حدیث نمبر: 985
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، وَالْقَعْنَبِيُّ، قَالاَ‏:‏ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ‏:‏ ”لَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ مُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلاَثٍ، فَيَلْتَقِيَانِ فَيُعْرِضُ هَذَا وَيُعْرِضُ هَذَا، وَخَيْرُهُمَا الَّذِي يَبْدَأُ بِالسَّلامِ‏.‏“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی مسلمان آدمی کے لیے حلال نہیں کہ وہ اپنے بھائی کو تین دن سے زیادہ چھوڑے رکھے۔ وہ دونوں ملتے ہیں تو ایک منہ ادھر کر لیتا ہے اور دوسرا ادھر، اور ان دونوں میں سے بہتر وہ ہے جو سلام میں پہل کرے۔“

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب السلام / حدیث: 985
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : صحيح البخاري ، الأدب ، ح : 6077 و مسلم ، ح : 2560»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
(۱)سلام، سلامتی سے مأخوذ ہے۔ سلام کہنے والا شخص اپنے مسلمان بھائی کو یہ پیغام دیتا ہے کہ میرا دل تیرے بارے میں پاک صاف ہے اور تو میرے شر سے محفوظ ہے۔ اس لیے باہم ناراض دو آدمی جب ایک دوسرے کو سلام کہہ لیں تو ان کی ناراضی ختم تصور ہوگی۔ بعدازاں اگر کینہ رکھتے ہیں تو عنداللہ مجرم ہوں گے۔
(۲) ناراضی کے بغیر اگر تین دن تک ایک دوسرے سے نہ ملیں تو کوئی حرج نہیں۔ نیز ناراضی کی صورت میں سلام میں پہل کرنا افضل عمل ہے۔ اگر دوسرا شخص جواب نہ دے تو اس کا وبال جواب نہ دینے والے پر ہوگا۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 985 سے ماخوذ ہے۔