حدیث نمبر: 872
حَدَّثَنَا عَارِمٌ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلاً - أَوْ أَعْرَابِيًّا - أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَكَلَّمَ بِكَلاَمٍ بَيِّنٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ‏: ”إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا، وَإِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حِكْمَةً‏.‏“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی یا دیہاتی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بڑی واضح گفتگو کی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کئی بیان جادو اثر ہوتے ہیں، اور کئی شعر حکمت پر مبنی ہوتے ہیں۔“

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب الشعر / حدیث: 872
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أخرجه أبوداؤد ، كتاب الأدب : 5011 و الترمذي : 2245 و ابن ماجه : 3756 - أنظر الصحيحة : 1731»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
بیان دو طرح کا ہوتا ہے۔ ایک وہ جو کسی بھی طرح مراد اور مطلب کو واضح کرے۔ دوسرا وہ جو سامعین کے دلوں میں اتر جائے اور انہیں گرویدہ کرلے۔ بسا اوقات یہ حقیقت کے درمیان حائل ہو جاتا ہے۔ دوسری قسم جادو کے مشابہ ہے جب وہ دل پر اثر انداز ہو۔ جب ایسا بیان حق کی طرف لے جائے تو ممدوح ہوتا ہے اور باطل کی طرف لے جائے تو مذموم۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 872 سے ماخوذ ہے۔