حدیث نمبر: 1124
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ قَالَ: كَانَتْ لِابْنِ عُمَرَ حَاجَةٌ إِلَى مُعَاوِيَةَ، فَأَرَادَ أَنْ يَكْتُبَ إِلَيْهِ، فَقَالُوا: ابْدَأْ بِهِ، فَلَمْ يَزَالُوا بِهِ حَتَّى كَتَبَ: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، إِلَى مُعَاوِيَةَ.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے کوئی کام تھا۔ انہوں نے خط لکھنے کا ارادہ کیا تو لوگوں نے کہا: ابتدا ان کے نام سے کریں۔ وہ مسلسل اصرار کرتے رہے یہاں تک کہ انہوں نے لکھا: «بسم الله الرحمن الرحیم»، معاویہ کی طرف۔
حدیث نمبر: 1125
وَعَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ: كَتَبْتُ لِابْنِ عُمَرَ، فَقَالَ: اكْتُبْ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، أَمَّا بَعْدُ: إِلَى فُلانٍ.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
انس بن سیرین رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے کہنے پر خط لکھا تو انہوں نے فرمایا: یوں لکھو: «بسم الله الرحمن الرحیم»، اما بعد الی فلان، یعنی فلاں کے نام۔
حدیث نمبر: 1126
وَعَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ: كَتَبَ رَجُلٌ بَيْنَ يَدَيِ ابْنِ عُمَرَ: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، لِفُلاَنٍ، فَنَهَاهُ ابْنُ عُمَرَ وَقَالَ: قُلْ: بِسْمِ اللهِ، هُوَ لَهُ.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
انس بن سیرین رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے سامنے خط لکھا: «بسم الله الرحمن الرحیم»، فلاں کے نام۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے منع کر دیا اور فرمایا کہ اس طرح لکھو: «بسم اللہ»۔ یہ اس کے نام ہے یعنی هو لکھ کر اس کا نام لکھو۔
حدیث نمبر: 1127
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ كُبَرَاءِ آلِ زَيْدٍ، أَنَّ زَيْدًا كَتَبَ بِهَذِهِ الرِّسَالَةِ: لِعَبْدِ اللهِ مُعَاوِيَةَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ، مِنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ: سَلاَمٌ عَلَيْكَ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ وَرَحْمَةُ اللهِ، فَإِنِّي أَحْمَدُ إِلَيْكَ اللَّهَ الَّذِي لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ، أَمَّا بَعْدُ.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے یوں خط لکھا: اللہ کے بندے امیر المومنین معاویہ کے نام زید بن ثابت کی طرف سے۔ امیر المومنین آپ پر سلام اور اللہ کی رحمت ہو، میں اس اللہ کی تعریف کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں۔ اما بعد۔
حدیث نمبر: 1128
حَدَّثَنَا مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”إِنَّ رَجُلاً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ - وَذَكَرَ الْحَدِيثَ - وَكَتَبَ إِلَيْهِ صَاحِبُهُ: مِنْ فُلاَنٍ إِلَى فُلانٍ.“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بنی اسرائیل کا ایک آدمی تھا - پھر لمبی حدیث ذکر کی - اور اس نے اپنے ساتھی کی طرف یوں لکھا: فلاں کی طرف سے فلاں کے نام۔“