حدیث نمبر: 982
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: مَا كَانَ أَحَدٌ يَبْدَأُ - أَوْ يَبْدُرُ - ابْنَ عُمَرَ بِالسَّلامِ.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
بشیر بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو کوئی شخص سلام میں پہل نہیں کر سکتا تھا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
مطلب یہ ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما ہمیشہ سلام میں پہل کرتے تھے اور اس کار خیر میں کوئی ان سے آگے نہیں بڑھ سکتا تھا۔ ’’چھوٹا بڑے کو سلام کہے اور سوار پیدل کو‘‘ تو یہ حکم استحباب کے لیے ہے۔ پہل کرنے والا بہرصورت افضل ہے۔
مطلب یہ ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما ہمیشہ سلام میں پہل کرتے تھے اور اس کار خیر میں کوئی ان سے آگے نہیں بڑھ سکتا تھا۔ ’’چھوٹا بڑے کو سلام کہے اور سوار پیدل کو‘‘ تو یہ حکم استحباب کے لیے ہے۔ پہل کرنے والا بہرصورت افضل ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 982 سے ماخوذ ہے۔