حدیث نمبر: 1094
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاتِكَةِ قَالَ: حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ حَبِيبٍ الْمُحَارِبِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”ثَلاَثَةٌ كُلُّهُمْ ضَامِنٌ عَلَى اللهِ، إِنْ عَاشَ كُفِيَ، وَإِنْ مَاتَ دَخَلَ الْجَنَّةَ: مَنْ دَخَلَ بَيْتَهُ بِسَلاَمٍ فَهُوَ ضَامِنٌ عَلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَمَنْ خَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَهُوَ ضَامِنٌ عَلَى اللهِ، وَمَنْ خَرَجَ فِي سَبِيلِ اللهِ فَهُوَ ضَامِنٌ عَلَى اللهِ.“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین شخص ایسے ہیں جن کی ضمانت اور ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے لی ہے کہ اگر وہ زندہ رہے تو اللہ کی طرف سے ان کی حاجات کی کفایت ہوگی (اور ہر شر سے بھی اللہ کافی ہوگا)، اور اگر فوت ہو گئے تو جنت میں داخل ہوں گے: جو گھر میں «السلام» کہہ کر داخل ہوا تو اللہ عز و جل نے اس کا ذمہ لے لیا، اور جو مسجد کی طرف گیا تو اس کی ضمانت بھی اللہ پر ہے، نیز جو شخص اللہ کے راستے میں نکلے اس کا ضامن بھی اللہ تعالیٰ ہے۔“
حدیث نمبر: 1095
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا يَقُولُ: إِذَا دَخَلْتَ عَلَى أَهْلِكَ فَسَلِّمْ عَلَيْهِمْ تَحِيَّةً مِنْ عِنْدِ اللهِ مُبَارَكَةً طَيْبَةً. قَالَ: مَا رَأَيْتُهُ إِلا يُوجِبُهُ قَوْلُهُ: ﴿وَإِذَا حُيِّيتُمْ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُدُّوهَا﴾ [النساء: 86].
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب تم اپنے گھر والوں کے پاس جاؤ تو انہیں «السلام» کہو۔ یہ اللہ کی طرف سے مبارک اور پاکیزہ تحفہ ہے۔ پھر فرمایا: میری رائے میں ارشادِ باری تعالیٰ: «وَإِذَا حُيِّيتُمْ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُدُّوهَا» [سورہ النساء: 86] ”جب تمہیں سلام کہا جائے تو اس سے احسن انداز میں یا اسی طرح ہی جواب دو۔“ کے مطابق سلام کا جواب دینا واجب ہے۔