صحيح البخاري
كتاب الحج— کتاب: حج کے مسائل کا بیان
بَابُ ذَاتُ عِرْقٍ لأَهْلِ الْعِرَاقِ: باب: عراق والوں کے احرام باندھنے کی جگہ ذات عرق ہے۔
حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , قَالَ : لَمَّا فُتِحَ هَذَانِ الْمِصْرَانِ أَتَوْا عُمَرَ ، فَقَالُوا : " يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّ لِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنًا وَهُوَ جَوْرٌ عَنْ طَرِيقِنَا ، وَإِنَّا إِنْ أَرَدْنَا قَرْنًا شَقَّ عَلَيْنَا ، قَالَ : فَانْظُرُوا حَذْوَهَا مِنْ طَرِيقِكُمْ ، فَحَدَّ لَهُمْ ذَاتَ عِرْقٍ " .´ہم سے علی بن مسلم نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عبیداللہ عمری نے نافع سے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ` جب یہ دو شہر ( بصرہ اور کوفہ ) فتح ہوئے تو لوگ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا کہ یا امیرالمؤمنین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کے لوگوں کے لیے احرام باندھنے کی جگہ قرن المنازل قرار دی ہے اور ہمارا راستہ ادھر سے نہیں ہے ، اگر ہم قرن کی طرف جائیں تو ہمارے لیے بڑی دشواری ہو گی ۔ اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ پھر تم لوگ اپنے راستے میں اس کے برابر کوئی جگہ تجویز کر لو ۔ چنانچہ ان کے لیے ذات عرق کی تعیین کر دی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
۔
بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمرؓ نے یہ مقام اپنی رائے اور اجتہاد سے مقرر کیا مگر جابر ؓ کی روایت میں آنحضرت ﷺ سے عراق والوں کا میقات ذات عراق مروی ہے گو اس کے مرفوع ہونے میں شک ہے۔
اس روایت سے یہ بھی نکلا کہ اگر کوئی مکہ میں حج یا عمرے کی نیت سے اور کسی راستے سے آئے جس میں کوئی میقات راہ میں نہ پڑے تو جس میقات کے مقابل پہنچے وہاں سے احرام باندھ لے۔
بعضوں نے کہا کہ اگر کوئی میقات کی برابری معلوم نہ ہو سو سکے تو جو میقات سب سے دور ہے اتنی دور سے احرام باندھ لے۔
میں کہتا ہوں ابوداؤد اور نسائی نے باسناد صحیح حضرت عائشہ ؓ سے نکالا کہ آنحضرت ﷺ نے عراق والوں کے لئے ذات عرق مقرر کیا اور احمد اور دار قطنی نے عبداللہ بن عمرو بن عاص سے بھی ایسا ہی نکالا ہے۔
پس حضرت عمر ؓ کا اجتہاد حدیث کے مطابق پڑا (مولانا وحیدی الزماں)
اس بارے میں حافظ ابن حجر ؒ نے بڑی تفصیل سے لکھا ہے۔
آخر میں آپ فرماتے ہیں لکن لما سن عمر ذات عرق وتبعه علیه الصحابة واستمر علیه العمل کان أولی بالاتباع۔
یعنی حضرت عمر ؓ نے اسے مقرر فرمادیا اور صحابہ کرام نے اس پر عمل کیا تو اب اس کی اتباع ہی بہتر ہے۔
اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل عراق کے لیے ذات عرق کو حضرت عمرؓ نے مقرر فرمایا تھا لیکن حقیقت حال اس کے خلاف ہے کیونکہ حضرت عائشہ ؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اہل عراق کے لیے ذات عرق کو مقرر فرمایا تھا۔
(سنن أبي داود، المناسك، حدیث: 1739)
صحیح مسلم کی ایک روایت میں بھی اہل عراق کے لیے ذات عرق کے بطور میقات مقرر ہونے کا ذکر ہے۔
(صحیح مسلم، الحج، حدیث: 2810 (1183)
ممکن ہے کہ جو حضرات اس بات کے قائل ہیں کہ حضرت عمر ؓ نے اس میقات کو مقرر کیا تھا، انہیں حضرت عائشہ ؓ سے مروی مرفوع حدیث نہ پہنچی ہو یا اگر پہنچی ہے تو انہوں نے اسے ضعیف خیال کیا ہو۔
بہرحال راجح بات یہی ہے کہ ذات عرق کو رسول اللہ ﷺ نے خود ہی میقات مقرر فرمایا تھا اگرچہ آپ کے عہد مبارک میں عراق وغیرہ فتح نہیں ہوا تھا لیکن آپ کو اس بات کا یقین تھا کہ دور دراز تک اسلامی حکومت ہو گی، اس لیے آپ نے پیش بندی کے طور پر اسی وقت ذاتِ عرق کو عراق کا میقات مقرر کر دیا۔
(فتح الباري: 491/3)
جس روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اہل مشرق کے لیے عقیق کو میقات مقرر فرمایا وہ روایت صحیح نہیں۔
(ضعیف سنن أبي داود، حدیث: 381)
1۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دور میں عراق کسریٰ کے قبضے میں تھا۔
وہاں کے لوگ مسلمان نہیں تھے اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل عراق کے لیے کوئی میقات مقرر نہیں کیا۔
اس وقت شام وغیرہ کے لوگ اسلام میں داخل ہوچکے تھے، اس لیے ان کے مقام جحفہ میقات مقرر کیا۔
2۔
حدیث میں ہے کہ جب کوفہ اور بصرہ فتح ہوئے تو وہاں کے باشندے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے، انھوں نے عرض کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل نجد کے لیے قرن المنازل کو میقات مقرر کیا ہے جو ہمارے راستے سے بہت دور پڑتا ہے تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کے بالمقابل مقام ذات عرق کو اہل عراق کے لیے میقات مقرر فرمایا۔
(صحیح البخاري، الحج، حدیث: 1531)
بہرحال اس حدیث میں ان میقات کی عظمت کا ذکر ہے، اس لیے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اسے یہاں بیان کیا ہے۔
«. . . عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلًا قَامَ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مِنْ أَيْنَ تَأْمُرُنَا أَنْ نُهِلَّ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُهِلُّ أَهْلُ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ، وَيُهِلُّ أَهْلُ الشَّأْمِ مِنْ الْجُحْفَةِ، وَيُهِلُّ أَهْلُ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ "، وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَيَزْعُمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: وَيُهِلُّ أَهْلُ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ، يَقُولُ: لَمْ أَفْقَهْ هَذِهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . . . .»
". . . عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا کہ (ایک مرتبہ) ایک آدمی نے مسجد میں کھڑے ہو کر عرض کیا، یا رسول اللہ! آپ ہمیں کس جگہ سے احرام باندھنے کا حکم دیتے ہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، مدینہ والے ذوالحلیفہ سے احرام باندھیں، اور اہل شام جحفہ سے اور نجد والے قرن المنازل سے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا، کہ لوگوں کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یمن والے یلملم سے احرام باندھیں۔ اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے کہ مجھے یہ (آخری جملہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یاد نہیں . . ." [صحيح البخاري/كِتَاب الْعِلْمِ/بَابُ ذِكْرِ الْعِلْمِ وَالْفُتْيَا فِي الْمَسْجِدِ:: 133]
مسجد میں سوال کیا گیا اور مسجد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا۔ اس سے ثابت ہوا کہ مساجد کو دارلحدیث کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کی اہمیت و مقصدیت کو بایں الفاظ بیان کیا ہے: ’’مساجد بول و براز یا گندگی پھیلانے کے لیے نہیں بلکہ ان کی تعمیر کا ایک خاص مقصد ہے۔
بےشک وہ مقصد اللہ کا ذکر، نماز اور تلاوت قرآن ہے۔
‘‘(صحیح مسلم، المساجد، حدیث: 505(661)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مساجد کے اغراض و مقاصد کو کلمہ حصر(إِنَّمَا)
سے بیان فرمایا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مساجد میں یہی کام ہو سکتے ہیں ان کے علاوہ دوسرے کسی شغل کی حیثیت مشتبہ ہو جاتی ہے خواہ وہ تعلیم وافتا ہی سے متعلق ہو۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس عنوان سے ثابت کیا ہے کہ مذکورہ حصر حقیقی نہیں بلکہ احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ مسجد میں علمی باتیں اور فتاوی وغیرہ کا شغل بھی درست ہے، بلکہ مقدمات کا فیصلہ کرنا اور دینی مباحثہ کرنا بھی جائز ہے ہاں مساجد میں دنیوی باتیں کرنا اور انھیں بازار کی حیثیت دینا کسی طرح بھی درست نہیں۔
یہ تھا امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا مقصد! اب’’امام تدبر‘‘کی بھی سنیے۔
جو امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی مخالفت کے لیے ادھار کھائے بیٹھے ہیں۔
’’امام صاحب ہر چیز کو نکتہ بنانے کے عادی ہیں ورنہ کس کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ علم دین اور فتوی کے لیے مسجد موزوں مقام ہے یا نہیں؟ مسجد ہی تو مسلمانوں کے دین کا مرکز ہے۔
مناسک حج کے سلسلہ کی یہ ایک اہم روایت ہے لیکن امام صاحب نے اس سے بس یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ علمی سوال مسجد میں بھی ہو سکتا ہے۔
‘‘ (تدبر حدیث: 232/1-
234)
امام تدبر تو اللہ کے حضور پہنچ چکے ہیں ہم ان کے تیار کردہ تلامذہ سے یہ گزارش کرتے ہیں کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث سے مسجد میں علمی سوال کا جواز ہی ثابت نہیں کیا بلکہ کتاب الحج میں اس پر مزید تین عنوان قائم کیے ہیں۔
(1)
۔
حج اور عمرہ کے لیے میقات کا تعین (صحیح البخاري، الحج، حدیث: 1522) (2)
۔
اہل مدینہ کا میقات (صحیح البخاري، الحج، حدیث: 1525)
(3)
۔
اہل نجد کے لیے جائے احرام۔
(صحیح البخاري، الحج، حدیث: 1528)
اس حدیث پر تفصیلی بحث کتاب الحج میں آئے گی۔
جمہور کے نزدیک درست ہے۔
یہ میقات مکانی میں اختلاف ہے لیکن میقات زمانی یعنی حج کے مہینوں سے پہلے حج کا احرام باندھنا بالا تفاق درست نہیں ہے۔
نجد وہ ملک ہے جو عرب کا بالائی حصہ تہامہ سے عراق تک واقع ہے۔
بعضوں نے کہا جرش سے لے کر کوفہ کے نواح تک اس کی مغربی حد حجاز ہے۔
(وحیدی)
(1)
میقات اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں سے حج اور عمرے کا احرام باندھا جاتا ہے اور احرام کے بغیر وہاں سے گزرنا جائز نہیں۔
یہ پابندی صرف حج اور عمرہ کرنے والے کے لیے ہے۔
(2)
میقات کی دوقسمیں ہیں: ٭میقات زمانی: اس سے مراد وہ ایام ہیں جن میں حج کا احرام باندھا جاتا ہے۔
عموما ماہ شوال ہی میں حج کی تیاری شروع ہوجاتی ہے، اس لیے شوال، ذوالقعدہ اورذوالحجہ کے پہلے دس دن میقات زمانی اور حج کے مہینے کہلاتے ہیں۔
٭میقات مکانی: اس سے مراد وہ مقامات ہیں جہاں سے حج وعمرہ کرنے والوں کو احرام کے بغیر گزرنا منع ہے۔
ان مقامات کی تفصیل حدیث میں مذکور ہے۔
(3)
امام بخاری ؒ کا مقصد یہ ہے کہ احرام کی نیت میقات سے پہلے نہیں کرنی چاہیے۔
یہ بھی ممکن ہے کہ حج کا احرام حج کے مہینوں سے قبل نہیں باندھنا چاہیے۔
والله أعلم
(1)
اہل یمن کے لیے یلملم کے تعیین کو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے براہ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنا بلکہ انہوں نے اسے لوگوں کے حوالے سے بیان کیا ہے، لیکن یہ تعیین حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت جابر بن عبداللہ، حضرت عائشہ، حضرت حارث بن عمرو سہمی رضی اللہ عنہم سے مروی احادیث سے ثابت ہے۔
ان سب کا مشترکہ بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل یمن کے لیے مقام یلملم کو بطور میقات مقرر فرمایا تھا۔
(فتح الباری: 3/488) (2)
ان تمام مواقیت کی نسبت اہل مدینہ کے میقات ذوالحلیفہ کا فاصلہ مکہ سے بہت زیادہ ہے، یعنی وہ مکہ مکرمہ سے زیادہ دور پڑتا ہے۔
اس کی حکمت یہ بیان کی جا سکتی ہے کہ اہل مدینہ کے اجر کو زیادہ کرنا مقصود ہے، اس سے مدینہ میں رہائش رکھنے کی فضیلت بھی معلوم ہوتی ہے۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ دیگر اہل آفاق سے نرمی کرتے ہوئے ان کے احرام کے مقامات کو قریب رکھا گیا ہے کیونکہ وہ بہت دور دور سے آتے ہیں جبکہ مدینے والے دوسرے لوگوں کے مقابلے میں حرم مکی کے زیادہ قریب ہیں، اس لیے ان کے میقات کو دور رکھا گیا ہے۔
(فتح الباری: 3/486)
واللہ اعلم
جب جہاز پہاڑوں سے گزرتا ہے تو کپتان خود سارے حاجیوں کو اطلاع کرادیتا ہے یہ جگہ عدن کے قریب پڑتی ہے۔
قرن منازل مکہ سے دومنزل پر طائف کے قریب ہے اور ذوالحلیفہ مدینہ سے چھ میل پر ہے اور جحفہ مکہ سے پانچ چھ منزل پر ہے۔
قسطلانی نے کہا اب لوگ جحفہ کے بدل رابغ سے احرام باندھ لیتے ہیں۔
جو جحفہ کے برابر ہے اور اب جحفہ ویران ہے وہاں کی آب وہوا خراب ہے نہ وہاں کوئی جاتا ہے نہ اترتا ہے (وحیدی)
واختصت الجحفة بالحمیٰ فلاینزلها أحد إلاحم۔
(فتح)
یعنی حجفہ بخار کے لئے مشہور ہے۔
یہ وہ جگہ ہے جہاں عمالقہ نے قیام کیا تھا جب کہ ان کو یثرب سے بنو عبیل نے نکال دیا تھا مگر یہاں ایسا سیلاب آیا کہ اس نے اس کوبرباد کر کے رکھ دیا۔
اسی لئے اس کا جحفہ نام ہوا۔
یہ بھی معلوم ہوا کہ عمرہ کے میقات بھی وہی ہیں جو حج کے ہیں۔
1۔
مواقیت، میقات کی جمع ہے۔
اس سے مراد وہ مقام ہے جہاں سے حج یا عمرے کے لیے احرام باندھا جاتا ہے۔
ان مقامات سے گزرنے کے بعد احرام باندھنا درست نہیں۔
مواقیت اور اہل مواقیت کی تفصیل درج ذیل ہے: ذو الحلیفہ اہل مدینہ جو شخص مقررہ مواقیت میں سے کسی ایک سے بھی نہ گزرے وہ جس میقات کے اندر رہتے ہوں وہ اپنی رہائش گاہ ہی سے احرام باندھ لیں حتی کہ اہل مکہ، مکہ ہی سے احرام باندھ لیں۔
حدود حرم میں عارضی طور پر مقیم حضرات عمرے کے وقت حدود حرم سے باہر نکل کر میقات سے احرام باندھیں۔
جحفہ اہل شام قرن المنازل اہل نجد یلملم اہل یمن ذات عرق اہل عراق 2۔
جو لوگ حج یا عمرے کا ارادہ نہ رکھتے ہوں وہ احرام باندھے بغیر بھی میقات سے گزر کر مکہ میں داخل ہو سکتے ہیں۔
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم احرام کہاں سے باندھیں؟ آپ نے فرمایا: " اہل مدینہ ذی الحلیفہ ۲؎ سے احرام باندھیں، اہل شام جحفہ ۳؎ سے اور اہل نجد قرن سے ۴؎۔ اور لوگوں کا کہنا ہے کہ اہل یمن یلملم سے ۵؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 831]
1؎:
مواقیت میقات کی جمع ہے، میقات اس مقام کو کہتے ہیں جہاں سے حاجی یا معتمر احرام باندھ کر حج کی نیت کرتا ہے۔
2؎:
مدینہ کے قریب ایک مقام ہے۔
جس کی دوری مدینہ سے مکہ کی طرف دس کیلو میٹر ہے اور یہ مکہ سے سب سے دوری پر واقع میقات ہے۔
3؎:
مکہ کے قریب ایک بستی ہے جسے اب رابغ کہتے ہیں۔
4؎:
اسے قرن المنازل بھی کہتے ہیں، یہ مکہ سے سب سے قریب ترین میقات ہے۔
مکہ سے اس کی دوری 95 کیلو میٹر ہے۔
5؎:
ایک معروف مقام کا نام ہے۔
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص مسجد (نبوی) میں کھڑا ہوا اور پوچھنے لگا: اللہ کے رسول! آپ ہمیں کہاں سے تلبیہ پکارنے کا حکم دیتے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اہل مدینہ ذوالحلیفہ سے تلبیہ پکاریں گے، اور اہل شام حجفہ سے اور اہل نجد قرن سے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ لوگوں کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہ بھی) فرمایا: " اہل یمن یلملم سے تلبیہ پکاریں گے "، ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھے [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2653]
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " مدینہ والے ذوالحلیفہ سے تلبیہ پکاریں گے، شام والے حجفہ سے، اور نجد والے قرن (المنازل) سے "، اور میں نے تو نہیں سنا ہے لیکن مجھ سے ذکر کیا گیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اور یمن والے یلملم سے تلبیہ پکاریں گے۔" [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2656]
(2) نجد ہر اونچے علاقے کو کہتے ہیں۔ عرب میں تقریباً دس نجد ہیں۔ یہاں مراد وہ علاقہ ہے جو مکہ مکرمہ سے مشرقی جانب یمن اور تہامہ سے لے کر عراق اور شام تک پھیلا ہوا ہے۔
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " مدینے والے ذوالحلیفہ سے تلبیہ پکاریں، اور اہل شام حجفہ سے اور نجد والے قرن المنازل سے۔" عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مجھے یہ اطلاع بھی ملی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " یمن والے یلملم سے تلبیہ پکاریں۔" [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2652]
(2) ذوالحلیفہ مدینے سے چھ میل اور مکہ مکرمہ سے تقریباً 450 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے، اسے وادی عقیق بھی کہتے ہیں۔ آج کل اسے بئر علی یا ابیار علی کہتے ہیں۔ یہ میقات تمام مواقیت میں سے مکہ سے زیادہ دور ہے۔
(3) حج کے ارادے سے جانے والوں کے لیے ان جگہوں سے بغیر احرام کے گزرنا جائز نہیں۔
(4) یہ حدیث اعلام نبوت میں سے ہے۔ آپ نے جو میقات مقرر کیے، وہ اور ان کے آس پاس کے علاقوں والے ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ لیکن آپ نے یہ میقات مقرر فرمائے کیونکہ آپ دیکھ رہے تھے کہ یہ علاقے مسلمان ہوں گے اور حج کے لیے بیت اللہ کی طرف رخت سفر باندھیں گے اور انھیں احرام باندھنے کی ضرورت پیش آئے گی۔ صلی اللہ علیہ وسلم
(5) چاروں طرف میقات مقرر کرنا امت کی سہولت کے لیے ہے۔ اگر ایک ہی میقات مقرر کیا جاتا تو یہ بہت زیادہ مشقت کا باعث ہوتا۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اہل مدینہ ذو الحلیفہ سے تلبیہ پکاریں اور احرام باندھیں، اہل شام جحفہ سے، اور اہل نجد قرن سے، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رہیں یہ تینوں (میقاتیں) تو انہیں میں نے (براہ راست) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، اور مجھے یہ اطلاع بھی ملی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اہل یمن یلملم سے تلبیہ پکاریں، (اور احرام باندھیں) " ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2914]
فوائد و مسائل:
(1)
میقات سے مراد وہ حد ہے جہاں سے حج وعمرے کی نیت سے آنے والا شخص احرام باندھے بغیر آگے نہیں جاسکتا۔
مکہ آنے والے مختلف راستوں پران مقامات کا تعین کردیا گیا ہے۔
(2)
آفاقی سے مراد وہ لوگ ہیں جو میقات کی حدود سے باہر دنیا میں کسی بھی مقام پر رہتے ہیں۔
وہ میقات پر پہنچتے ہیں تو احرام باندھتے ہیں۔
ان حدود کے اندر رہنے والے اپنے اپنے گھر سے احرام باندھ کر روانہ ہوتے ہیں۔
«. . . 220- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "يهل أهل المدينة من ذي الحليفة، وأهل الشام من الجحفة، وأهل نجد من قرن." قال عبد الله: وبلغني أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "ويهل أهل اليمن من يلملم." . . .»
". . . اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اہل مدینہ ذوالحلیفہ سے احرام باندھیں (لبیک کہیں) اور اہل شام حجفہ سے اور اہل نجد قرن سے احرام باندھیں۔" عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اہل یمن ے یلَملَم سے احرام باندھیں . . ." [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 317]
تفقہ:
➊ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ روایت حدیث میں انتہائی احتیاط سے کام لیتے تھے۔
➋ صحابۂ کرام کی مراسیل (مرسل روایات) حجت ہیں جیسا کہ اصولِ حدیث میں بیان کیا گیا ہے۔ اس پر مزید یہ کہ امام بخاری رحمہ اللہ [1530] اور امام مسلم [1181] نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «ولأھل الیمن یلملم» اور یمن والوں کا میقات یلملم ہے۔ والحمدللہ
➌ ذوالحلیفہ کو آج کل ابیار علی کہتے ہیں۔ یہ علاقہ مدینہ طیبہ کے قریب ہے۔
➍ حج اور عمرے کی نیت کرنے والا میقات سے احرام باندھے بغیر نہیں گزر سکتا۔ اگر گزر جائے تو پھر اس پر دم واجب ہو جاتا ہے یعنی وہ ایک بکری ذبح کرکے اہلِ مکہ کے غریبوں، مسکینوں کو کھلائے گا۔
➎ یہ ضروری نہیں کہ سب سے بڑے عالم اور مجتہد کو ہر حدیث اور ہر مسئلہ معلوم ہو بلکہ بہت سے جلیل القدر صحابہ سے بعض احادیث کا مخفی رہ جانا اس کی دلیل ہے کہ باتیں مخفی رہ سکتی ہیں۔
➏ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے ایلیاء (بیت المقدس) سے احرام باندھا تھا۔ [الام للشافعي 7/253 وسنده صحيح] آپ نے بیت المقدس سے احرام باندھا تھا۔ [مسند الشافعي ص364 ح1652، وسنده صحيح]
اسود بن یزید تابعی نے کوفے سے احرام باندھا تھا۔ [ابن ابي شيبه 3/122 ح12682، وسنده صحيح]
معلوم ہوا کہ جو شخص بذریعہ ہوائی جہاز حج یا عمرے کے لئے روانہ ہوتا ہے تو وہ ائیرپورٹ سے احرام باندھ سکتا ہے، بشرطیکہ دورانِ پرواز جہاز میں ہی میقات آجائے۔