حدیث نمبر: 806
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا مَحْبُوبُ بْنُ مُحْرِزٍ الْكُوفِيُّ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا الصَّعْبُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ‏:‏ أَتَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَجَعَلَ يَقُولُ‏:‏ يَا ابْنَ أَخِي، ثُمَّ سَأَلَنِي‏؟‏ فَانْتَسَبْتُ لَهُ، فَعَرَفَ أَنَّ أَبِي لَمْ يُدْرِكِ الإِسْلاَمَ، فَجَعَلَ يَقُولُ‏:‏ يَا بُنَيَّ يَا بُنَيَّ‏.‏
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

شریک بن نملہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے مجھے یا ابن اخی (اے میرے بھتیجے) کہہ کر مخاطب کیا۔ پھر مجھ سے تعارف کیا، تو میں نے اپنا نسب بیان کیا، تو انہیں معلوم ہوگیا کہ میرے والد مسلمان نہیں تھے، تو وہ مجھے «يَا بُنَيَّ يَا بُنَيَّ» (اے میرے بیٹے) کہہ کر بلانے لگے۔

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب الأقوال / حدیث: 806
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الإسناد موقوف
تخریج حدیث «ضعيف الإسناد موقوف : أخرجه ابن أبى شيبة : 26554 و رواه عنه المصنف فى التاريخ الكبير : 323/4»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اس روایت کی سند ضعیف ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 806 سے ماخوذ ہے۔