صحيح البخاري
كتاب الحج— کتاب: حج کے مسائل کا بیان
بَابُ الْمَرِيضِ يَطُوفُ رَاكِبًا: باب: مریض آدمی سوار ہو کر طواف کر سکتا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَشْتَكِي ، فَقَالَ : طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ ، فَطُفْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي إِلَى جَنْبِ البيت وَهُوَ يَقْرَأُ : بِ وَالطُّورِ { 1 } وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ { 2 } سورة الطور آية 1-2 " .´ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ ہم سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا ، ان سے محمد بن عبدالرحمٰن بن نوفل نے ، ان سے عروہ نے بیان کیا ، ان سے زینب بنت ام سلمہ نے ، ان سے ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ میں بیمار ہو گئی ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر لوگوں کے پیچھے سے سوار ہو کر طواف کر لے ۔ چنانچہ میں نے جب طواف کیا تو اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے پہلو میں ( نماز کے اندر ) «والطور وكتاب مسطور» کی قرآت کر رہے تھے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
صحیح بخاری کی ایک روایت میں صراحت ہے کہ حضرت ام سلمہ ؓ نے جب طواف کیا تو رسول اللہ ﷺ لوگوں کو صبح کی نماز پڑھا رہے تھے۔
(صحیح البخاري، الحج، حدیث: 1626)
رسول اللہ ﷺ نے آپ کو لوگوں کی پچھلی طرف سے طواف کرنے کا حکم دیا تاکہ صف بندی میں خلل نہ آئے، نیز اس میں پردہ داری بھی زیادہ تھی۔
اس کے علاوہ یہ بھی مقصد تھا کہ لوگوں سے اختلاط نہ ہو، اس لیے طواف کرتے وقت عورتوں کو مردوں سے علیحدہ رہنا چاہیے۔
(2)
اس حدیث سے امام بخاری ؒ نے یہ ثابت کیا ہے کہ کسی عذر کی بنا پر سوار ہو کر بیت اللہ کا طواف کیا جا سکتا ہے، البتہ فقہاء نے عذر کے بغیر بھی سوار ہو کر طواف کرنے کو جائز قرار دیا ہے اگرچہ پیدل طواف کرنا زیادہ بہتر اور فضیلت کا باعث ہے۔
ہمارے نزدیک طواف کے لیے سواری کا استعمال اس وقت تھا جب مسجد حرام کی چار دیواری نہ تھی۔
اب جبکہ چار دیواری ہو چکی ہے تو ان حالات میں سواری مسجد حرام میں داخل کرنا عقل و نقل کے خلاف ہے کیونکہ ایسا کرنے سے مسجد کا تقدس بھی برقرار نہیں رہتا اور اس جانور کے گوبر اور لید وغیرہ سے گندگی پھیلنے کا بھی اندیشہ ہے۔
(فتح الباري: 619/3)
واللہ أعلم
حضرت اُم سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیماری کی وجہ سے لوگوں کے ہمراہ طواف نہیں کر سکتی تھیں اس لیے انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق مسئلہ پوچھا تھا چنانچہ ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع کے موقع پر مکہ کے لیے روانہ ہونے کا ارادہ کر رہے تھے جبکہ حضرت اُم سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیماری کی وجہ سے طواف وداع نہیں کرسکی تھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب صبح کی نماز کھڑی ہو جائے تو اونٹ پر سوار ہو کر لوگوں کے پیچھے سے اپنا طواف مکمل کر لے۔
‘‘ چنانچہ انھوں نے لوگوں کے نماز پڑھنے کے دوران اپنا طواف مکمل کیا اور طواف کی دو رکعتیں باہر جا کر ادا کیں۔
(صحیح البخاري، الحج، حدیث: 1626)
اس تفصیلی روایت سے معلوم ہوا کہ بوقت ضرورت طواف کی دو رکعت کو مؤخر کیا جا سکتا ہے اور انھیں بیت اللہ سے باہر بھی پڑھا جا سکتا ہے۔
واللہ اعلم۔
اب کوئی دیہاتی اونٹ سمیت آکر وہاں داخل ہوگیا تو اس کے لیے کیا فتویٰ ہوگا۔
حضرت امام بتلانا چاہتے ہیں کہ عہدرسالت میں مسجد حرام کا بھی یہی نقشہ تھا۔
چنانچہ خود نبی اکرم ﷺ نے بھی ایک مرتبہ ضرورت کے تحت اونٹ پر سوار ہوکر بیت اللہ کا طواف کیا اور ام المؤمنین حضرت ام سلمہ ؓ کو بھی بیماری کی وجہ سے آپ نے اونٹ پر سوار ہوکر لوگوں کے پیچھے پیچھے طواف کرنے کا حکم فرمایا۔
ابن بطال ؒ نے کہا کہ حلال جانوروں کا مسجد میں لے جانا جائز اوردرست ہے۔
حافظ ابن حجر ؒ فرماتے ہیں کہ جب مسجد کے آلودہ ہونے کا خوف ہو توجانور کو مسجد میں نہ لے جائے۔
1۔
امام بخاری ؒ کا مقصد واضح ہے کہ اگر کسی ضرورت کی وجہ سے سواری کو مسجد میں لانا پڑے تو اس میں چنداں حرج نہیں ہے، اگرچہ عہد رسالت میں خانہ کعبہ کے چاروں طرف کوئی دیوارنہیں تھی، مسلمان کھلی زمین میں بیت اللہ کے چاروں طرف نمازیں پڑھا کرتے، پھر حضرت عمر رضی ؓ نے جب تنگی محسوس کی تو توسیع فرما کر چاروں طرف دیواریں تعمیر کرا دیں۔
(صحیح البخاري، مناقب الأنصار، حدیث: 3805)
تاہم ہرطرف مکانات اور آبادی کی وجہ سے خانہ کعبہ کے چاروں طرف مسجد حرام کی حدود متعین تھیں۔
بہرحال امام بخاری ؒ کا مدعا ثابت ہے کہ مجبوری کی صورت میں سواری کو مسجد میں لایا جا سکتا ہے۔
جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کے عمل اور حضرت اُم سلمہ ؓ کو آپ کی اجازت سے معلوم ہوتا ہے۔
2۔
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ نے رسول اللہ ﷺ کے سواری پر طواف کرنے کی ایک توجیہ شرح تراجم بخاری میں لکھی ہے، فرماتے ہیں: ’’رسول اللہ ﷺ کا طواف کی حالت میں اونٹ پر سوار رہنا عمرۃ القضاء کا واقعہ ہے۔
اس کی وجہ یہ تھی کہ مشرکین کی شرارت اور چالاکی کا خطرہ تھا۔
رسول اللہ ﷺ کے سوار رہنے کی وجہ سے وہ آپ ﷺ پر قابو نہ پا سکے۔
‘‘
حضرت عائشہ ؓ ایک طرف الگ رہ کر طواف کرتیں اور مرد بھی طواف کرتے رہتے۔
بعضے نسخوں میں حجزہ زاء کے ساتھ ہے یعنی آڑ میں رہ کر طواف کرتیں۔
آج کل تو حکومت سعودیہ نے مطاف کو بلکہ سارے حصہ کو اس قدر وسیع اور شاندار بنایا ہے کہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔
أیدهم اللہ بنصرہ العزیز آمین۔
(1)
اس حدیث سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ عورتیں مردوں کے ہمراہ طواف کر سکتی ہیں لیکن اختلاط سے اجتناب کریں، چنانچہ سیدہ ام سلمہ ؓ نے مردوں کے طواف کرتے وقت ہی اپنا طواف مکمل کیا لیکن ان سے پیچھے رہتے ہوئے اس فریضے کو سرانجام دیا کیونکہ طواف کرتے وقت عورتوں کو مردوں سے علیحدہ رہنا چاہیے۔
(2)
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کسی عذر کی وجہ سے سواری پر طواف ہو سکتا ہے لیکن آج کل کسی حیوان پر سوار ہو کر طواف کرنا ناممکن ہے، البتہ کوئی انسان دوسروں کو کندھوں پر اٹھا کر طواف کرا سکتا ہے، تاہم یہ بات قابل بحث ہے کہ ایسا کرنے سے حامل اور محمول دونوں کا طواف ہو گا یا صرف ایک کا؟ اور کیا دوسرے کو دوبارہ طواف کرنا پڑے گا؟ ہمارے نزدیک دونوں کی طرف سے ایک ہی دفعہ طواف ہو جائے گا۔
واللہ أعلم۔
(3)
ایک روایت میں وضاحت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر حضرت ام سلمہ ؓ کو طواف وداع کرنے کے لیے یہ ہدایت فرمائی تھی کہ جب صبح کی نماز کھڑی ہو جائے تو تم سوار ہو کر لوگوں کے پیچھے سے اپنا طواف مکمل کر لینا۔
(صحیح البخاري، الحج، حدیث: 1626)
امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ عورتوں کو مردوں سے الگ تھلگ رہ کر طواف کرنا چاہیے خواہ مخواہ مردوں میں نہیں گھسنا چاہیے، اگرحجر اسود کو بوسہ نہ دیا جائے تو چھڑی لگا کر چھڑی کو بوسہ دے دیا جائے۔
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ میں بیمار ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " تم سوار ہو کر لوگوں کے پیچھے طواف کر لو ۱؎ "، تو میں نے طواف کیا اور آپ خانہ کعبہ کے پہلو میں اس وقت نماز پڑھ رہے تھے، اور «الطور * وكتاب مسطور» کی تلاوت فرما رہے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1882]
➋ طواف میں عورتوں کو حتیٰ الامکان اختلاط سے بچنا چاہیے۔
➌ عورتوں کو مردوں کی جماعت میں شریک ہونا واجب نہیں ہے۔
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ میں بیمار ہوں۔ آپ نے فرمایا: " لوگوں کے پیچھے سوار ہو کر طواف کر لو "، تو میں نے طواف کیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے پہلو میں نماز پڑھ رہے تھے، اور آپ «الطور * وكتاب مسطور» پڑھ رہے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2928]
(2) دوران نماز مجبوری کی بنا پر طواف کیا جاسکتا ہے لیکن یہ طواف نمازیوں کے پیچھے رہ کر کیا جائے گا۔ (مزید تفصیل دیکھیے، حدیث نمبر: 2931)
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ وہ مکہ آئیں، اور وہ بیمار تھیں، تو انہوں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، تو آپ نے فرمایا " سوار ہو کر نمازیوں کے پیچھے سے طواف کر لو "، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا آپ کعبہ کے پاس «والطور» پڑھ رہے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2930]
(2) حضرت ام سلمہؓ کو اوپر اوپر سے طواف کرنے کا حکم مردوں سے دور رہنے کی خاطر نہیں بلکہ ان کی بیماری کے پیش نظر دیا گیا تھا۔ باقی عورتوں نے مردوں کے ساتھ ہی طواف کیا تھا۔ اس جگہ کا تقدس ہی ایسا ہے کہ باوجود اکٹھے طواف کرنے کے ذہن ادھر ادھر نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ سینکڑوں سال اکٹھے طواف ہوتے ہوئے گزر چکے ہیں مگر کبھی کسی کو کوئی شکایت پیدا نہیں ہوئی حالانکہ حج کے دنوں میں طواف کے دوران میں مردوں اور عورتوں کا شدید ازدحام ہوتا ہے۔ سچ فرمایا باری تعالیٰ نے: ﴿فِيهِ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ مَقَامُ إِبْرَاهِيمَ وَمَنْ دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا﴾ (آل عمران: 3: 97) یقینا دنیا ایسے عظیم الشان تقدس کی نظیر پیش کرنے سے قاصر ہے۔
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ وہ بیمار ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں لوگوں کے پیچھے سوار ہو کر طواف کرنے کا حکم دیا، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت اللہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ «والطور وكتاب مسطور» کی قرات فرما رہے تھے۔ ابن ماجہ کہتے ہیں: یہ ابوبکر بن ابی شیبہ کی روایت ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2961]
فوائد و مسائل:
(1)
کسی معقول عذر کی بناء پر طواف سواری پر کیا جاسکتا ہے۔
(2)
آج کل معمر افراد جو چل کر طواف نہیں کرسکتے ڈولی وغیرہ پر طواف کرلیتے ہیں۔
اس حدیث کی روشنی میں ان کا یہ عمل درست ہے۔
اسی طرح زیادہ رش اور ہجوم کی صورت میں طواف کا دوگانہ بھی مسجد سے باہر ادا کیا جا سکتا ہے۔ (صحيح البخاري، الحج، باب من صلي ركعتي الطواف خارجاً من المسجد، حديث: 1626)
(3)
حدیث میں جس نماز کا ذکر ہے وہ فجر کی نماز تھی۔ (صحيح البخاري، حوالہ مذکورہ بالا)
(4)
رسول اللہ ﷺ نے ایک بار خود بھی اونٹنی پر سوار ہو کر طواف کیا تھا۔ (صحيح البخاري، الحج، باب المريض يطوف راكباً، حديث: 1632 وسنن ابن ماجة، المناسك، باب: 28، حديث: 2948/ 2949)
«. . . عن أم سلمة زوج النبى صلى الله عليه وسلم أنها قالت: شكوت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم أني أشتكي فقال: "طوفي من وراء الناس وأنت راكبة . . .»
". . . نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس شکایت کی کہ میں بیمار ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "لوگوں سے پیچھے ہٹ کر سواری کی حالت میں ہی طواف کرو . . ." [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/0: 302]
[وأخرجه البخاري 464، ومسلم 1276، من حديث مالك به]
تفقه
➊ اس پر اجماع ہے کہ معذور اور بیمار شخص سواری (مثلاً کرسی، ہاتھ والی چارپائی وغیرہ) پر بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کر سکتا ہے۔ دیکھئے: [التمهيد 13/99،]
➋ قول راجح میں یہ صبح کی نماز تھی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھا رہے تھے۔
➌ جس طرح نماز میں عورتیں مردوں کی صف سے پیچھے ہوتی ہیں اسی طرح طواف کے دوران میں بھی انھیں مردوں سے ہٹ کر اور پیچھے رہ کر طواف کرنا چاہیے۔ اگر علیحدہ طواف کا بندوبست نہ ہو تو اضطراری حالت کی وجہ سے مردوں کے ساتھ ہی، علیحدہ رہ کر طواف کرنا جائز ہے جیسا کہ صحيح بخاري [1618] کی حدیث سے ثابت ہے۔
➍ عورت پر نماز باجماعت میں شرکت ضروری نہیں ہے خواہ وہ مسجد میں ہو۔