت کر لینا ہمیشہ کے لیے جائز ہے اور جمہور کے نزدیک جن میں امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ، امام مالک رحمۃ اللہ علیہ اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ داخل ہیں اس کا مطلب یہ ہے حج کے مہینوں میں عمرہ کرنے کی اجازت ہمیشہ کے لئے ہے صرف اس سال کے ساتھ مخصوص نہیں ہے کیونکہ جمہور کے نزدیک اب حج کو فسخ کر کے عمرہ کرنا درست نہیں ہے جس نیت سے احرام باندھا تھا اس پر عمل کیا جائے گا لیکن امام احمد رحمۃ اللہ علیہ، امام داؤد رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک اگر محرم ہدی ساتھ نہیں لایا تو پھر اس کے لیے حج تمتع کرنا لازم ہے اس لیے اس کو حج کا احرام عمرہ کا احرام بنانا پڑے گا حافظ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ اس پر (زاد المعاد ج2ص: 166تا212)
میں تفصیلی بحث کی ہے بعض حضرات نے اس کا معنی یہ لیا ہے کہ حج قران کی اجازت اس سال کے لیے ہے یا افعال عمرہ کو افعال حج میں داخل کرنا قیامت تک کے لیے ہے۔
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام نے حج کا احرام باندھا ان میں سے اس دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور طلحہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی کے پاس ہدی کے جانور نہیں تھے اور علی رضی اللہ عنہ یمن سے ساتھ ہدی لے کر آئے تھے تو انہوں نے کہا: میں نے اسی کا احرام باندھا ہے جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باندھا ہے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو حکم دیا کہ وہ حج کو عمرہ میں بدل لیں یعنی وہ طواف کر لیں پھر بال کتروا لیں اور پھر احرام کھول دیں سوائے ان لوگوں کے جن کے ساتھ ہدی ہو، تو لوگوں نے عرض کیا: کیا ہم منیٰ کو اس حال میں جائیں کہ ہمارے ذکر منی ٹپکا رہے ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا: ” اگر مجھے پہلے سے یہ معلوم ہوتا جو اب معلوم ہوا ہے تو میں ہدی نہ لاتا، اور اگر میرے ساتھ ہدی نہ ہوتا تو میں بھی احرام کھول دیتا۔“ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1789]
➋ اور دوسری بات (کہ ہم منی کو اس حالت میں جائیں ......)کہنے کی وجہ یہ تھی کہ عبادت چونکہ انسان سے زہد و رغبت الی اللہ کا تقاضا کرتی ہے اور اعمال حج شروع ہونےمیں دو دن باقی تھے تو انہیں کامل حلت کچھ عجیب سی لگی۔ نیز رسول اللہ ﷺ خود بھی تو حلال نہیں ہوئے تھے۔ او روہ رسول اللہ ﷺ کی پیروی کے شائق تھے۔ لیکن رسول اللہ ﷺ نے اپنی مجبوری کی وضاحت کرکے صحابہ کرام کا اشکال دور فرما دیا۔
جعفر بن محمد باقر کہتے ہیں کہ ہم جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور ان سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ علی رضی اللہ عنہ یمن سے ہدی لے کر آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے ہدی لے کر گئے۔ آپ نے علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ” تم نے کس چیز کا تلبیہ پکارا ہے؟ “ انہوں نے کہا: میں نے یوں کہا ہے: اے اللہ! میں اسی چیز کا تلبیہ پکارتا ہوں جس کا تلبیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2744]
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے خالص حج کا احرام باندھا، اس کے ساتھ اور کسی چیز کی نیت نہ تھی۔ تو ہم ۴ ذی الحجہ کی صبح کو مکہ پہنچے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ” احرام کھول ڈالو اور اسے (حج کے بجائے) عمرہ بنا لو “، تو آپ کو ہمارے متعلق یہ اطلاع پہنچی کہ ہم کہہ رہے ہیں کہ ہمارے اور عرفہ کے درمیان صرف پانچ دن باقی رہ گئے ہیں اور آپ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2807]
(2) ”منی بہا رہے ہوں گے۔“ یہ بطور مبالغہ کہا کہ حج سے اس قدر قریب جماع کرنا مناسب نہیں۔ یہ تقبیح کے لیے الفاظ ذکر کر دیے ورنہ انھیں کوئی بیماری تو نہیں تھی کہ ایسے ہوتا۔ اور حج کو تو احرام باندھ کر جانا تھا۔
(3) ”تم سے بڑھ کر نیک‘‘ یعنی جس کام کا میں حکم دوں، جو کام میں کروں، اس سے پرہیز کرنا حماقت ہے۔ اگر وہ کام قبیح ہوتا تو میں حکم ہی نہ دیتا۔
(4) ”جس کا بعد میں پتا چلا“ کہ عمرہ کرنا لازم ہو جائے گا۔
(5) ”ہمیشہ کے لیے“ یعنی تمتع قیامت تک کے لیے جائز ہے۔
محمد الباقر کہتے ہیں کہ ہم جابر (جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما) کے پاس آئے، اور ان سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے متعلق پوچھا تو انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اگر مجھے پہلے معلوم ہو گیا ہوتا جو اب معلوم ہوا تو میں ہدی (کا جانور) لے کر نہ آتا اور اسے عمرہ میں تبدیل کر دیتا (اور طواف و سعی کر کے احرام کھول دیتا) تو جس کے پاس ہدی نہ ہو وہ احرام کھول ڈالے، اور اسے عمرہ قرار دے لے “ (اسی موق۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2713]
(2) ”جو بعد میں پتا چلا۔“ یعنی عمرے کا حکم۔
(3) حضرت فاطمہؓ کے ساتھ قربانی کے جانور نہیں تھے، لہٰذا وہ عمرہ کر کے حلال ہوگئیں۔ انھوں نے رنگ دار کپڑے پہنے اور سرمہ لگایا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ چونکہ قربانی کے جانور تھے، لہٰذا وہ حلال نہ ہوئے، اس لیے انھیں اشکال پیدا ہوا۔
(4) امام نسائی رحمہ اللہ کا استدلال یہ ہے کہ اگر احرام کی حالت میں رنگ دار کپڑے درست ہوتے یا سرمہ لگانا جائز ہوتا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ اعتراض کیوں کرتے؟ معلوم ہوا احرام کی حالت میں رنگ دار کپڑے یا سرمہ جائز نہیں، البتہ رنگ دار کپڑوں سے مراد وہ ہیں جنھیں بعد میں رنگا گیا ہو یا زعفران وغیرہ سے رنگے ہوں، ورنہ پہلے سے رنگ والے کپڑے عورت احرام میں استعمال کر سکتی ہے۔ ان کپڑوں کی کراہت کی وجہ زینت یا خوشبو ہے۔
(5) اس حدیث سے ثابت ہوا کہ کسی دینی نقصان پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کلمہ ”لَوْ“ کہنا جائز ہے۔ صحیح مسلم کی حدیث میں جو ممانعت وارد ہے وہ دنیاوی امور کے متعلق ہے۔
(6) اپنے اہل خانہ اور بال بچوں کی خوب نگرانی کرنی چاہیے اور خیال رکھنا چاہیے کہ کہیں وہ کسی خلاف شرع کام کے مرتکب تو نہیں ہو رہے۔
(7) اگر ممکن ہو تو قربانی کے جانور دور دراز علاقے سے لائے جا سکتے ہیں۔ یہ مشروع ہے، اس میں کوئی حرج نہیں۔
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (مکہ) آئے تو ذی الحجہ کی چار تاریخیں گزر چکی تھیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” احرام کھول ڈالو اور اسے عمرہ بنا لو “، اس سے ہمارے سینے تنگ ہو گئے، اور ہمیں یہ بات شاق گزری۔ اس کی خبر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوئی تو آپ نے فرمایا: ” لوگو! حلال ہو جاؤ (احرام کھول دو) اگر میرے ساتھ ہدی نہ ہوتی تو میں بھی وہی کرتا جو تم لوگ کر رہے ہو “، تو ہم نے احرام کھ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2997]
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چار ذی الحجہ کی صبح کو مکہ آئے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2875]
عطاء کہتے ہیں کہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے مجھ سے میرے ساتھ کئی لوگوں کی موجودگی میں حدیث بیان کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ چار ذی الحجہ کی صبح تشریف لائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1074]
فائدہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذوالحجہ کو صبح کے وقت مکہ مکرمہ تشریف فرما ہوئے۔
اور یہاں سے یوم الترویہ (8 ذوالحجہ)
کو منیٰ کی طرف روانہ ہوئے۔
اس میں یہ ارشاد ہے کہ چاردن ٹھرنے کی صورت میں بھی دوگانہ ادا کیاجا سکتا ہے۔
الغرض قصر نماز کےلئے دنوں کے تعین میں یہ روایت پہلی روایت سے زیادہ واضح اور فیصلہ کن ہے۔
واللہ أعلم تاہم دونوں ہی موقف صحیح ہیں۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ حج کا احرام باندھتے وقت حج کی نیت کرنی چاہیے۔
شیخ عمرو بن عبد المنعم ﷾ لکھتے ہیں کہ ”بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ حج اور عمرے کی لبیک کہنا ہی زبانی نیت کا جواز ہے، حالانکہ یہ بات صحیح نہیں ہے، نیت تو صرف ارادے کو کہتے ہیں، جیسا کہ گزر چکا ہے، بلند آواز سے لبیک کہا جاتا ہے، وہ نماز کے تکبیر تحریمہ کے قائم مقام ہے، اور کوئی عقل مند آدمی تکبیر کو نماز کی نیت نہیں کہتا، اور وضو پر بسم اللہ کو وضو کی نیت نہیں کہتا“۔
امام ابن رجب نے کہا ہے کہ ”ان مسائل میں ہمیں نہ سلف صالحین سے کوئی ثبوت ملا ہے، اور نہ کسی امام سے“۔
پھر مزید کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے صحيح ثابت ہے کہ انہوں نے ایک آدمی کو احرام باندھتے وقت یہ کہتے سنا کہ ”اے اللہ! میں حج اور عمرے کا ارادہ کرتا ہوں“، تو انہوں نے کہا: کیا تو لوگوں کو بتا رہا ہے؟ کیا تیرے دل میں جو ہے، اس سے اللہ تعالیٰ باخبر نہیں ہیں۔ [جامع العلوم والحكم ص: 40]
یہ قول اس بات کی دلیل ہے کہ حج اور عمرے میں لفظی نیت جائز نہیں ہے، جو اسے ضروری سمجھتے ہیں اور خواہ مخواہ اس پر زور دیتے ہیں تو انہوں نے اپنی بدعت ایجاد کی ہے جس کی اللہ تعالیٰ نے اجازت دی نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی۔ (عبادات میں بدعات ہیں: 214)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کسی عذر کی وجہ سے حج کی نیت تبدیل کی جا سکتی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم امور غیب نہیں جانتے تھے، اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہے، ”الحل كل الحل“ سے مراد ہے کہ تم پر تمھاری بیویاں بھی حلال ہوگئی ہیں، احرام کی وجہ سے جو چیزیں تم پر حرام تھیں، وہ تمام کی تمام حلال ہوگئی ہیں، عمرہ حج میں داخل ہو گیا ہے سے مراد حج تمتع اور حج قرآن ہے، کیونکہ ان دونوں صورتوں میں حج کے ساتھ عمرہ بھی ادا کیا جا تا ہے، اور حج افراد میں صرف حج ہوتا ہے۔