حدیث نمبر: 966
حَدَّثَنَا ابْنُ شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ نُبَاتَةَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ وَرْدَانَ قَالَ: رَأَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُصَافِحُ النَّاسَ، فَسَأَلَنِي: مَنْ أَنْتَ؟ فَقُلْتُ: مَوْلًى لِبَنِي لَيْثٍ، فَمَسَحَ عَلَى رَأْسِي ثَلاَثًا وَقَالَ: بَارَكَ اللَّهُ فِيكَ.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سلمہ بن وردان رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ لوگوں سے مصافحہ کر رہے ہیں تو انہوں نے مجھ سے پوچھا: تم کون ہو؟ میں نے عرض کیا: بنو لیث کا مولیٰ۔ انہوں نے تین مرتبہ میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا: اللہ تجھے برکت دے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
حضرت سلمہ بن وردان اس وقت بچے تھے جن سے سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے مصافحہ کیا اس سے ان کی تواضع کے علاوہ مصافحے کی اہمیت بھی ثابت ہوئی۔ ایک روایت میں ہے کہ جب دو مسلمان مصافحہ کرتے ہیں تو ان کے گناہ درخت کے پتوں کی طرح جھڑتے ہیں۔ (الصحیحة للالباني، حدیث:۵۲۵)
حضرت سلمہ بن وردان اس وقت بچے تھے جن سے سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے مصافحہ کیا اس سے ان کی تواضع کے علاوہ مصافحے کی اہمیت بھی ثابت ہوئی۔ ایک روایت میں ہے کہ جب دو مسلمان مصافحہ کرتے ہیں تو ان کے گناہ درخت کے پتوں کی طرح جھڑتے ہیں۔ (الصحیحة للالباني، حدیث:۵۲۵)
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 966 سے ماخوذ ہے۔