حدیث نمبر: 1122
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ كُبَرَاءِ آلِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ كَتَبَ بِهَذِهِ الرِّسَالَةِ: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، لِعَبْدِ اللهِ مُعَاوِيَةَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ، مِنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، سَلاَمٌ عَلَيْكَ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ وَرَحْمَةُ اللهِ، فَإِنِّي أَحْمَدُ إِلَيْكَ اللَّهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إلَّا هُوَ، أَمَّا بَعْدُ.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے یہ خط لکھا: «بسم الله الرحمن الرحیم»۔ اللہ کے بندے امیر المومنین معاویہ کے نام زید بن ثابت کی طرف سے۔ امیر المومنین آپ پر سلام اور اللہ کی رحمت ہو۔ میں اللہ تعالیٰ کی تعریف کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں۔ اما بعد۔
حدیث نمبر: 1123
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ الأَنْصَارِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مَسْعُودٍ الْجُرَيْرِيُّ قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ الْحَسَنَ عَنْ قِرَاءَةِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ؟ قَالَ: تِلْكَ صُدُورُ الرَّسَائِلِ.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
ابو مسعود جریری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے حسن بصری رحمہ اللہ سے «بسم الله» پڑھنے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: یہ خطوط کے شروع میں بھی لکھنی چاہیے۔