حدیث نمبر: 1117
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْحُسَيْنُ الْمُكْتِبُ ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَتْ بِي بَوَاسِيرُ فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّلَاةِ ، فَقَالَ : " صَلِّ قَائِمًا ، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَقَاعِدًا ، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَعَلَى جَنْبٍ ".
مولانا داود راز

´ہم سے عبدان نے بیان کیا ، ان سے امام عبداللہ بن مبارک نے ، ان سے ابراہیم بن طہمان نے ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے حسین مکتب نے ( جو بچوں کو لکھنا سکھاتا تھا ) بیان کیا ، ان سے ابن بریدہ نے اور ان سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے کہا کہ` مجھے بواسیر کا مرض تھا ۔ اس لیے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز کے بارے میں دریافت کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کھڑے ہو کر نماز پڑھا کرو اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر اور اگر اس کی بھی نہ ہو تو پہلو کے بل لیٹ کر پڑھ لو ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تقصير الصلاة / حدیث: 1117
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 952 | سنن ابن ماجه: 1223 | بلوغ المرام: 260 | بلوغ المرام: 351

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
1117. حضرت عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے، انہوں نے بتایا کہ مجھے بواسیر تھی تو میں نے نبی ﷺ سے نماز پڑھنے کے متعلق دریافت کیا، آپ نے فرمایا: ’’کھڑے ہو کر نماز پڑھو، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر ادا کرو، اگر اس کی بھی ہمت نہ ہو تو پہلو کے بل لیٹ کر نماز پڑھو۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:1117]
حدیث حاشیہ:
(1)
عدم استطاعت سے مراد شدید مشقت یا مرض کے بڑھنے کے اندیشہ یا ہلاک ہونے کا خطرہ ہے جیسا کہ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ایک حدیث میں ہے کہ نمازی کو کھڑے ہو کر نماز پڑھنی چاہیے۔
اگر اسے مشقت ہے تو بیٹھ کر پڑھ لے اور اگر بیٹھ کر پڑھنے میں تکلیف ہے تو پہلو کے بل لیٹ کر نماز ادا کرے۔
(2)
مجاہد کہیں چھپا ہوا ہے تو اسے بھی بیٹھ کر نماز پڑھنے کی اجازت ہے کیونکہ اگر کھڑا ہو کر نماز پڑھے گا تو دشمن کی طرف سے حملے کا خطرہ ہے۔
حافظ ابن حجر ؒ نے اسے عذر نادر قرار دے کر بعد میں نماز قضا کرنے کے متعلق لکھا ہے۔
(فتح الباري: 759/2)
لیکن صحیح بات یہ ہے کہ اسے قضا کرنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ مجاہد کا عذر بیماری کے عذر سے زیادہ قابل اعتبار ہے۔
واللہ أعلم۔
(3)
اس سے نماز کی اہمیت کا پتہ چلتا ہے کہ جب تک ہوش و حواس قائم ہیں، کسی صورت میں معاف نہیں۔
اگر ایک فرض کی ادائیگی سے قاصر ہے تو دوسرے فرض کی طرف منتقل ہو جائے جیسا کہ کھڑا ہو کر نہ پڑھ سکے تو بیٹھ کر پڑھے، اسی طرح اگر قبلہ رخ نہ ہو سکے تو جدھر آسانی سے منہ کر سکتا ہے اسی طرف منہ کر کے نماز پڑھے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1117 سے ماخوذ ہے۔

✍️ حافظ عمران ایوب لاہوری
«وَالْمُتَيَمَّمُ وَنَاقِصُ الصَّلَاةِ أَوِ الطَّهَارَةِ يُصَلُّونَ كَغَيْرِهِمْ مِنْ غَيْرِ تَأْخِيْرٍ»

تیمم کرنے والا اور جس کی نماز یا طہارت میں کوئی کمی رہ گئی ہو۔۱؎ دیگر لوگوں کی طرح وہ بھی بغیر کسی تاخیر کے نماز ادا کریں۔۲؎

۱؎۔ نماز میں کمی مثلاً بیماری کی وجہ سے نماز کے مکمل ارکان ادا نہ کر سکتا ہو اور طہارت میں کمی سے مراد یہ ہے کہ ایسا شخص جس کے اعضائے وضوء میں سے بعض کو زخم یا کسی اور عذر کی وجہ سے دھونا محال ہو۔

۲؎۔ جن لوگوں نے ایسے معذور حضرات کے لیے نماز کو تاخیر سے پڑھنا لازم قرار دیا ہے ان کی یہ رائے خطا پر مبنی ہے اور ان کا یہ قول نقل و عقل کے خلاف ہے اگر ہم کتاب و سنت کا عمیق مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہے جو ایسے اعزار میں نماز کو اس کے مقررہ وقت سے لیٹ کر کے پڑھتا ہو چہ جائیکہ اسے واجب کہا جائے یا اضطراری وقت تک تاخیر کو لازم قرار دیا جائے بلکہ اگر نماز کا وقت آنے پر پانی موجود نہ ہو تو تیمم کو مشروع کیا گیا ہے اور اسی طرح جو کسی بیماری کی وجہ سے طہارت یا نماز کو مکمل طور پر ادا نہ کرسکتا ہو تو نماز کا وقت آنے پر اس کے لیے جس قدر ممکن ہو سکے نماز پڑھنا جائز ہے اور یہی اس سے مطلوب ہے اور اس پر واجب ہے اور اگر ایسے شخص پر تاخیر واجب ہوتی تو شارع علیہ السلام اسے بیان فرمادیتے (حالانکہ ایسا کچھ منقول نہیں)۔

حاصل کلام یہی ہے کہ ایام نبوت میں ایسی کوئی بات نہیں سنی گئی حالانکہ ان میں بھی لوگ مریض ہوتے تھے اور بعض کو آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: «صل قائما فإن لم تستطع فقاعدا فإن لم تستطع فعلى جنب» کھڑے ہو کر نماز پڑھو اگر اس کی استطاعت نہیں رکھتے تو بیٹھ کر اور اگر اس کی بھی استطاعت نہیں ہے تو پہلو کے بل پڑھ لو۔

[بخاري 1117، كتاب الجمعة: باب إذا لم يطلق قاعدا صلى على جنب، نسائي 224/3، بيهقي 155/3، أبو داود 952، ترمذي 372، ابن ماجة 1223]

لیکن ایسی کوئی بات معروف نہیں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے کسی ایک کو بھی نماز وقت سے مؤخر کر کے پڑھنے کا حکم دیا ہو اور نہ ہی ایسا کوئی ایک حرف بھی کتاب و سنت میں منقول ہے اور اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد عصر صحابہ، عصر تابعین اور عصر تبع تابعین میں بھی ایسی کوئی بات معروف و مشہور نہیں ہوئی اور نہ ہی ائمہ اربعہ میں سے کسی ایک نے بھی ایسی کوئی بات کی ہے، اس طرح کے عجیب مسائل و آراء کے ساتھ ہماری اس زمین کے باشندے ہی خاص ہیں۔ [السيل الجرار 191/1-193، وبل الغمام 303/1، الروضة الندية 210/1]
درج بالا اقتباس فقہ الحدیث، جلد اول، حدیث/صفحہ نمبر: 318 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 1223 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´بیمار کی نماز کا بیان۔`
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مجھے ناسور ۱؎ کی بیماری تھی، تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز کے متعلق پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کھڑے ہو کر نماز پڑھو، اگر کھڑے ہونے کی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر پڑھو، اور اگر بیٹھنے کی بھی طاقت نہ ہو تو پہلو کے بل لیٹ کر پڑھو۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1223]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اسلام دین فطرت ہے۔
اس میں بندوں کی فطری کمزوریوں کا پورا خیال رکھا گیا ہے۔

(2)
بلاعذر بیٹھ کرنماز پڑھنا مناسب نہیں۔
فرض ہو یا نفل کیونکہ ارشاد نبوی ﷺ ہے۔ (صَلَاةُ الرَّجُلِ قَاعِدًا عَلَى نِصْفِ الصَّلَاةِ)
 (صحیح مسلم، صلاۃ المسافرین، باب جواز النافلة قائماً وقاعداً۔
۔
۔
، حدیث: 735)
 ’’آدمی کا بیٹھ کر نماز پڑھنا آدھی نماز کے برابر ہوتاہے۔‘‘

(3)
شدید مرض کی صورت میں جب آسانی سے بیٹھنا ممکن نہ ہو تو پہلو کے بل لیٹ کر نماز پڑھنا جائز ہے۔

(4)
اس سے نماز کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے۔
کہ شدید مرض کی حالت میں بھی نماز معاف نہیں صرف اس کے احکام ومسائل میں نرمی کردی گئی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1223 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 260 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´نماز کی صفت کا بیان`
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ نماز کھڑے ہو کر پڑھو، اگر کھڑے ہو کر نہیں پڑھ سکتے تو بیٹھ کر پڑھو اور اگر بیٹھ کر بھی پڑھنے کی استطاعت نہیں تو پہلو کے بل لیٹ کر پڑھو (ان میں سے کسی پر بھی عمل نہ ہو سکے) تو اشارے سے ہی پڑھ لو۔ (بخاری) «بلوغ المرام/حدیث: 260»
تخریج:
«أخرجه البخاري، تقصير الصلاة، باب إذا لم يطق قاعدًا صلي علي جنب، حديث:1117.»
تشریح: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ نماز کسی صورت بھی معاف نہیں بجز مدہوشی کی حالت کے‘ نیز ثابت ہوا کہ نماز کھڑے ہو کر پڑھنی چاہیے۔
بامر مجبوری یا بیماری کی صورت میں کھڑے ہو کر نماز ادا کرنا مشکل ہو تو بیٹھ کر پڑھ لے۔
اگر ایسا کرنا بھی دشوار ہو تو لیٹ کر پڑھ لے۔
اگر ان حالتوں میں سے کسی پر بھی قادر نہ ہو تو پھر اشاروں سے ادا کرے۔
گویا نماز کسی صورت بھی ترک نہ کرے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 260 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 351 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´مسافر اور مریض کی نماز کا بیان`
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ مجھے بواسیر کا مرض تھا۔ اس صورت میں میں نے نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم سے نماز پڑھنے کے بارے میں دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کھڑے ہو کر پڑھو اگر کھڑے ہو کر نہ پڑھ سکو تو بیٹھ کر پڑھو اور اس کی بھی طاقت و استطاعت نہ ہو تو پھر پہلو کے بل لیٹ کر پڑھ لو۔ (بخاری) «بلوغ المرام/حدیث: 351»
تخریج:
«أخرجه البخاري، تقصير الصلاة، باب إذا لم يطق قاعدًا صلي علي جنب، حديث:1117.»
تشریح: بیٹھنے کی صورت بعض کے نزدیک چار زانو ہے اور بعض کے نزدیک تشہد کی سی صورت۔
دراصل بات یہ ہے کہ مریض جس طرح آسانی سے بیٹھ سکتا ہو اسی طرح بیٹھے‘ اسے ہر طرح اجازت ہے۔
چت لیٹ کر پڑھنے کی بھی گنجائش ہے۔
اگر کسی حالت اور کسی پہلو پر بھی ممکن نہ ہو تو پھر جو صورت اختیار کر سکتا ہو کر لے۔
(یہ حدیث باب صفۃ الصلاۃ کے آخر میں نمبر ۲۶۰ کے تحت گزر چکی ہے۔
)
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 351 سے ماخوذ ہے۔