الادب المفرد
كتاب السلام— كتاب السلام
بَابُ تَسْلِيمِ الرَّاكِبِ عَلَى الْقَاعِدِ باب: سوار کا پیدل کو سلام کہنا
حدیث نمبر: 996
حَدَّثَنَا أَصْبَغُ قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ هَانِئٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ، عَنْ فَضَالَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”يُسَلِّمُ الْفَارِسُ عَلَى الْقَاعِدِ، وَالْقَلِيلُ عَلَى الْكَثِيرِ.“ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا فضالہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گھوڑ سوار بیٹھے ہوئے کو، اور تھوڑی تعداد والے زیادہ تعداد والوں کو سلام کہیں۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
ان روایات سے معلوم ہوا کہ سوار کو چاہیے کہ وہ کھڑے یا بیٹھے ہوئے، نیز پیدل چلنے والے کو سلام کہے۔
ان روایات سے معلوم ہوا کہ سوار کو چاہیے کہ وہ کھڑے یا بیٹھے ہوئے، نیز پیدل چلنے والے کو سلام کہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 996 سے ماخوذ ہے۔