حدیث نمبر: 805
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ‏:‏ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَسْجِدِ وَأَبُو مُوسَى يَقْرَأُ، فَقَالَ‏: ”مَنْ هَذَا‏؟“‏ فَقُلْتُ‏:‏ أَنَا بُرَيْدَةُ جُعِلْتُ فِدَاكَ، قَالَ‏: ”قَدْ أُعْطِيَ هَذَا مِزْمَارًا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ‏.‏“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کی طرف تشریف لے گئے جبکہ سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ وہاں تلاوت کر رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کون ہو؟“ میں نے عرض کیا: ”آپ پر قربان جاؤں، میں بریدہ ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو آل داؤد کی خوش آوازی سے ایک حصہ دیا گیا ہے۔“

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب الأقوال / حدیث: 805
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أخرجه مسلم ، كتاب صلاة المسافرين : 793 - انظر صحيح أبى داؤد : 1341»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
(۱)آل داؤد سے مراد یہاں خود سیدنا داؤد علیہ السلام ہیں جنہیں نہایت خوبصورت اور پر تأثیر آواز دی گئی تھی۔ مزمار اگرچہ غنا اور ترنم کو کہتے ہیں لیکن یہاں خوبصورت آواز مراد ہے۔
(۲) اس روایت میں فداہ أبی و امی نہیں بلکہ صرف اپنی ذات کی فدویت کا ذکر ہے۔ گزشتہ باب سے اس کا تعلق زیادہ مناسب ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 805 سے ماخوذ ہے۔