الادب المفرد
كتاب الأقوال— كتاب الأقوال
بَابُ قَوْلِ الرَّجُلِ: إِنِّي كَسْلانُ باب: آدمی کا خود کو سست کہنے کا بیان
حدیث نمبر: 800
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: لاَ تَدَعْ قِيَامَ اللَّيْلِ، فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لاَ يَذَرُهُ، وَكَانَ إِذَا مَرِضَ أَوْ كَسِلَ صَلَّى قَاعِدًا.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
عبداللہ بن ابی موسیٰ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے فرمایا: تم رات کا قیام نہ چھوڑنا کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے نہیں چھوڑتے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہو جاتے یا طبیعت میں سستی ہوتی تو بیٹھ کر پڑھ لیتے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
(۱)کسی کام پر قدرت کے باوجود اسے ترک کر دینا سستی کہلاتا ہے اور اگر کرنے کی قدرت نہ ہو تو عجز کہلاتا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں سست ہونے کا لفظ بولا تو خود اپنے لیے بطریق اولیٰ جائز ہوگا۔
(۲) اس سے قیام اللیل کی فضیلت بھی ثابت ہوئی کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کا خوب اہتمام کرتے تھے۔ ایک حدیث میں اسے سابقہ نیک لوگوں کی عادت قرار دیا گیا ہے۔
(۱)کسی کام پر قدرت کے باوجود اسے ترک کر دینا سستی کہلاتا ہے اور اگر کرنے کی قدرت نہ ہو تو عجز کہلاتا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں سست ہونے کا لفظ بولا تو خود اپنے لیے بطریق اولیٰ جائز ہوگا۔
(۲) اس سے قیام اللیل کی فضیلت بھی ثابت ہوئی کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کا خوب اہتمام کرتے تھے۔ ایک حدیث میں اسے سابقہ نیک لوگوں کی عادت قرار دیا گیا ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 800 سے ماخوذ ہے۔