حدیث نمبر: 997
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّهُ لَقِيَ فَارِسًا فَبَدَأَهُ بِالسَّلاَمِ، فَقُلْتُ‏:‏ تَبْدَأُهُ بِالسَّلاَمِ‏؟‏ قَالَ‏:‏ رَأَيْتُ شُرَيْحًا مَاشِيًا يَبْدَأُ بِالسَّلامِ‏.‏
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

امام شعبی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ وہ ایک گھوڑ سوار کو ملے تو اسے پہلے سلام کہا۔ (ان کے شاگرد حصین کہتے ہیں) میں نے عرض کیا: آپ نے اسے پہلے سلام کیوں کہا؟ انہوں نے فرمایا: میں نے شریح رحمہ اللہ کو دیکھا کہ وہ پیدل چلتے ہوئے بھی سلام میں پہل کرتے تھے۔

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب السلام / حدیث: 997
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : المصنف لابن أبى شيبة : 469/8 بألفاظ مختلفة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
سنت یہی ہے کہ سوار پیدل کو سلام کہے اور اسی پر عمل کرنا چاہیے تاہم کسی مصلحت کے پیش نظر اس کے برعکس بھی کیا جاسکتا ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 997 سے ماخوذ ہے۔