کتب حدیثالادب المفردابوابباب: کیا آدمی اپنے ہم نشیں کے سامنے پاؤں پھیلا سکتا ہے؟
حدیث نمبر: 1147
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي أَبُو الزَّاهِرِيَّةِ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي كَثِيرُ بْنُ مُرَّةَ قَالَ‏:‏ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَوَجَدْتُ عَوْفَ بْنَ مَالِكٍ الأَشْجَعِيَّ جَالِسًا فِي حَلْقَةٍ مَادًّا رِجْلَيْهِ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَلَمَّا رَآنِي قَبَضَ رِجْلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ لِي‏:‏ تَدْرِي لأَيِّ شَيْءٍ مَدَدْتُ رِجْلَيَّ‏؟‏ لَيَجِيءَ رَجُلٌ صَالِحٌ فَيَجْلِسَ‏.‏
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
کثیر بن مرہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں جمعہ کے روز مسجد میں داخل ہوا تو میں نے دیکھا کہ سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ ایک حلقہ میں تشریف فرما ہیں، اور انہوں نے اپنے پاؤں سامنے پھیلائے ہوئے ہیں۔ جب انہوں نے مجھے دیکھا تو پاؤں اکٹھے کر لیے، پھر مجھ سے فرمایا: تمہیں معلوم ہے کہ میں نے پاؤں کیوں پھیلائے ہوئے تھے؟ اس لیے کہ کوئی نیک آدمی آ کر بیٹھ جائے۔
حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب المجالس / حدیث: 1147
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث «حسن : »