الادب المفرد
كتاب السلام— كتاب السلام
بَابُ يُسَلِّمُ الْمَاشِي عَلَى الْقَاعِدِ باب: چلنے والا بیٹھے ہوئے کو سلام کہے
حدیث نمبر: 994
قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: فَأَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا يَقُولُ: الْمَاشِيَانِ إِذَا اجْتَمَعَا فَأَيُّهُمَا بَدَأَ بِالسَّلاَمِ فَهُوَ أَفْضَلُ.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: دو پیدل چلنے والے جب اکٹھے ہوں تو ان میں سے جو سلام میں پہل کرے وہ افضل ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
(۱)مذکورہ بالا احادیث میں سلام کہنے کے آداب ذکر ہوئے ہیں۔ گویا ہر وہ شخص جسے کسی حوالے سے بھی علو اور برتری حاصل ہے وہ سلام کی ابتدا کرے تاہم تعداد میں تھوڑے زیادہ کو سلام میں پہل کریں۔
(۲) چند لوگوں یا جماعت میں سے ایک سلام کہہ دے تو سب کی طرف سے کافي ہوگا۔ اسی طرح ایک شخص جواب دے دے تو وہ کفایت کر جائے گا۔
(۳) اگر دونوں سوار یا پیدل ہوں تو پہل کرنے والا افضل ہوگا، نیز مذکورہ بالا دیگر صورتوں میں دوسرا فریق سلام کہہ لے تو بھی جائز ہے۔
(۱)مذکورہ بالا احادیث میں سلام کہنے کے آداب ذکر ہوئے ہیں۔ گویا ہر وہ شخص جسے کسی حوالے سے بھی علو اور برتری حاصل ہے وہ سلام کی ابتدا کرے تاہم تعداد میں تھوڑے زیادہ کو سلام میں پہل کریں۔
(۲) چند لوگوں یا جماعت میں سے ایک سلام کہہ دے تو سب کی طرف سے کافي ہوگا۔ اسی طرح ایک شخص جواب دے دے تو وہ کفایت کر جائے گا۔
(۳) اگر دونوں سوار یا پیدل ہوں تو پہل کرنے والا افضل ہوگا، نیز مذکورہ بالا دیگر صورتوں میں دوسرا فریق سلام کہہ لے تو بھی جائز ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 994 سے ماخوذ ہے۔