کتب حدیثالادب المفردابوابباب: سلام کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 986
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللهِ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ زَيْدٍ التَّيْمِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلاً مَرَّ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي مَجْلِسٍ فَقَالَ‏:‏ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ، فَقَالَ‏:‏ ”عَشْرُ حَسَنَاتٍ“، فَمَرَّ رَجُلٌ آخَرُ فَقَالَ‏:‏ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ، فَقَالَ‏:‏ ”عِشْرُونَ حَسَنَةً“، فَمَرَّ رَجُلٌ آخَرُ فَقَالَ‏:‏ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، فَقَالَ‏:‏ ”ثَلاَثُونَ حَسَنَةً“، فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْمَجْلِسِ وَلَمْ يُسَلِّمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ‏:‏ ”مَا أَوْشَكَ مَا نَسِيَ صَاحِبُكُمْ، إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمُ الْمَجْلِسَ فَلْيُسَلِّمْ، فَإِنْ بَدَا لَهُ أَنْ يَجْلِسَ فَلْيَجْلِسْ، وَإِذَا قَامَ فَلْيُسَلِّمْ، مَا الأُولَى بِأَحَقَّ مِنَ الآخِرَةِ‏.‏“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مجلس میں تشریف فرما تھے۔ اس نے کہا: «السلام علیکم»۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دس نیکیاں (اس کو مل گئیں)“، پھر ایک دوسرا آدمی گزرا تو اس نے کہا: «السلام علیکم ورحمۃ اللہ»! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(اس کے لیے) بیس نیکیاں ہیں۔“ پھر ایک تیسرا آدمی گزرا تو اس نے کہا: «السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ»! تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(اس کو) تیس نیکیاں مل گئیں۔“ پھر ایک شخص مجلس سے اٹھا اور جاتے ہوئے سلام نہ کہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا ساتھی کس قدر جلد بھولنے والا ہے۔ جب تم میں سے کوئی مجلس میں آئے تو سلام کہے۔ اگر مناسب سمجھے تو بیٹھ جائے، اور جب اٹھے تو سلام کہے، کیونکہ پہلا سلام دوسرے سے زیادہ اہم نہیں۔“
حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب السلام / حدیث: 986
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : صحيح ابن حبان (ابن بلبان) ، ح : 493»
حدیث نمبر: 987
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ عُمَرَ قَالَ‏:‏ كُنْتُ رَدِيفَ أَبِي بَكْرٍ، فَيَمُرُّ عَلَى الْقَوْمِ فَيَقُولُ‏:‏ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ، فَيَقُولُونَ‏:‏ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ، وَيَقُولُ‏:‏ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ، فَيَقُولُونَ‏:‏ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ‏:‏ فَضَلَنَا النَّاسُ الْيَوْمَ بِزِيَادَةٍ كَثِيرَةٍ‏.‏ ¤ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ زَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ، مِثْلَهُ.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے سوار تھا۔ وہ جب بھی کسی قوم کے پاس سے گزرتے تو کہتے: «السلام علیکم» اور لوگ جواباً کہتے: «السلام علیکم ورحمۃ اللہ»۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کہتے: «السلام علیکم ورحمۃ اللہ» تو وہ کہتے: «السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ»۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آج تو لوگ فضیلت میں ہم سے بہت زیادہ بڑھ گئے ہیں۔
ایک دوسری سند سے بھی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اسی طرح مروی ہے۔
حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب السلام / حدیث: 987
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : تفرد به المصنف»
حدیث نمبر: 988
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ‏:‏ ”مَا حَسَدَكُمُ الْيَهُودُ عَلَى شَيْءٍ مَا حَسَدُوكُمْ عَلَى السَّلامِ وَالتَّأْمِينِ‏.‏“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہودی سلام اور آمین پر جتنا تم سے حسد کرتے ہیں اتنا کسی چیز پر نہیں کرتے۔“
حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب السلام / حدیث: 988
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : سنن ابن ماجه ، إقامة الصلاة و السنة فيها ، ح : 856»