حدیث نمبر: 977
حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، وَحَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ الشَّهِيدِ قَالَ‏:‏ سَمِعْتُ أَبَا مِجْلَزٍ يَقُولُ‏:‏ إِنَّ مُعَاوِيَةَ خَرَجَ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عَامِرٍ وَعَبْدُ اللهِ بْنُ الزُّبَيْرِ قُعُودٌ، فَقَامَ ابْنُ عَامِرٍ، وَقَعَدَ ابْنُ الزُّبَيْرِ، وَكَانَ أَرْزَنَهُمَا، قَالَ مُعَاوِيَةُ‏:‏ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ‏:‏ ”مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَمْثُلَ لَهُ عِبَادُ اللهِ قِيَامًا، فَلْيَتَبَوَّأْ بَيْتًا مِنَ النَّارِ‏.‏“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

ابو مجلز رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ باہر تشریف لائے تو عبداللہ بن عامر اور عبداللہ بن زبیر بیٹھے تھے۔ ابن عامر انہیں دیکھ کر کھڑے ہو گئے اور ابن زبیر بیٹھے رہے، اور ان دونوں میں سے وہ زیادہ باوقار تھے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے (ابن عامر کو کھڑا دیکھ کر) کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے یہ بات خوش کرے کہ لوگ اس کے لیے کھڑے ہوا کریں وہ اپنا گھر آگ میں بنا لے۔“

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب السلام / حدیث: 977
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : سنن أبى داؤد ، الأدب ، ح : 5229 و جامع الترمذي ، الأدب ، ح : 2755»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
کسی کے لیے تعظیماً کھڑا ہونا منع ہے اور ایسا کروانے والا انسان کبیرہ گناہ کا مرتکب ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے عجمی متکبرین کی عادت قرار دیا ہے۔ اس کے متعلق تفصیلی بحث گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 977 سے ماخوذ ہے۔