حدیث نمبر: 988
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”مَا حَسَدَكُمُ الْيَهُودُ عَلَى شَيْءٍ مَا حَسَدُوكُمْ عَلَى السَّلامِ وَالتَّأْمِينِ.“ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہودی سلام اور آمین پر جتنا تم سے حسد کرتے ہیں اتنا کسی چیز پر نہیں کرتے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
(۱)ان روایات میں سلام کے مزید فوائد بتائے گئے ہیں۔ باہمی محبت کے علاوہ سلام کہنے سے نیکیوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
(۲) مجلس سے اٹھ کر جاتے ہوئے سلام کہنا بھی اسی طرح ضروری ہے جس طرح آتے ہوئے سلام کہنا ضروری ہے۔ اس کا بھی اہتمام کرنا چاہیے۔
(۳) ابتداء ً سلام کہتے وقت بھی السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہنا جائز ہے اور اس کے جواب میں اپنی طرف سے مزید اضافہ درست نہیں۔
(۴) یہودی کائنات میں سب سے زیادہ مسلمانوں کے بدخواہ ہیں۔ سلام اور آمین چونکہ دونوں مسلمانوں کی مغفرت اور بخشش کا ذریعہ ہیں اس لیے ان سے انہیں تکلیف ہوتی ہے کہ مسلمان معمولی عمل سے مغفرت کے مستحق کیوں ٹھہریں۔
(۱)ان روایات میں سلام کے مزید فوائد بتائے گئے ہیں۔ باہمی محبت کے علاوہ سلام کہنے سے نیکیوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
(۲) مجلس سے اٹھ کر جاتے ہوئے سلام کہنا بھی اسی طرح ضروری ہے جس طرح آتے ہوئے سلام کہنا ضروری ہے۔ اس کا بھی اہتمام کرنا چاہیے۔
(۳) ابتداء ً سلام کہتے وقت بھی السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہنا جائز ہے اور اس کے جواب میں اپنی طرف سے مزید اضافہ درست نہیں۔
(۴) یہودی کائنات میں سب سے زیادہ مسلمانوں کے بدخواہ ہیں۔ سلام اور آمین چونکہ دونوں مسلمانوں کی مغفرت اور بخشش کا ذریعہ ہیں اس لیے ان سے انہیں تکلیف ہوتی ہے کہ مسلمان معمولی عمل سے مغفرت کے مستحق کیوں ٹھہریں۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 988 سے ماخوذ ہے۔