حدیث نمبر: 998
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا حَيْوَةُ قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ أَبُو هَانِئٍ، أَنَّ أَبَا عَلِيٍّ الْجَنْبِيَّ حَدَّثَهُ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ‏:‏ ”يُسَلِّمُ الرَّاكِبُ عَلَى الْمَاشِي، وَالْمَاشِي عَلَى الْقَاعِدِ، وَالْقَلِيلُ عَلَى الْكَثِيرِ‏.‏“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سوار پیدل کو سلام کہے گا، اور چلنے والا بیٹھے ہوئے کو، اور تھوڑے زیادہ افراد کو سلام کہیں۔“

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب السلام / حدیث: 998
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : جامع الترمذي ، الاستئذان و الآداب ، ح : 2703»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
سوار کو یہ حکم اس لیے ہے کہ اس کے دل میں تکبر نہ آئے اور زیادہ افراد کو ان کی تعظیم کی خاطر تھوڑی تعداد والوں کو سلام میں پہل کرنے کا حکم ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 998 سے ماخوذ ہے۔