الادب المفرد
كتاب الشعر— كتاب الشعر
بَابُ مَنْ كَرِهَ الْغَالِبَ عَلَيْهِ الشِّعْرُ باب: شعروں کی کثرت کے مکروہ ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 871
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: ﴿وَالشُّعَرَاءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ﴾ [الشعراء: 224] إِلَى قَوْلِهِ: ﴿وَأَنَّهُمْ يَقُولُونَ مَا لاَ يَفْعَلُونَ﴾ [الشعراء: 226]، فَنَسَخَ مِنْ ذَلِكَ وَاسْتَثْنَى فَقَالَ: ﴿إِلاَّ الَّذِينَ آمَنُوا﴾ إِلَى قَوْلِهِ: ﴿يَنْقَلِبُونَ﴾ [الشعراء: 227].ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ارشاد باری تعالیٰ: «وَالشُّعَرَاءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ أَلَمْ تَرَ أَنَّهُمْ فِي كُلِّ وَادٍ يَهِيمُونَ وَأَنَّهُمْ يَقُولُونَ مَا لَا يَفْعَلُونَ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَذَكَرُوا اللَّهَ كَثِيرًا» [الشعراء: 224-227] کا عموم اللہ تعالیٰ نے منسوخ کر دیا ہے، اور اہل ایمان کو اس سے مستثنیٰ قرار دیا ہے، اور فرمایا: ”سوائے اہل ایمان کے جو ایمان لائے (اور اچھے کام کیے اور کثرت سے اللہ کا ذکر کیا ......) ان کو لوٹ کر جانا ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے فرمان کا مطلب ہے کہ ہر شاعر کا یہ حال نہیں۔ اہل ایمان اس مذمت سے مستثنیٰ ہیں کیونکہ وہ اپنا زیادہ وقت اللہ کے ذکر میں گزارتے ہیں۔ ان کا غالب وقت شاعری میں نہیں گزرتا۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے فرمان کا مطلب ہے کہ ہر شاعر کا یہ حال نہیں۔ اہل ایمان اس مذمت سے مستثنیٰ ہیں کیونکہ وہ اپنا زیادہ وقت اللہ کے ذکر میں گزارتے ہیں۔ ان کا غالب وقت شاعری میں نہیں گزرتا۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 871 سے ماخوذ ہے۔