صحيح البخاري
كتاب الحج— کتاب: حج کے مسائل کا بیان
بَابُ مَنْ لَمْ يَدْخُلِ الْكَعْبَةَ: باب: جو کعبہ میں داخل نہ ہو۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى ، قال : " اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَطَافَ بالبيت ، وَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ وَمَعَهُ مَنْ يَسْتُرُهُ مِنَ النَّاسِ " ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : أَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَعْبَةَ ؟ , قَالَ : لَا .´ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے خالد بن عبداللہ نے بیان کیا ، انہیں اسماعیل بن ابی خالد نے خبر دی ، انہیں عبداللہ ابن ابی اوفی نے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کا طواف کر کے مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعتیں پڑھیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کچھ لوگ تھے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور لوگوں کے درمیان آڑ بنے ہوئے تھے ۔ ان میں سے ایک صاحب نے ابن ابی اوفی سے پوچھا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے اندر تشریف لے گئے تھے تو انہوں نے بتایا کہ ” نہیں ۔“
تشریح، فوائد و مسائل
نہ حج کی کوئی عبادت ہے۔
اگر کوئی کعبہ کے اندر نہ جائے تو کچھ قباحت نہیں۔
آنحضور ﷺ خود حجتہ الوداع کے موقع پر اندر نہیں گئے۔
نہ عمرۃ القضاء میں آپ اندر گئے نہ عمرئہ جعرانہ کے موقع پر۔
غالباً اس لیے بھی نہیں کہ ان دنوں کعبہ میں بت رکھے ہوئے تھے۔
پھر فتح مکہ کے وقت آپ نے کعبہ شریف کی تطہیر کی اور بتوں کو نکالا۔
تب آپ اندر تشریف لے گئے۔
حجتہ الوداع کے موقع پر آپ ﷺ اندر نہیں گئے حالانکہ اس وقت کعبہ میں بت بھی نہ تھے۔
غالباً اس لیے بھی کہ لوگ اسے لازمی نہ سمجھ لیں۔
(1)
حدیث میں مذکور عمرے سے مراد عمرہ قضا ہے جو آپ نے فتح مکہ سے پہلے ساتویں ہجری میں کیا تھا۔
رسول اللہ ﷺ اس وقت بیت اللہ میں داخل نہیں ہوئے تھے کیونکہ اس وقت بیت اللہ بتوں سے بھرا ہوا تھا اور مشرکین ان کے ازالے کی بھی اجازت نہیں دیتے تھے۔
آئندہ سال 8 ہجری میں جب مکہ فتح ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے پہلے بتوں اور تصاویر سے بیت اللہ کو پاک کیا، پھر اس میں داخل ہوئے جیسا کہ آئندہ حدیث ابن عباس میں اس کے متعلق تفصیل آئے گی۔
(2)
اس حدیث سے محب طبری نے ثابت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ فتح مکہ اور حجۃ الوداع کے موقع پر بیت اللہ میں داخل ہوئے تھے لیکن فتح مکہ کے متعلق احادیث میں صراحت ہے، حجۃ الوداع کے موقع پر بیت اللہ میں داخل ہونے کا ذکر محل نظر ہے۔
(فتح الباري: 590/3)
حضرت جابر ؓ سے مروی ایک روایت میں ہے کہ کعبہ میں تصاویر تھیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے موقع پر حضرت عمر ؓ کو حکم دیا کہ ان کو مٹا دیں۔
حضرت عمر ؓ نے کپڑا لیا اور اسے پانی سے تر کر کے تمام تصاویر مٹا دیں، اس کے بعد رسول اللہ ﷺ بیت اللہ میں داخل ہوئے۔
(مسندأحمد: 396/3)
نوٹ: عمرہ قضا کی وجہ تسمیہ یہ نہیں کہ یہ پہلے عمرے کی قضا کے طور پر ہوا تھا کیونکہ صلح حدیبیہ میں نہیں ہو سکا تھا، بلکہ اسے اس بنا پر عمرہ قضا کہا جاتا ہے کہ صلح حدیبیہ کی شرائط اور فیصلے کے نتیجے میں ہوا تھا۔
صحابہ کرام ؓ رسول اللہ ﷺ کی حفاظت کرتے تھے، مبادا مشرکین یا ان کے چھوکرے آپ کو گزند پہنچائیں۔
(صحیح البخاري، حدیث: 4255،1791)
1۔
امام بخاری ؒ نے اس حدیث سے ثابت کیا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی ؒ حدیبیہ میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ تھے اور انھوں نے درخت کے نیچے آپ کی بیعت کی تھی، پھر اگلے سال عمرہ قضاء کے موقع پر وہ رسول اللہ ﷺ کی حفاظت کرنے والوں میں سے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کوئی دشمن رسول اللہ ﷺ اور کفار قریش کے درمیان ہوا تھا۔
اسے گزشتہ سال کی قضاء کے طور پر عمرہ قضاء نہیں کہا جاتا جیسا کہ عام طور پر خیال کیا جاتا ہے۔
واللہ اعلم۔
خاص طور پر حضور ﷺ کی حفاظت مسلمانوں کے لیے ضروری تھی۔
روایت میں اسی طرف اشارہ ہے۔
یہ حدیث غزوئہ حدیبیہ میں بھی گزر چکی ہے۔
1۔
فتوحات ملنے کی وجہ سے اگرچہ کفر اور اہل کفر کی کمر ٹوٹ چکی تھی تاہم کفار مکہ کے دل اسلام اور پیغمبر ﷺ کے متعلق صاف نہیں تھے۔
مسلمانوں کو ان سے خطرات لاحق رہتے تھے ایسے حالات میں رسول اللہ ﷺ کی حفاظت انتہائی ضروری تھی۔
آپ نے جب صلح حدیبیہ کے دوسرے سال عمرہ کیا تو مسلمانوں نے اس دوران میں رسول اللہ ﷺ کی مکمل خفاظت کی۔
2۔
اس حدیث میں آپ کے متعلق سیکورٹی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ایک روایت میں ہے کہ ہمیں مشرکین کی طرف سے خطرہ تھا کہ کوئی آپ کو پتھر ماردے یا کوئی اور تکلیف پہنچائے اس لیے ہم نے آپ کو حصار میں رکھا اور لوگوں سے چھپایا۔
(صحیح البخاری العمرة، حدیث: 1791۔
)
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کیا تو بیت اللہ کا طواف کیا اور مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت نماز پڑھی، آپ کے ساتھ کچھ ایسے لوگ تھے جو آپ کو آڑ میں لیے ہوئے تھے، تو عبداللہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ میں داخل ہوئے؟ انہوں نے جواب دیا: نہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1902]
عبداللہ بن ابی او فی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کیا ہم آپ کے ساتھ تھے، آپ نے طواف کیا، اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ طواف کیا، آپ نے نماز پڑھی، ہم نے بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھی، اور ہم مکہ والوں سے آپ کو آڑ میں کیے رہتے تھے کہ وہ آپ کو کوئی اذیت نہ پہنچا دیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2990]
فوائد و مسائل:
(1)
ذوالقعدہ 6ھ میں طے پانے والے صلح کے معاہدے (صلح حدیبیہ)
میں یہ طے پایا تھا کہ مسلمان اس سال عمرہ نہیں کرینگے تاہم اگلے سال وہ عمرہ کرنے کے لیے آ سکیں گے۔
اس شرط کے مطابق ذوالقعدہ 7ھ میں رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ عمرہ ادا فرمایا۔
اس سفر میں دو ہزار مرد اور ان کے علاوہ کچھ عورتیں اور بچے بھی آپ کے ہمراہ تھے۔
اس عمرے کو عمرۃالقضاء بھی کہتے ہیں۔ (فتح الباري: 7/ 627)
(2)
اس موقع پر مشرکین اپنے گھروں سے نکل کر جبل قعیقعان پر جمع ہوگئے تھے تاہم خطرہ تھا کہ کوئی مشرک دھوکے سے رسول اللہ ﷺ کو گزند پہنچانے کی کوشش نہ کرے۔
(3)
ظاہری اسباب اختیار کرنا اللہ پر توکل کے منافی نہیں۔
(4)
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم رسول اکرم ﷺ سے اس قدر محبت رکھتے تھےکہ آپ کی حفاظت کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے پر تیار رہتے تھے۔