حدیث نمبر: 1086
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرًا يَقُولُ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دَيْنٍ كَانَ عَلَى أَبِي، فَدَقَقْتُ الْبَابَ، فَقَالَ: ”مَنْ ذَا؟“ فَقُلْتُ: أَنَا، قَالَ: ”أَنَا، أَنَا؟“، كَأَنَّهُ كَرِهَهُ.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں اپنے باپ کے قرضے کے سلسلے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور دروازے پر دستک دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کون ہے؟“ میں نے عرض کیا: میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں، میں؟“ گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جواب ناپسند فرمایا۔
حدیث نمبر: 1087
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَسْجِدِ، وَأَبُو مُوسَى يَقْرَأُ، فَقَالَ: ”مَنْ هَذَا؟“ فَقُلْتُ: أَنَا بُرَيْدَةُ، جُعِلْتُ فِدَاكَ، فَقَالَ: ”قَدْ أُعْطِيَ هَذَا مِزْمَارًا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ.“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کی طرف گئے تو سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ تلاوت کر رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مجھے دیکھ کر) فرمایا: ”تم کون ہو؟“ میں نے عرض کیا: میں بریدہ ہوں، میں آپ پر قربان جاؤں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس شخص (ابو موسیٰ) کو یقیناً داؤد علیہ السلام والی خوش الحانی دی گئی ہے۔“