حدیث نمبر: 1376
حَدَّثَنَا مُعَلًّى ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ , قَالَ : حَدَّثَتْنِي ابْنَةُ خَالِدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ ، " أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَعَوَّذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ " .
مولانا داود راز

´ہم سے معلیٰ بن اسد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا ‘ ان سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا ۔ کہا کہ مجھ سے خالد بن سعید بن عاص کی صاحبزادی ( ام خالد ) نے بیان کیا ‘` انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے سنا ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الجنائز / حدیث: 1376
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 6364 | مسند الحميدي: 338

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
1376. حضرت ام خالد بنت خالد ؓ سے روایت ہے،انھوں نےنبی کریم ﷺ سے سنا کہ آپ عذاب قبر سے پناہ طلب کرتے تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:1376]
حدیث حاشیہ:
(1)
طبرانی کی روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا: ’’عذاب قبر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرو کیونکہ عذاب قبر برحق ہے۔
‘‘ (فتح الباري: 307/3)
اس روایت سے پہلی روایت کی تفسیر بھی ہوتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب عذاب کی آواز سنے بغیر عذاب قبر سے اللہ کی پناہ مانگتے تھے تو آواز سننے پر بالاولیٰ پناہ طلب کرنا ثابت ہوتا ہے۔
(2)
مصنف نے اس روایت کو کتاب الدعوات میں بھی بیان کیا ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس حدیث کو ام خالد ؓ کے علاوہ اور کسی صحابی نے بیان نہیں کیا۔
(صحیح البخاري، الدعوات، حدیث: 6364)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1376 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 338 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
338- سیدہ ام خالد بنت خالد رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے ہوئے سنا ہے۔ موسیٰ بن عقبہ نامی راوی کہتے ہیں: میں اور کسی کی زبانی یہ بات نہیں سنی کہ سیدہ ام خالد رضی اللہ عنہا کے علاوہ کسی اور نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے ہوئے سنا ہو۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:338]
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ عذاب قبر حق ہے، اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنی چاہیے۔ عذاب قبر کے اثبات میں بے شمار احادیث ہیں، مثلاً: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «نعم، عذاب القبر حق» (ہاں، عذاب قبر حق ہے) (متفق علیہ)
ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ سلم نے فرمایا: (قبر میں) کافر سے کہا جائے گا: تیرا رب کون ہے؟ تو وہ کہے گا: مجھے معلوم نہیں ہے، تو وہ اس وقت گونگا، بہرا اور اندھا ہو جائے گا تو اس کو ایک ایسے ہتھوڑے سے مارا جائے گا کہ اگر اس کو کسی پہاڑ پر مارا جائے تو وہ مٹی ہو جائے، انسانوں اور جنوں کے علاوہ ہر کوئی اس کی چیخ کو سنتا ہے۔ (سنن ابی داود: 4750، سنن ترمذی: 3120، قال الألباني: صحیح)
یاد رہے کہ محض عقل فاسد کی بنا پر قرآن و حدیث سے ثابت شدہ مسئلے کا انکار کرنا یا تاویل کرنا بہت بڑی گمراہی ہے، اور اپنی آخرت تباہ کرنے کے مترادف ہے۔ عذاب قبر عقیدے کا مسئلہ ہے، ہمارا عقیدہ ہے کہ عذاب قبرحق ہے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 338 سے ماخوذ ہے۔