الادب المفرد
كتاب الأقوال— كتاب الأقوال
بَابُ قَوْلِ الرَّجُلِ: نَفْسِي لَكَ الْفِدَاءُ باب: کسی سے کہنا: میری جان آپ پر قربان
حدیث نمبر: 802
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُدْعَانَ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: كَانَ أَبُو طَلْحَةَ يَجْثُو بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَنْثُرُ كِنَانَتَهُ وَيَقُولُ: وَجْهِي لِوَجْهِكَ الْوِقَاءُ، وَنَفْسِي لِنَفْسِكَ الْفِدَاءُ.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو زانو بیٹھ جاتے اور ترکش سے تیر نکال کر پھیلا دیتے اور یہ شعر پڑھتے: میرا چہرہ آپ کے چہرے کی ڈھال ہے اور میری جان آپ پر فداء ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اس روایت کی سند ضعیف ہے۔
اس روایت کی سند ضعیف ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 802 سے ماخوذ ہے۔